وانا: اندراج کی مہلت میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکومت نے القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی عناصر کو دی جانے والی مہلت میں سوموار تک ایک بار پھر توسیع کر دی ہے البتہ بظاہر فی الحال ان غیرملکیوں کے اندراج سے انکار سے معاملہ تعطل کا شکار ہوتا نظر آتا ہے۔ ادھر افغانستان کی سرحد سے ملحق شمالی وزیرستان کے علاقے لواڑہ منڈی سے ایک مرتبہ پھر اطلاعات ہیں کہ امریکی فوجی پینتالیس منٹ تک پاکستانی علاقے میں گھسے رہے۔ یہ واقعہ جمعہ کی شام پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق چار فوجی گاڑیوں میں سوار درجنوں امریکی فوجی جنہیں ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل تھی سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے داخل ہوئے۔ بعد میں پاکستانی سرحدی محافظوں نے انہیں واپس جانے پر مجبور کیا۔ اس تازہ واقعہ پر ابھی پاکستانی حکومت کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے البتہ گزشتہ ہفتے کے واقعہ پر اس نے امریکہ سے شدید احتجاج کیا تھا۔ وانا میں گزشتہ رات گئے تک فوجی حکام اور نیک محمد کے درمیان مذاکرات جاری رہے جو بظاہر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ اطلاعات کے مطابق نیک محمد اب غیرملکیوں سے رابطے کی کوشش میں ہیں۔ وانا میں پولیٹکل ایجنٹ جنوبی وزیرستان عصمت اللہ گنڈاپور نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ غیرملکیوں کو دی جانے والی مہلت میں سوموار تک توسیع کر رہے ہیں تاکہ مذاکرات کسی نہج پر پہنچ سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وزیر قوم یہ مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل نہ کر سکی تو یہ اس کی بڑی بدقسمتی ہوگی۔ اس موقعہ پر مقامی اراکین قومی اسمبلی مولانا عبدالمالک اور مولانا معراج الدین بھی موجود تھے جن کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت اور القاعدہ کے افراد کے درمیان ثالثی کی کوشش بدستور جاری رہیں گی۔انہوں نے وضاحت کی کہ غیرملکیوں کی رجسٹریشن شکئی معاہدے کا حصہ نہیں تھی۔ کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین جمعہ کو خود وانا گئے تھے تاکہ اختلافات کو دور کیا جا سکے لیکن بظاہر انہیں کامیابی نہیں ملی۔ اس سے قبل احمدزئی وزیر قبائل کے عمائدین کے ساتھ ایک ملاقات میں مقامی انتظامیہ نے انہیں امن کمیٹیاں تشکیل دینے کے لئے کہا ہے تاکہ کسی بھی صورتحال سے بہتر انداز میں نمٹا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق اختلافات کا اہم نقطہ اندراج کے لئے غیرملکیوں کو اپنی مکمل تفصیلات اور تصاویر دینے کے ساتھ ساتھ خود بھی اس موقعہ پر حکومت کے سامنے پیش ہونے کی شرائط ہیں۔ غیرملکیوں جن میں زیادہ تعداد افغان، چیچن اور ازبکوں کی ہے کو خدشہ ہے کہ یہ تفصیلات کسی دوسرے ملک کو دی جائیں گی جس سے ان کے اہل خانہ اور رشتہ داروں کے لیے ان کے آبائی ممالک میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ جبکہ حکومت کا موقف ہے تصویر کے بغیر ان کے لئے کوئی شناختی دستاویز جاری کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ حکومت بھی اطلاعات کے مطابق ان غیرملکیوں کے پرامن زندگی گزارنے کے بارے میں مہیا کی جانے والی ضمانتوں سے مطمئن نہیں۔ اس کا مطالبہ ہے کہ یہ ضمانتیں ٹھوس ہونی چاہیے۔ حکومت بظاہر آخری وقت تک مہلت میں اضافے کے خلاف نظر آتی تھی لیکن اس توسیع سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ ابھی بھی اتنا ہی الجھا ہوا ہے جتنا کہ شاید ان مذاکرات کے آغاز پر تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||