BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 April, 2004, 11:46 GMT 16:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا: فوج، قبائلی ملاقات آج ہوگی

قبائیلی
قبائیلیوں نے ’معاہدے‘ کے بعد اپنا آپریشن ترک کر دیا تھا
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوجی حکام اور القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب افراد کے درمیان ملاقات ایک روز کی تاخیر کے بعد آج ہو رہی ہے۔

احمدزئی وزیر قبائل کا کہنا ہے کہ وہ فوجی حکام کا شکئی کے علاقے میں تاریخی استقبال کریں گے۔

جنوبی وزیرستان میں کئی ماہ کی کشیدگی اور خونی جھڑپوں کے بعد اب فوجی حکام اور حکومت کو مطلوب افراد کی یہ پہلی ملاقات ہوگی۔ یہ اہم ملاقات دو روز قبل فریقین کے درمیان اس معاہدے کے بعد ہو رہی ہے جس میں معافی کے بدلے پانچ انتہائی مطلوب افراد کو پاکستان کے ساتھ وفاداری اور سرحد پار تشدد آمیز کارروائیوں سے دور رہنے کا اعلان کرنا ہوگا۔

اس تقریب کے مقام کے انتخاب پر اختلافات کی وجہ سے یہ ایک روز کے لئے ملتوی کر دی گئی تھی۔ فوج وانا سے تقریبا بیس کلومیٹر شمال مغرب میں شکئی کے مقام پر اس تقریب کے منعقد کرنے میں دلچسپی رکھتی تھی جبکہ مطلوب افراد اسے وانا میں منعقد کرانا چاہتے تھے۔

تاہم حکومت اور مطلوب افراد کے درمیان کامیاب ثالثی کرنے والے اراکین قومی اسمبلی مولانا معراج الدین اور مولانا عبدالمالک کے مطابق یہ تقریب اب ہفتے کی صبح شکئی میں ہی ہوگی۔انہوں نے معاہدے کے بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

زلی خیل قبیلے کے سربراہ ملک اجمل خان کا کہنا تھا کہ ان کے قبیلے کے ہزاروں افراد اپنی وطن دوستی کا ثبوت اس پرتپاک استقبال کے ذریعے دیں گے۔

شکئی کا سرسبز علاقہ ماضی میں عسکریت پسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔
منتظمین کے مطابق اس تقریب میں کور کمانڈر پشاور لیفٹٹنٹ جنرل صفدر حسین کو نیک محمد کی جانب سے تسبیح، مسواک اور قرآن کریم کا نسخہ پیش کیا جائے گا۔

نیک محمد نے آج بی بی سی سے وانا کے قریب ایک نامعلوم مقام پر ملاقات میں حکومت کے ساتھ معاہدے کے بارے میں کچھ کہنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کیا کہ وہ ایک بیان کل کی تقریب میں دیں گے۔

وانا میں کاروبار زندگی بظاہر اب واپس معمول کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دو ماہ سے زائد عرصے تک بند رہنے کے بعد سینکڑوں دوکانیں دوبارہ کھلی ہیں جس سے بازار کی رونقیں بڑھی ہیں۔ عوام کے چہروں پر معاہدے کے بعد اطمینان اور خوشی کے واضع آثار نظر آتے ہیں۔

پاکستان حکومت نے قبائلیوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ علاقے میں غیر ملکی شدت پسندوں کو پناہ دے رہے ہیں اور ملک کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔

گزشتہ مہینے فوج اور شدت پسندوں کے درمیان لڑائی میں سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد