وانا: دو مزید لاشیں برآمد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جنوبی وزیرستان سے سرکاری اہلکاروں کی دو مزید لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ یہ دو لاشیں ان دو تحصیلداروں کی ہیں جنہیں بارہ سپاہیوں کے ساتھ اغواء کرلیا گیا تھا۔ مبینہ اسلامی شدت پسندوں نے اتوار کے روز نیم فوجی فرنٹیئر کنسٹبلری کے بارہ اہلکاروں کو رہا کر دیا تھا۔ پولیٹیکل نائب تحصیلدار امیر نواز اور پولیٹیکل نائب تحصیلدار مطیع اللہ جان برقی کو سولہ مارچ کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ دریں اثناء پاکستان کے فوجی حکام نے وضاحت کی ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والا شخص القاعدہ کا اعلیٰ رہنما نہیں بلکہ تنظیم کا ایک مقامی انٹیلیجنس اہلکار تھا۔ اس سے پہلے پاکستان کے فوجی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ پاک افغان سرحد کے نزدیک جنوبی وزیرستان کے علاقے میں القاعدہ کے مشتبہ ارکان کے خلاف تازہ ترین کارروائی میں القاعدہ کے ایک اعلیٰ رہنما ہلاک اور ایک کو زخمی کردیا گیا ہے۔ پاک فوج کے ایک ترجمان نے ہلاک ہونے والے شخص کا نام عبداللہ بتایا تھا اور کہا تھا کہ وہ القاعدہ کی انٹیلی جینس کے سربراہ تھے۔ تاہم امریکی حکام نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ ایسے کسی شخص کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ افغان سرحد کے ساتھ اس علاقے میں غیر ملکی مشتبہ افراد کے خلاف اپنا آپریشن جاری رکھیں گے۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ انتظار کررہے ہیں کہ پاکستانی حکام انہیں اس ہلاکت کے بارے میں مزید معلومات فراہم کریں۔ پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا ہے کہ ابھی وہ اس بارے میں مزید معلومات جاری نہیں کرسکتے۔ فوجی حکام کے مطابق جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے مشتبہ ارکان کے خلاف کارروائی میں تنظیم کا ڈھانچہ توڑدیا ہے۔ دو ہفتوں پر محیط اس آپریشن کا پہلا مرحلہ اتوار کے روز ختم ہوا تھا۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں اب تک چھیالیس سپاہی ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام کا دعوٰی ہے کہ اس آپریشن میں مخالفین کے تریسٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک سو تریسٹھ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ شوکت سلطان نے بتایا ہے کہ اس کارروائی کا پہلا مرحلہ ختم ہوگیا ہے جس میں، ان کے مطابق، مخالفین کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرکے آپریشن کا ایک بنیادی مقصد حاصل کرلیا گیا ہے۔ حکام نے اتوار کو علاقے کا محاصرہ ختم کردیا تھا اور اپنے کچھ فوجی بھی واپس بلانے شروع کردئیے تھے۔ تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ فوجی اس وقت تک علاقے میں رہیں گے جب تک ضروری سمجھا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||