’جہاد کی اجازت نہیں دیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ کسی مذ ہبی اور سیاسی جماعت کو ملک میں جہاد کا نعرہ لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسلام آباد میں سالانہ علماو مشائخ کانفرنسں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاد کا اعلان صرف حکومتِ وقت کر سکتی اور کسی گروہ یا شخص کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ لوگوں کو جہاد پر اکسانے یا انہیں جہاد پر لے کر جائے۔ علماء مشائخ کانفرنس میں جس کی روایت جنرل ضیا کے دور میں رکھی گئی تھی ملک بھر سے غیر سیاسی مذہبی رہنماوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہاں سے انتہاہ پسندی کو ہوا دی جائے اور یہاں لوگوں کو جہادپراکسایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ یہ ایک انتہا پسند ملک ہے اور یہاں سے نہ صرف کشمیر اور افغانستان میں شورش کو ہوا دی جارہی ہے بلکہ کئی اور ممالک میں بھی لوگوں کو جہاد کے نام پر بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاثر کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک انتہا پسند اور دہشت گرد ملک ہے۔ صدر مشرف نے علماء سے کہا کہ وہ فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خلاف جاری حکومت کی پالیسی کی حمائت کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||