مشتبہ افراد کے لئے پھر عام معافی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت نے وزیرستان میں روپوش القاعدہ کے مبینہ ارکان کے لئے ایک مرتبہ پھر عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ صوبۂ سرحد کے گورنر ریٹائرڈ جنرل سید افتخار حسین شاہ نے کہا ہے کہ اگر مشتبہ افراد ہتھیار ڈال دیں اور انہیں پناہ دینے والا قبیلہ یہ یقین دہانی کروادے کہ وہ کسی تشدد آمیز کارروائی میں ملوث نہیں ہوں گے تو انہیں ان کے خاندانوں کے ہمراہ یہ علاقہ چھوڑنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ ساتھ ہی مقامی لوگوں کی حمایت کے لئے جمعہ کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں نے علاقے میں پرچے بھی گرائے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ مقامی لوگوں کو چاہئے کہ وہ القاغدہ کے مشتبہ افراد پر زور دیں کہ وہ یہ علاقہ چھوڑ دیں۔ یہ پرچے اردو زبان میں ہیں اور ان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر ملکی مشتبہ افراد قبائلیوں کی مہمان نواز ی کا ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں۔ گورنر نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ مشتبہ افراد وانا سے دیگر علاقوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔ دریں اثناء جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی سرحد کے ساتھ محسود قبائل کے ایک لشکر نے ان افراد کی تلاش کا کام شروع کردیا ہے جو گزشتہ مہینے پاکستانی فوج پر گھات لگا کر حملہ کرنے کی واردات میں ملوث ہیں۔ اطلاعات کے مطابق محسود قبائل کا یہ لشکر تقریباً چھ ہزار افراد پر مشتمل ہے اور یہ ان افراد کی تلاش کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ اس کارروائی میں انیس پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ محسود قبائل کے ایک رکن نور علم خان نے بتایا کہ یہ لشکر گھروں کی تلاشی لے رہا ہے اور لوگوں سے اس واقع میں ملوث افراد کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ غیر ملکیوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ پشاور سے صحافی اور تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی نے بی بی سی ارودو سروس کو بتایا کہ قبائلی قانون فرنٹیئر کرائم ریگولیشن کے تحت جس قبائل کے علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا ہے یہ اسی قبیلے کی اجتماعی ذمہ داری تصور کی جاتی ہے کہ وہ مجرموں کے خلاف کارروائی کرکے اور ان کو گرفتار کر کے حکومت کے حوالے کرے۔ انہوں نے کہا کہ محسود قبائل نے یہ خواہش ظاہر کی تھی کے ان کے علاقے میں فوجی کارروائی نہ کی جائے اور وہ القاعدہ اور طالبان کے مبینہ ارکان کے خلاف خود کارروائی کرئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت احمد زئی وزیر قبائل سے بھی اب یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ اپنے علاقے میں کارروائی کرئے۔ انہوں نے کہا کہ احمد زئی وزیر قبیلے کے دو سو کے قریب عمائدین کا ایک جرگہ جمعہ کو منعقد ہو رہا ہے جو لشکر تشکیل دینے کے حکومتی مطالبے پر غور کرئے گا۔ رحیم اللہ یوسف زئی نے بتایا کہ محسود قبائل کا لشکر اپنے ہی علاقے میں کارروائی کرئے گا اس لیے دوسرے کس قبیلے سے تصادم کا کوئی امکان نہیں۔ جنوبی وزیرستان میں گزشتہ مہینے ہونے والی فوجی کارروائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے کارروائی کرکے دیکھ لیا ہے کہ اس سے مسائل حل نہیں ہوں گئے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے مزید مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||