وانا:حکومت عوام سے معافی مانگے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی ایک مذہبی جماعت کے زیراہتمام صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں جنوبی وزیرستان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے منعقد سہ روزہ جرگے نے حکومت سے وانا آپریشن پر عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے اس جرگے کے اختتام پر اتوار کے روز جاری کئے گئے اعلامیے میں قبائلی علاقوں میں اسلامی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ پشاور میں مرکز اسلامی میں منعقد قبائلی جرگہ جماعت اسلامی کے ماضی کے کسی احتجاجی جلسے سے ذیادہ مختلف نہیں تھا۔ وہی مذہبی نظمیں وہی نعرے بس موضوع تھوڑا مختلف تھا۔ اس مرتبہ وجہِ احتجاج ایل ایف او نہیں بلکہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوجی کاروائی تھی۔ صوبہ سرحد میں حکمراں اتحاد متحدہ مجلس عمل کی رکن جماعت اسلامی نے اس فوجی کاروائی کے تناظر میں قبائلی علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے سہہ روز جرگے کا انعقاد کیا۔ آج جرگے کے اختتامی اجلاس سے جماعت اسلامی اور ایم ایم اے کے سربراہ قاضی حسین احمد نے خطاب کیا اور بقول ان کے امریکی ایماء پر کی جانے والی وانا کاروائی کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا: ’یہ بات ہم نے تمام ملک میں کی ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عوام کسی تصادم میں اپنی فوج کے ساتھ نہیں ہیں۔ یہ لوگ قبائل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے ساتھ یکجا ہیں۔ اس کاروائی پر تمام ملک میں تشویش پائی جاتی ہے۔’ انہوں نے کہا کہ امریکی خفیہ معلومات عراق میں وسیع پیمانے کے ہتھیاروں سے متعلق بھی ناقص تھی اور افغانستان میں بھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی حال وزیرستان کے بارے میں بھی ہے۔ جرگے سے سینر صوبائی وزیر سراج الحق اور قبائلی علاقوں سے ایم ایم اے کے اراکین پارلیمان نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ قبائل کی بقول ان کے اس تذلیل پر دنیا میں صرف امریکہ ہی کو خوشی ہوی ہے۔ انہوں نے حکومت سے آپریشن میں متاثر ہونے والے قبائلیوں کے لئے معاوضے کا مطالبہ بھی کیا۔ جرگے کے اختتام پر ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں حکومت سے اس فوجی کاروائی پر قبائلیوں سے معافی مانگنے، مسمار کئے جانے والے مکانات کی تعمیر نو کے لیے مالی امداد اور متنازعہ فرنٹیر کرائمز ریگولیشن کو ختم کرکے اس کی جگہ اسلامی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ ادھر اس جرگے کے اختتام سے ایک روز قبل یعنی ہفتے کے روز پشاور میں حکومت کے ہم خیال قبائلی عمائدین نے بھی ایک اجلاس منعقد کیا جس میں سیاسی جماعتوں کو قبائلی علاقوں میں مداخلت سے باز رہنے کی تلقین کی گئی۔ بظاہر اس تنبہ کا ہدف جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتیں ہی تھیں جو قبائلی علاقوں پر احتجاج کر رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||