BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 April, 2004, 11:30 GMT 16:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا: معافی کی مہلت میں توسیع

News image
ایک فوجی ترجمان نے تصدیق کر دی ہے کہ حکومت نے قبائلی علاقوں میں غیرملکی افراد کو ہتھیار ڈالنے کے لئے دی گئی مہلت میں ایک ہفتے کی توسیع کر دی ہے۔

پہلے کے ایک اعلان کے تحت یہ مہلت تیس اپریل کی رات کو ختم ہونا تھی۔

مہلت میں ایک ہفتے کے مزید اضافے کا اعلان اسلام آباد میں پاکستان فوج کے ایک ترجمان نے کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت اس مسلے کے حل کے لئے سیاسی کوششوں کو پورا موقعہ دینا چاہتی ہے۔

یہ مہلت گزشتہ ہفتے اس خیال سے دی گئی تھی کہ مشتبہ افراد حکومتی پیشکش کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کریں گے اور ہتھیار ڈال کر اندراج کرانے کی شرط پوری کریں گے۔ تاہم تیس اپریل کی رات تک بھی کسی نے حکومتی پیشکش کا فائدہ نہیں اٹھایا اور معافی کی شرط کے تحت اندراج نہیں کرایا۔

کچھ عرصہ قبل حکومت اور قبائلیوں کے درمیان کامیاب ثالثی کرانے والے رکنِ اسمبلی مولانا معراج الدین نے کہا تھا کہ مذاکرات کے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں مزید ایک دو روز لگ سکتے ہیں جس کے لئے وہ حکومت سے اس مہلت میں اضافے کا مطالبہ کریں۔

ادھر جنوبی وزیرستان سے بھی کسی غیرمعمولی فوجی نقل و حرکت یا کاروائی کی اطلاع نہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حالات معمول پر ہیں۔

حکومت بھی بظاہر مشتبہ افراد کی جانب سے فی الحال زیادہ تعداد میں ہتھیار ڈالنے کی توقع نہیں کر رہی ہے۔ پشاور میں موجود قبائلی علاقوں میں سیکورٹی کے نگران محمود شاہ کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ مشتبہ عسکریت پسند شناخت اور گرفتاری کے خوف سے سامنے نہیں آرہے ہیں۔

تاہم جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو اراکین قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ غیرملکیوں کے اندراج سے متعلق بات چیت مثبت انداز میں جاری ہے۔

حکومت اور مطلوب قبائلیوں کے درمیان کامیاب ثالثی کروانے والے مولانا معراج الدین کا کہنا ہے کہ غیرملکی اندراج کے لئے تیار ہیں لیکن اس کے طریقہ کار پر بات چیت جاری ہے جو ایک دو روز میں مکمل کر لی جائے گی۔

محسود علاقے سے منتخب قومی اسبلی کے رکن مولانا معراج الدین اور وزیر قبیلے سے تعلق رکھنے والے مولانا عبدالمالک آج کل اسلام آباد میں حکام سے اسی سلسلے میں مذاکرات میں مصروف ہیں۔

مولانا معراج الدین نے بات چیت میں پیش رفت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ فریقین کی جانب سے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی جا رہی اور مسئلہ جلد حل کر لیا جائے گا۔ ’اندراج کے طریقہ کار میں انہیں دقت تھی لیکن اب اسے حل کر لیا جائے گا۔‘

حکام کو شک ہے کہ اس قبائلی علاقے میں افغان، عرب اور وسطی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند روپوش ہیں۔ خیال ہے کہ حکومت انہیں پرامن زندگی گزارنے کی ضمانت دینے پر شناختی دستاویز جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مولانا معراج نے ان غیرملکیوں کی تعداد بتانے سے گریز کیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد