وانا: تازہ دم فوج روانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی وزیرستان میں لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی روز سے مزید فوجی کُمک علاقے میں پہنچ رہی ہے جس سے ایک مرتبہ پھر القاعدہ اور اس کے حامیوں کے خلاف کسی تازہ فوجی کارروائی کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ ایجنسی کے صدر مقام وانا میں قبائلیوں کا کہنا ہے کہ اس کُمک میں تازہ دم فوجی اور نیم فوجی دستے بھی شامل ہیں۔ ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ تقریباً ڈیڑھ سو فوجی گاڑیاں وانا پہنچی ہیں۔ ان گاڑیوں پر مزید بھاری اسلحہ بھی لایا گیا ہے۔ نئے دستے اس وقت علاقے میں بھیجے جا رہے ہیں جب حکومت کی جانب سے قبائلیوں کو دی گئی بیس اپریل تک کی مہلت میں چند روز ہی باقی بچے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس تازہ رسد کا مقصد ان قبائلیوں پر دباؤ بڑھانا ہے کہ جن پر القاعدہ کے شدت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام ہے۔ دوسری جانب فوجی تیاریوں کے ساتھ ساتھ وانا میں بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوششیں بھی تیز ہوئی ہیں۔ جرگوں کا بظاہر نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ علاقے میں سب سے بڑے احمد زئی وزیر قبائل کی ذیلی شاخ زلی خیل کے عمائدین پر مشتمل ایک وفد مطلوب افراد سے مذاکرات کے لئے اور انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لئے ایک نامعلوم مقام کی جانب گیا ہے۔ جرگہ کی جمعہ کو لوٹنے کی توقع ہے جوکہ بعد میں سرکاری حکام کو کسی پیش رفت کے بارے میں مطلع کرے گا۔ ادھر پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان ہفتے کو پشاور میں صحافیوں کو قبائلی علاقوں کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ بھی دیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||