وانا: معافی کی مہلت میں توسیع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان کی جانب سے افغان سرحد کے قریب قبائلی علاقوں میں روپوش القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی افراد کو ہتھیار ڈالنے کے لئے مہلت میں آج مزید ایک ہفتے کی توسیع کی گئی ہے اور اب تک کسی نے بھی اندراج کروا کے حکومت کی معافی کی پیشکش سے فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔ مہلت میں ایک ہفتے کے مزید اضافے کا اعلان اسلام آباد میں پاکستان فوج کے ایک ترجمان نے کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت اس مسئلے کے حل کے لئے سیاسی کوششوں کو پورا موقعہ دینا چاہتی ہے۔ ادھر جنوبی وزیرستان سے بھی کسی غیرمعمولی فوجی نقل و حرکت یا کارروائی کی اطلاع نہیں ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حالات معمول پر ہیں۔ پشاور اور اسلام آباد میں فوجی اور دیگر حکام آج تمام دن اس مسئلے کے حل کے بارے میں سوچ بچار کرتے رہے۔ حکومت بھی بظاہر ہتھیار ڈالنے کے خواہش مند مشتبہ غیرملکیوں کی کسی لمبی قطار کی توقع نہیں کر رہی ہے۔ وانا میں حکام کے مطابق جمعہ تک ان سے کسی نے رابطہ نہیں کیا ہے البتہ ان کے بقول اندراج کے لئے انتظامات مکمل ہیں۔ پشاور میں قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کے نگران محمود شاہ کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ مشتبہ عسکریت پسند شناخت اور گرفتاری کے خوف سے سامنے نہیں آرہے ہیں۔ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو اراکین قومی اسمبلی بھی اپنی سی کوششوں میں مصروف ہیں۔ مولانا معراج الدین اور مولانا عبدالمالک کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ غیرملکیوں کے اندراج سے متعلق بات چیت مثبت انداز میں جاری ہے لیکن اندراج کے طریقہ کار پر اختلافات دور کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ دونوں اب وانا کے لئے روانہ ہوگئے ہیں جہاں توقع ہے وہ القاعدہ کے مشتبہ افراد سے رابطے کی کوشش کریں گے۔ دوسری جانب بظاہر حکومت پر اعتماد بڑھانے کی خاطر جمعرات کے روز حکام نے وانا میں تین قبائلی علما کے علاوہ مزید ایک درجن افراد کو رہا کر دیا تھا۔ حکومت نے گزشتہ ہفتے القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب افراد کو گلے لگاتے ہوئے وہاں چھپے غیرملکیوں کو ہتھیار ڈال کر حکومت کے پاس اندراج کروانے کے لئے تیس اپریل تک کی مہلت دی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||