دیر آید درست آید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حالیہ حالات اور واقعات نے اگر اور کچھ نہیں تو حکومتِ وقت پر یہ عیاں کر دیا ہے کہ ملک کے کسی علاقے کو زیادہ دیر تک ترقی کے دھارے سے دور نہیں رکھا جا سکتا۔ حکومت کے پاس اگرچہ عوام تک رسائی اور انہیں اپنے موقف سے آگاہ کرنے کے بہت سے ذرائع اور راستے ہیں لیکن جنوبی وزیرستان میں وہ اپنے آپ کو قدرے بے بس پا رہی ہے۔ سکول، سڑکوں اور صحت کے میدان میں تو یہ علاقہ پسماندہ ہے ہی لیکن جس چیز کی کمی حکومت کے لئے بھی مسئلے کا باعث بنی ہے وہ ہے اس علاقے میں سرکاری ذرائع ابلاغ کی عدم موجودگی۔
ملک کے قیام کے چھپن برس بعد بھی ان علاقوں میں پاکستان ٹیلی وژن کی نشریات سیٹلائٹ کے بغیر نہیں دیکھی جا سکتیں۔ حکومت کو اس کمی کا احساس کتنی شدت سے ہوا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گورنر نے اس بوسٹر کے لئے وسائل بھی مہیا کرنے کی پوری یقین دہانی کرائی۔ حکومت نے گزشتہ دنوں قبائلیوں تک اپنی بات پہنچانے کی خاطر فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دستی اشتہارات یا پمفلٹ بھی گرائے۔ ان اشتہارات میں قبائلیوں سے حکومت کو فوج کے القاعدہ کے خلاف مدد کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ دوسری جانب القاعدہ کے مشتبہ حامی بھی کچھ کم نہیں تھے۔ انہوں نے بھی حکومت کی دیکھا دیکھی اردو زبان میں پمفلٹس تقسیم کئے جن میں فوجیوں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار نہ اٹھانے کی اپیل کی تھی۔ لیکن ملک کے ایک ایسے دور دراز اور پسماندہ علاقے میں جہاں 1998 کی مردم شماری کے مطابق خواندگی کا تناسب صرف بیس فیصد ہے عوامی رائے اس طرح استوار کرنے کی ان کوششوں کو زیادہ مفید تصور نہیں کیا جا رہا۔
ہیلی کاپٹروں کے ذریعے حکومت کی طرف سے اس طرح اپنے عوام تک رسائی کی کوشش سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے قبائلیوں کے دل جیتنے میں کتنی دقت کا سامنا ہے۔ ارادی یا غیر ارادی طور پر ملک کی چھپن سالہ تاریخ میں جنوبی وزیرستان حکام کی آنکھوں سے اوجھل رہا اور یہاں تک سرکار اور اس کے اہلکاروں کی نظر نہ پہنچ سکی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قبائلی علاقوں کی آخری جنوبی حد آج بھی سرکاری ٹیلی وژن اور ریڈیو کی نشریات سے محروم ہے۔ سرکاری اعداوشمار کے مطابق جنوبی وزیرستان کی گیارہ فیصد آبادی ٹی وی سے معلومات کے حصول کی ضرورت پوری کرتی ہے جبکہ چون فیصد آج بھی ریڈیو پر انحصار کرتی ہے۔ صرف نو فیصد اخبارات سے استفادہ کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں اس بات کا اندازہ لگانا کہ کتنے لوگ دستی اشتہارات پڑھ سکتے ہونگے کوئی مشکل کام نہیں۔ جنوبی وزیرستان میں بسنے والے پانچ لاکھ قبائلی اب امید کر رہے ہیں کہ دیر آید درست آید کی صورت میں ہی سہی اب تو انہیں یہ سہولت مہیا کر دی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||