BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 February, 2004, 10:04 GMT 15:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مجاہد، انتہاپسند اور اب دہشتگرد

بش، مشرف
’دہشت گردی کے خلاف‘ صدر بش کی جنگ میں جنرل مشرف نے ساتھ دینے کی حامی بھری ہے
بدھ کے روز صدر جنرل مشرف نے اسلام آباد میں علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب کیا۔ یہ خبر دوسرے ذرائع ابلاغ کے ساتھ بی بی سی ارود ڈاٹ کام کے ’پاکستان‘ قرطاس پر بھی جلی طور پر شائع ہوئی۔

جنرل مشرف کی تقریر کا متن ایک خاص انداز میں آگے بڑھتا ہے۔ پہلے انہوں نے کہا: ’جہاد کا اعلان صرف حکومتِ وقت کر سکتی ہے اور کسی گروہ یا شخص کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ لوگوں کو جہاد پر اکسائے یا انہیں جہاد پر لے کر جائے۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہاں سے انتہاپسندی کو ہوا دی جائے اور لوگوں کو جہاد پر اکسایا جائے۔ آگے چل کر انہوں نے اس تاثر کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا کہ پاکستان ایک انتہا پسند اور دہشت گرد ملک ہے۔

حافظ محمد راضی
’موجودہ حالات میں خودکش حملے جائز ہیں‘

اسے اتفاق کہیئے کے اسی روز اس صفحہ پر صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو کی ایک مسجد کے پیش امام حافظ راضی محمد کا بیان بھی جنرل مشرف کے بیان کے نیچے شائع ہوا۔ حافظ راضی کہتے ہیں: ’موجودہ حالات میں خود کش حملے بالکل جائز ہیں۔ جولوگ جان دے رہے ہیں ان کے پاس میزائل، بی باون بمبار طیاروں اور راکٹوں کا مقابلہ کرنے لیے کیا ہے؟ خودکش حملے ہی ان جدید ہتھیاروں کا توڑ اور امریکی، برطانوی افواج کے بے رحمانہ حملوں کے خلاف اپنا دفاع ہے۔‘

جہاد، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے معاملے میں جنرل مشرف کے خیالات ڈھکے چھپے نہیں۔ تاہم اس بار انہوں نے ان کا اظہار ایسے لوگوں کی مجلس میں کیا جو اپنے مقلدین اور پیروکاروں کو جہاد کا ہی درس دیتے رہے ہیں، چاہے وہ نفس کے خلاف ہو یا دشمن کے خلاف۔

علماء و مشائخ کانفرنس کی بنیاد پاکستان کے ایک اور سابق ’فوجی‘ صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے ڈالی تھی۔ اور یہ وہ زمانہ تھا جب افغانستان میں خانہ جنگی چِھڑ چکی تھی اور اس وقت کی کمیونسٹ افغان حکومت سویت یونین کی افواج کو ایک معاہدے کے تحت ملک کا دفاع کرنے کی دعوت دے چکی تھی۔ مغربی طاقتیں اور حکومت پاکستان لوگوں کو یہ تاثر دے رہے تھے کہ روس بحیرۂ عرب کے گرم پانیوں تک رسائی چاہتا ہے اور افغانستان کے بعد پاکستان کی باری ہے۔ لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو پاکستان کی سرزمین پر جگہ دی گئی اور پاکستانی عوام سے کہا گیا کہ وہ اپنا دل کشادہ رکھیں کہ افغان، پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس آتش میں بے خطر کود پڑنے کے پاکستانی معاشرے پر جو انمنٹ اثرات پڑے وہ ایک الگ موضوع ہے۔

مغربی خزانوں کے منہ کھل گئے۔ اس زمانے میں جنرلوں اور اعلی حکام کا تو پتہ نہیں البتہ میرے ایک شناسا جو افغان پناہ گزینوں کے محکمۂ میں کلرک تھے ان کے گھر میں سالن پر ہمیشہ اس تیل کا تڑکا لگتا تھا جو ان پناہ گزینوں کے لئے آتا تھا۔ بعد میں یہ بھی کہا گیا کہ سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو کی حکومت کا تختہ اوجڑی کیمپ کے ’حادثہ‘ نے کیا۔

غرض اس وقت کی فوجی حکومت نے ہر طرح سے افغان جنگ کی حمایت کی۔ اور تو اور افغان ’جہاد‘ سے متعلق پاکستان ٹیلی وژن کے ایک ڈرامے ’پناہ‘ کی اتنی تشہیر کی گئی کہ جیسے یہ کوئی مذہبی فریضہ ہو۔ ایسے میں امریکی فلمی صنعت ہالی ووڈ بھی کسی سے پیچھے کیوں رہتی۔ اداکار سِلویسٹر سٹیلون ریمبو تھری میں مجاہدین یا فریڈم فائٹرز کے شانہ بہ شانہ لڑتے نظر آتے ہیں۔

تاہم اسّی کے عشرے میں ’روسی جارحیت کے خلاف جہاد افغانستان‘ سے لے کر اس صدی کے آغاز پر ’دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ‘ میں افغانستان پر حملے تک مغرب اور پاکستان میں سرکاری سطح پر مختلف الفاظ اور اصطلاحات نے کئی لبادے اوڑھے اور کئی معنی اختیار کیے۔ کل کے فریڈم فائٹرز اور مجاہد پہلے طالبان بنے اور پھر رفتہ رفتہ انتہاپسند اور پھر دہشت گرد کہلائے۔

سرکاری سطح پر تو پالیسیاں بدلا کرتی ہیں اور اکثر حکومتیں اپنی قلابازیوں کو ’ملکی اور قومی‘ مفاد میں قرار دے کر اپنے تھوکے کو چاٹنے کی توضیح بھی پیش کر دیتی ہیں۔

لیکن مجھے فکر ان علماء اور مشائخ کی ہے جو پاکستان کی ہر مسجد میں جمعہ اور عید کی نماز کے بعد اجتماعی دعاؤں میں ’افغان مجاہدین‘، ’کشمیری مجاہدین‘ (واضح رہے کہ افغانستان سے روسی افواج کے انخلاء کے بعد یہ اصطلاح وجود میں آئی)، فلسطینی مسلمانوں اور عالم اسلام کی کامیابی اور سرخروئی کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔

اس تقریب میں شریک علماء و مشائخ کا جوش و جذبہ ریڈیو پر جتنا شنیدنی تھا اس سے زیادہ دیدنی رہا ہوگا۔ جنرل مشرف کی تقریر کے دوران بار بار اللہ اکبر کے پُرجوش نعروں سے بالکل واضح تھا کہ شرکاء جنرل مشرف کے ہر لفظ پر امنّا و صدقنا اور تائید کی مہر ثبت کر رہے ہیں۔

عام پاکستانی پر فوج اور علماء و مشائخ کی اس ہم آہنگی کا جو بھی اثر ہو اور یہ لوگ اپنے پیروکاروں کو جیسے بھی ’جہاد‘ کا وہ سبق فراموش کروائیں جو وہ انہیں دو عشروں تک دیتے رہے، اس تمام صورتحال میں ایک بات ابھر کر سامنے آتی ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے ’محافظوں‘ اور اسلام کے ’پاسبانوں‘ کے مابین سن اسّی کی دہائی میں جو رشتہ و تعلق تھا وہ سن دو ہزار چار میں پہنچ کر اور بھی مستحکم ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد