قبائلی علاقوں کےجنگجو کون ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین ماہ تک پاکستانی سیکورٹی فورسز کی کامیاب مزاحمت کرنے والے ستائیس سالہ نیک محمد افغانستان کی طالبان اسلامی تحریک کے کوئی کمانڈر نظر آتے ہیں۔ لمبے بال، داڑھی اور ’جہادی‘ طرز کا لباس اور جوگر اس قبائلی نوجوان کی سوچ اور عقائد کے بارے میں بہت کچھ بتاتے ہیں۔ بات صرف دِکھاوے تک محدود نہیں۔ جنوبی وزیرستان کے اِس دُور دراز پہاڑی علاقے کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے رہنے والے نیک محمد طالبان نظریات اور تحریک کے بڑے حامی نظر آتے ہیں۔ نیک محمد اپنے اِنہی خیالات کے زیر اثر عملی طور پر طالبان کے لئے افغانستان میں بھی لڑ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کابل کے شمال میں بگرام کے ہوائی اڈے پر تعینات رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بگرام اُس وقت عسکری اعتبار سے انتہائی اہم ہوائی اڈہ تھا جو آدھا ان کے جبکہ آدھا شمالی اتحاد کے کنٹرول میں تھا۔ وہ اپنے ماضی قریب کے بارے میں کچھ کہنے سے کتراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ طالبان کے حامی ہیں لیکن وہ کبھی اس کے بانی اور سربراہ ملا محمد عمر سے ملاقات نہیں کر پائے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں کئی مرتبہ قندھار گیا لیکن مل نہیں سکا۔ ایک بار ملاقات طے ہوئی تھی لیکن مجھے کہیں جانا پڑ گیا‘۔ نیک محمد درمیانے قد یعنی تقریباً ساڑھے پانچ فٹ کے ہیں لیکن ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ پیدائشی جنگجو ہیں۔ ان کے ایک ساتھی کا کہنا تھا ’وہ شاید سیاست یا بولنے میں زیادہ ماہر نہ ہو لیکن جنگی حکمت عملی میں اس کا جواب نہیں‘۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان فوج کے ساتھ تصادم میں وہ کئی مرتبہ بال بال بچے، ایک بار تو راکٹ ان سے پانچ گز کے فاصلے پر گرا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے‘۔ مستقبل کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ ایک بار پھر کاروبار کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ نیک محمد کے والد بچپن میں فوت ہوگئے۔ وہ تین بھائی ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مولوی عبدالعزیز کے مدرسے سے حاصل کی اور بعد میں میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول وانا سے کیا۔ انہوں نے کچھ عرصہ دوکانداری بھی کی لیکن مذہبی جذبات کے زیر اثر وہ کاروبار چھوڑ کر طالبان سے جا ملے۔ انہوں نے کہا کہ ’قبائلیوں نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی ہے، پہلے انگریزوں، پھر روسیوں اور اب امریکیوں کے خلاف۔ جہاد سب مسلمانوں پر فرض ہے لہذا ہمیں کرتے رہنا چاہیے‘۔ نیک محمد کو اُمید ہے کہ پاکستان فوج کے ساتھ حالیہ معاہدہ پائیدار ثابت ہوگا کیونکہ اب ان کا حکومت سے براہ راست رابطہ قائم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا’مسلمان ہونے کے ناطے میں تو وعدہ خلافی کا سوچ بھی نہیں سکتا‘۔ فوجی کارروائی میں نیک محمد کا مکان مسمار کر دیا گیا تھا لہذا آج کل وہ کسی کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں۔ فوج سے مصافحے سے ایک روز قبل ان سے ملنے گیا تو وہ اپنے ہی حلیے کے مسلح ساتھیوں کے ساتھ مسمار مکانات کے درمیان ایک ٹیوب ویل کے قریب ملے۔ قریب ہی ایک عمارت پر طالبان کا سفید پرچم بھی لہرا رہا تھا۔ وہیں حکومت کو مطلوب ایک دوسرے شخص حاجی شریف کے بارہ سالہ بیٹے حیا خان سے ملاقات ہوئی جو کلاشنکوف سے مسلح تھا۔ اس کی ایک جانب اس کا اپنا مسمار شدہ مکان تھا تو دوسری جانب طالبان کا پرچم۔ وہ کن حالات میں پل بڑھ رہا ہے اور اس کا مستقبل کیا ہوگا سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔ قریب ہی نیک محمد ایک سفید ڈاٹسن گاڑی میں گھوم رہے تھے جو اطلاعات کے مطابق فرنٹئیر کور سے لڑائی کے دوران چھینی گئی تھی۔ ان کے ایک ہاتھ میں سیٹلائٹ فون تھا۔ وہ بے چین نظر آتے تھے۔ لیکن اس ملاقات کے دو روز بعد انہوں نے دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا تو کافی پرسکون نظر آئے۔ ان کے چند ساتھیوں کو ان سے شکایت ہے کہ ’وہ تکبر کرنے لگے ہیں، شہرت نے انہیں مغرور بنا دیا ہے، آغاز میں وہ تصاویر بنانے کے سخت خلاف تھے لیکن اخبارات میں اپنے آپ کو دیکھ کر شاید ان کی یہ سوچ ضرور تبدیل ہوگئی ہے‘۔ وہ مغرور ہوئے ہیں یا نہیں لیکن محسوس ہوتا ہے کہ ان میں غصہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||