BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 April, 2004, 00:35 GMT 05:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا: قبائلی لشکر کی کارروائی جاری

وانا میں کارروائی
وانا کے قبائلی جوان
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں زلی خیل قوم کے تقریباً دو ہزار افراد پر مشتمل مسلح لشکر کی کارروائی جاری ہے۔ یہ لشکر القاعدہ اور طالبان ارکان کو پناہ دینے کے الزام میں حکومت کو مطلوب پانچ افراد کے خلاف نکالا گیا ہے۔

لشکر نے اتوار کے روز اپنی طرف سے دی جانے والی مہلت ختم ہوجانے کے بعد کارروائی کا آغاز کیا۔ جبکہ حکومت کی طرف سے منگل تک کی مہلت دی گئی ہے۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ اس مہلت میں اضافہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس لئے اس کے بارے میں فیصلہ بھی حکومت ہی کرے گی۔

روایتی ڈھول کی تال پر زلی خیل کی تین شاخوں شاخپوزید، کاکاخیل اور اتمان خیل کے نوجوانوں پر مشتمل لشکر نے وانا سے اتوار کی صبح شالم کے علاقے کی جانب کوچ کیا۔ وانا کے ایک رہائشی محمد خان وزیر نے بتایا کہ لشکر کلاشنکوف اور دیگر ہلکے ہھتیاروں سے پوری طرح مسلح اور ہر صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔

اس سے قبل مطلوب افراد کو زلی خیل نے ہتھیار ڈالنے کے لئے اتوار تک کی مہلت دی تھی۔ یہ مہلت کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات کی بظاہر ناکامی کے بعد دی گئی تھی۔

مبصرین کے خیال میں مطلوب افراد کی جانب سے اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کرنے کے امکانات کافی کم نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے جنوبی وزیرستان میں بظاہر ایک مرتبہ پھر صور تحال طاقت کے استعمال کی جانب بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ چاہے یہ طاقت کا استعمال حکومت کی جانب سے ہو یا قبائلیوں کی۔

تنازع کے حل کے لئے بات چیت یعنی جرگوں کا بظاہر ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ کئی ہفتوں بلکہ مہینوں سے جاری ہے لیکن کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ زلی خیل قبیلے کے ایک جرگے سے حالیہ ملاقات میں مطلوب افراد نے جن میں نیک محمد بھی شامل ہیں ہتھیار ڈالنے سے صاف انکار کر دیا ہے جس کے بعد اس مسئلہ کا پرامن حل بظاہر نکلتا نظر نہیں آتا۔

لیکن یہاں مبصرین کا سوال ہے کہ آیا یہ لشکر اُن افراد کو پکڑنے میں کامیاب رہے گا جو پاکستانی سیکیورٹی دستوں کے ہاتھ نہیں آسکے۔ کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ یہ مطلوب افراد پہلے ہی علاقہ چھوڑ کر قدرے محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں۔ لشکر کا نیک محمد کے مکان مسمار کرنے کے ارادے کے بارے میں اعلان بھی حیران کن ہے کیونکہ پاکستان فوج یہ کام گزشتہ دنوں کارروائی میں مکمل کر چکی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد