فاٹا ارکان پارلیمان، مشرف ملاقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے حکومت کے حامی ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز نے منگل کے روز صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد سرکاری طور پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ فاٹا کے پارلیمینٹرینز نے حکومتی پالیسیوں بشمول دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ بیان کے مطابق فاٹا کے نمائندوں نے حکومت کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ صدر سے ملاقات کرنے والے رکن قومی اسمبلی غازی گلاب جمال نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہوں نے صدر مشرف پر زور دیا کہ وانا سمیت قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لئے فوجی آپریشن کے بجائے جرگوں کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی پالیسی جاری رکھی جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت قبائلی علاقوں میں کارروائی میں جلد بازی نہ کرے اور جرگے کو وقت دے کیوں کہ ان کے بقول جرگوں کے ذریعے فیصلے کرنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صدر مشرف نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں فوجی اپریشن کے دوران ہلاک و زخمی ہونے والوں کو حکومت معاوضہ دے گی۔ گلاب جمال نے کہا کہ ان کو صدر مشرف نے یقین دلایا ہے کہ فاٹا میں ترقیاتی کام زیادہ سے زیادہ کرائے جائیں گے تا کہ لوگوں کو بہتر سہولیات پہنچائی جا سکیں۔ ان کے بقول صدر نے ان کو بتایا ہے کہ فاٹا میں ترقیاتی کاموں کے لئے وہ عالمی برادری سے جلد رابطہ کر کے زیادہ سے زیادہ فنڈز حاصل کریں گے۔ واضح رہے کہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے حکومت کے مخالف ارکان اسمبلی اور سینیٹرز کو ملاقات کی دعوت نہیں دی گئی تھی جبکہ وانا جہاں فوجی آپریشن کیا گیا تھا کے نمائندے بھی ملاقات میں شریک نہیں تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||