BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 April, 2004, 18:05 GMT 23:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا آپریشن کا ’ڈرامائی‘ خاتمہ

نیک محمد اور لیفٹننٹ جنرل صفدر حسین
نیک محمد اور لیفٹننٹ جنرل صفدر حسین قبائل اور فوج میں مصالحت کے بعد
بالآخر وانا آپریشن اختتام کو پہنچا۔ فوج اور قبائل میں بھائی چارے اور اخوت کا نیا عہد و پیماں ہوا۔ باہم ’شیر و شکر‘ ہونے کے اس مظاہرے میں مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا، گلے میں ہار ڈالے گئے اور دعائے خیر کے بعد ’معاملہ‘ طے پا گیا۔

پاکستان فوج کی نمائندگی پشاور کے کور کمانڈر لیفٹننٹ جنرل صفدر حسین نے کی جبکہ القاعدہ اور طالبان ارکان کو مبینہ طور پر پناہ دینے والے مطلوب قبائلیوں کی نمائندگی نیک محمد نے کی۔

دونوں طرف سے ہونے والی تقاریر میں خیرسگالی کے جذبات کا اظہار تو کیا ہی گیا ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ فوج اور قبائل میں پیدا ہونے والی کشیدگی غلط فہمیوں کا نتیجہ تھی۔ نیک محمد نے تو یہاں تک کہا کہ ان کی بات فوج تک پہنچائی ہی نہیں گئی اور جب جرگہ کی وساطت سے ان کی بات فوجی افسران تک پہنچی تو بات صاف ہوگئی۔

بڑی اچھی بات ہے کہ کشیدگی ختم ہوگئی ہے۔ تاہم فریقین کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات سامنے نہ آنے کی وجہ سے مختلف لوگ اس معاہدے کو الگ الگ معنی پہنا رہے ہیں۔ ایسے میں کیا عجب کہ ’غلط فہمیاں‘ پیدا کرنے والے پھر سرگرم ہوجائیں۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں لوگ کشیدگی پر متفکر اور مصالحت پر خوش ہیں۔ مگر کئی ایسے ہیں جو اس معاہدے کو فوج کی پسپائی اور قبائلیوں کی جیت سے تعبیر کر رہے ہیں۔ جبکہ کئی افراد حکومت کے اس وعدے پر کہ وہ آئندہ قبائلی علاقے میں آپریشن نہیں کرے گی شاکی ہیں۔

News image
وانا آپریش کے دوران قبائلیوں کے علاوہ بڑی تعداد میں فوجی بھی مارے گئے

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کی کوئی چال ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ اس کا کوئی پوشیدہ ایجنڈا ہو۔

تاہم قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک سابق فوجی افسر کرنل حمید آفریدی کہتے ہیں کہ آپریشن کے دوران وہ جنرل صفدر سے ملے تھے اور انہوں نے جنرل صفدر کو مخلص پایا اور یہ ہی سبب ہے کہ وہ قبائلیوں کے ساتھ اعتماد کی بحالی کی غرض سے شکئی گئے۔

اس سارے عمل میں قبائلی جرگے کا کردار ابھر کر سامنے آیا اور دور غلامی کی یادگار پولیٹیکل انتظامیہ جو مسئلہ حل نہ کرا سکی وہ جرگے کے توسط سے حل ہوگیا۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس پورے معاملے کی وفاقی سطح پر کوئی تحقیقات کی جائیں گی یہ اسے داخل دفتر کرکے بھلا دیا جائے گا۔

میرے خیال میں مستقل میں کسی ایسی ہی غلط فہمی کے تدارک کے لئے ضروری ہے کہ اس معاملے کی نہ صرف تحقیقات کی جائیں بلکہ رپورٹ شائع بھی کی جائے۔

یہ معلوم کیا جائے کہ ایسی سنگین غلط فہمی کس نے اور کیوں پیدا کی جس کی وجہ سے درجنوں قبائلی اور فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے، کئی قبائلیوں کے مکان مسمار کئے گئے جبکہ فوجی کی ساکھ کو نقصان پہنچا؟ پولیٹیکل انتظامیہ کیوں ناکام رہی، اور اس نے دھمکی آمیز رویہ کیوں اختیار کیا؟ قبائلیوں نے یرغمال بنائے گئے نیم فوجی دستوں کے بارہ سپاہیوں کی رہائی کے باوجود پولیٹیکل انتظامیہ کے دو اہلکاروں کو کیوں ہلاک کیا۔

ورنہ قبائلی رواج کی پامالی اور غلط فہمیوں کی وجہ سے ماضی کے ایپی فقیر اور عجب خان آفریدی کی طرح آئندہ نیک محمد اور حاجی شریف پیدا ہوتے رہیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد