BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 May, 2004, 16:46 GMT 21:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا: مزید اٹھہتر افراد رہا

News image
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکومت کی جانب سے گرفتار قبائلیوں کی رہائی کا عمل جاری ہے اور ہفتے کے روز مزید اٹھہتر افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ان افراد کو گزشتہ ماہ القاعدہ کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

وزیرستان کے صدر مقام وانا میں حکام کا کہنا ہے کہ رہائی پانے والے تمام افراد مقامی قبائلی ہیں جنہیں شک کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا تھا۔ اس طرح گزشتہ ایک ہفتے کے دوران رہائی پانے والے افراد کی تعداد ایک سو اکتالیس ہوگئی ہے۔

کلوشہ اور اعظم ورسک قصبوں میں القاعدہ اور اس کے حامیوں کے خلاف ایک ہفتے سے زائد عرصہ تک جاری رہنے والی فوجی کارروائی میں مجموعی طور پر ایک سو تریسٹھ افراد حراست میں لئے گئے تھے جن میں حکام کے مطابق غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

وانا سے ہی موصول اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج کے جنرل آفیسر کمانڈنگ نیاز خٹک اور یارگل خیل قبیلے کے عمائدین کے درمیان آج زڑی نور کیمپ میں مذاکرات کا ایک دور ہوا۔

قبائلیوں کے مطابق فوجی حکام نے قبیلے سے غیرملکیوں کے اندراج کو یقینی بنانے سے متعلق بات چیت کی۔ تاہم اس رعایت کا اطلاق القاعدہ کے اسامہ بن لادن اور دیگر سینیئر ارکان پر نہیں ہو گا۔

حکومتِ پاکستان نے قبائلی علاقوں میں روپوش القاعدہ کے مشتبہ غیر ملکی افراد کو ہتھیار ڈالنے کے لئے مہلت میں جمعہ کے روز مزید ایک ہفتے کی توسیع کر دی ہے۔ لیکن اس سے قبل ایک ہفتے کی مہلت کے دوران کسی نے اندراج کروا کے حکومت کی پیشکش سے فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔

فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ حکومت اس مسئلے کے حل کے لئے سیاسی کوششوں کو پورا موقع دینا چاہتی ہے۔ نئی ڈیڈ لائن سات اپریل تک کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد