قبائل اور حکومت میں ’سمجھوتہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے دو اراکین قومی اسمبلی کی ثالثی کی کوششیں بل آخر رنگ لے آئی ہیں اور حکومت اور القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب افراد کے درمیان ایک معاہدہ طے پاگیا ہے۔ پشاور میں قبائلی علاقوں میں حفاظتی امور کے نگران سیکرٹری محمود شاہ نے جمعرات کے روز صحافیوں کو بتایا کہ انہیں رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالمالک اور مولانا معراج الدین کے ذریعے مطلوب افراد نے چند تجاویز بھیجی ہیں۔ البتہ ان کے بقول حکومت نے اس سلسلے میں چند تفصیلات مطلوب افراد سے مانگیں ہیں جوکہ انہیں توقع ہے کہ جمعرات کے رات تک مل جائیں گی۔ تاہم وانا سے اطلاعات ہیں کہ اراکین قومی اسمبلی اور فوجی حکام کے درمیان ایک ملاقات میں اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اس معاہدے کے تحت مطلوب افراد اور وہ غیرملکیوں نے جن پر القاعدہ کے لئے کام کرنے کا الزام تھا پاکستانی علاقے سرحد پار کارروائیوں کے لئے نہ استعمال کرنے اور پراُمن زندگی گزارنے کی ضمانت دی ہے جس کے جواب میں حکومت نے انہیں معافی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت پاکستان نے اس سسے قبل بدھ کے روز ایک مرتبہ پھر جنوبی وزیرستان کے قبائل کو اپنا علاقہ القاعدہ اور اس کے حامیوں سے پاک کرنے کے لئے دی گئی مہلت میں مزید دس روز کی توسیع کر دی ہے۔ حکومت نے خیرسگالی کے اظہار کے طور پر وانا بازار میں یارگل خیل قبائل کی دوکانیں بھی کھولنے کی اجازت دے دی تھی جبکہ گزشتہ فوجی کاروائی میں گرفتار پانچ افراد کو رہا بھی کر دیا تھا۔ گزشتہ ماہ فوج اور القاعدہ کے مشتبہ افراد کے درمیان جھڑپ میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ توقع ہے کہ معاہدے کا باضابطہ اعلان جمعے کے روز وانا سے بیس کلومیٹر دور شکئی کے علاقے میں کیا جائے گا جس میں مطلوب افراد کے علاوہ کور کمانڈر پشاور صفدر حسین بھی شرکت کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||