مذاکرات ناکام، مہلت میں توسیع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے اپنے ان بارہ پیرا فوجیوں ا ور مقامی انتظامیہ کے دو افراد کی رہائی کے لئے دی جانے والی مہلت میں جمعہ تک توسیع کر دی ہے۔ قبائلی سرداروں کے دو وفود اس علاقے کے عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہیں جہاں پاکستان گزشتہ نو دن سے طالبان اور القاعدہ کے مشتبہ ارکان کے خلاف کارروائی کررہاہے۔ فرنٹیئر کنسٹیبلری کے بارہ اہلکاروں اور مقامی انتظامیہ کے دو افراد کو گزشتہ ہفتے جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے آغاز میں یرغمال بنایا گیا تھا۔ پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق وانا میں صورت حال ابھی تک غیر واضح ہے اور زلی خیل قبیلے کا جرگہ جو ان شدت پسندوں سے مذاکرات کے لئے گیا تھا خالی ہاتھ واپس آ گیا ہے۔ ا
اطلاعات کے مطابق حکومت کو مطلوب قبائلی رہنما نیک محمد نے یرغمالیوں کی رہائی کے لئے کچھ شرائط پیش کی ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق نیک محمد نے نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر ان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بندوق کے زور پر مذاکرات کر رہی ہے۔ نیک محمد کا کہنا ہے کہ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت اعظم وراسک اور کالوشاہ میں موجود فوج اور فرنٹیئر کنسٹیبلری کے دستوں کو ہٹائے اور آپریشن کے دوران بے گھر ہونے والے لوگوں کی بحالی کے مناسب حالات پیدا کرے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||