BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 April, 2004, 11:10 GMT 16:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکی اشاروں پر مت چلیں‘

پاکستان کی فوج کے نام پیغام
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں پاکستانی فوج اور القاعدہ کے مشتبہ حامیوں کے درمیان گزشتہ دنوں خونی تصادم کے بعد اب جنگ بیانات کی شکل میں لڑی جا رہی ہے۔

علاقے میں حکومت کی جانب سے قبائلیوں کے نام دستی اشتہارات (پمفلٹس) کی تقسیم کے جواب میں نامعلوم افراد نے فوجیوں کے نام ہفتے کے روز ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہیں امریکہ کے اشارے پر ان کے خلاف لڑنے سے منع کیا ہے۔

وانا اور اس کے گرد و نواح میں ہیلی کاپٹروں اور لوگوں کے ذریعے جمعہ کے روز دستی اشتہارات تقسیم کرنے کا عمل شروع کیا گیا تھا۔

اردو زبان میں لکھے اس ایک صفحے کے پیغام میں ان مقامی قبائلیوں سے اپیل کی گئی تھی وہ غیرملکیوں کو اپنا علاقہ چھوڑ دینے یا ہتھیار ڈالنے پر مجبور کریں۔ بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ یہ غیرملکی مہمان نوازی کی قبائلی روایت کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

اس کے جواب میں ہفتے کو نامعلوم افراد یا تنظیم نے قبائل وزیرستان کے نام ایک بیان جاری کیا ہے۔ اردو میں لکھے اس جوابی بیان کا عنوان ’فوجیوں کو پیغام، ہے۔ اس تفصیلی بیان میں فوجیوں کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ ’وہ بھی مسلمان ہیں اور ہم بھی پھر امریکہ کے اشاروں پر وہ ایک دوسرے کو کیوں قتل کر رہے ہیں‘۔

بیان میں اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ دنیا کے تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ امریکہ کے اتحادیوں کو ہلاک کرنا عین جہاد ہے اور ان کے مقابلے میں مارے جانے والے شہید ہیں۔

بظاہر القاعدہ کے حامیوں کی جانب سے کمپیوٹر کی مدد سے لکھے گئے اس بیان میں دھمکی دی گئی ہے کہ فوج ان پر دوبارہ حملے کی لئے آسکتی ہے جس کے لئے وہ پوری طرح تیار ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے بعد اطلاعات ہیں کہ حکام نے شمالی وزیرستان میں بھی مقامی قبائل کو چھ روز کے اندر وہاں ایک فوجی افسر اور ایک سپاہی کے قاتلوں کو حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ فوجی شوال کے دور افتادہ علاقے میں ایک کیمپ پر حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعہ میں تین فوجی زخمی بھی ہوئے تھے۔

گزشتہ دنوں وانا آپریشن کے دوران افغان سرحد کے قریب قبائلی علاقوں میں کئی مقامات پر پاکستانی سرکاری اہداف پر حملے ہوئے تھے جن میں بڑا فوجی جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

قبائلی روایات کے تحت اب جنوبی کے بعد شمالی وزیرستان میں بھی مقامی انتظامیہ نے اجتماعی ذمہ داری کے قانون کے تحت قبائل سے حملہ آوروں کی برآمدگی کا مطالبہ کیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں ایک جرگہ میں مقامی انتظامیہ نے افغان سرحد کے قریب پہاڑی علاقے شوال میں بسنے والے قبائل جانی خیل، بکا خیل اور کابل خیل سے فوجی کیمپ پر حملے میں ملوث افراد کا مطالبہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لئے ان قبائل کو چھ روز کا وقت دیا گیا ہے۔

انیس مارچ کو شوال کیمپ پر حملے میں ایک فوجی میجر عبدالوحید اور سپاہی موسیٰ ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے تھے۔ اس مہلت کے خاتمے پر توقع ہے کہ دوبارہ مذاکرات کئے جائیں گے۔

ادھر شمالی وزیرستان میں بھی بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت سے عوام میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد