’خودکش حملے جائز ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
موجودہ حالات میں خود کش حملے بالکل جائز ہیں۔ جولوگ جان دے رہےہیں ان کے پاس میزائل، بی باون بمبار طیاروں اور راکٹوں کا مقابلہ کرنے لیے کیا ہے؟ خودکش حملے ہی ان جدید ہتھیاروں کا توڑ اور امریکی، برطانوی افواج کے بے رحمانہ حملوں کے خلاف اپنا دفاع ہے۔ مسلمان آج ہر جگہ مار کھارہاہے، فلسطین ہو، کشمیر، عراق یا افغانستان ان پر ہر طرف سے مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور اس کے اسباب بھی عالم اسلام اور امت مسلمہ میں نفاق اور بے اتفاقی ہیں۔ میرا تعلق کوہاٹ سے ہے۔ میری عمر اس وقت چوبیس سال ہے۔ ابتدائی تعلیم میں نے چنسا غنڈہ سے حاصل کی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں قرآن حفظ کیا جس کے بعد میں نے حدیث کی تعلیم حاصل کرنے کے کیے بڑا ’دورہ حدیث‘ کیا۔ یوں تو علم ایک سمندر ہے لیکن عام طورپر بڑا عا لم بننے کے لیے آٹھ درجے تعلیم حاصل کی جاتی ہے جس میں سے تین درجے میں حاصل کرچکا ہوں جبکہ مزید تعلیم کے لیے میں ابھی پڑھ رہاہوں اور ساتھ ساتھ مسجد البلال میں امامت کے فرائض بھی سرانجام دے رہاہوں۔ بچپن سے مجھے سکول جانے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ والد صاحب نے مجھے سکول میں داخل کیا لیکن میں چوتھی جماعت میں سکول سے بھاگ گیا۔ میں سکول میں بہت کمزور تھا، اکثر اوقات اساتذہ سے مار پڑتی تھی۔ جب میں چودہ برس کا ہوا تو میں نے تبلیغی جماعت والوں کے ساتھ تین دن لگا ئے۔ وہاں سے واپسی پر میری زندگی میں ایک انقلاب آچکا تھا۔ اس کے بعد میں مدرسے میں داخل ہوگیا اور تقربناً چار پانچ سال میں قران پاک حفظ کیا- گو کہ میں سکول کی تعلیم میں کمزور رہا اور شروع میں حفظ کرنے میں بھی مجھے دقت کا سامنا رہا لیکن قرآن کریم کو سینے میں اتارنے کے بعد میرا حافظ اتنا تیز ہوگیا کہ اب میں خود بھی حیران ہوتا ہوں۔
میرا تعلق ایک غریب فیملی سے ہے۔ میرے والد صاصب کی خواہش تھی کہ میں حفظ کروں اور بڑاعالم بنوں۔ حفظ اور کچھ علم حاصل کرنے کے بعد میں نے مسجد البلال ہنگو میں نو سو روپے ماہوارتنخواہ پرامامت شروع کی۔ چونکہ میری تنخواہ بہت کم اور مشکلات زیادہ تھیں، اس وجہ سےایک سال کے بعد امامت عارضی طور پر چھوڑ کر میں لاہور کی طرف نکل گیا اور وہاں پر خواتین کے سکول میں تین ہزار روپے مہینے کے تنخواہ پر چوکیداری کی نوکری شروع کر دی۔ یہاں پر میری تنخواہ ٹھیک تھی اور سکول کا مالک بھی میرے ساتھ بہت اچھا تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہ عورتوں کا سکول تھا اور میرے سینے میں قرآن مجید تھا۔ اس کے علاوہ اکثر اوقات لڑکیوں پر نظر پڑتی تھی۔ خواتین کا سکول تھا اور ہر طرف لڑکیاں ہی لڑکیاں ہوتی تھیں۔ میرا ضمیر یہ گوارہ نہیں کرتا تھا کہ مقدس کلام کو سینے میں لیے خواتین کے درمیان رہوں۔ میں یہ مقدس کتاب کی بے حرمتی سمجتھا تھا سو ایک مہینےکے بعد سکول کی نوکری چھوڑ کر واپس ہنگو آیا اور مسجد البلال میں اسی نو سو روپے ماہوار تنخواہ پر دوبارہ امامت شروع کر دی۔ یہ تنخواہ ہر لحاظ سے کم ہے لیکن ایک تو میری کوئی دنیاوی خواہش نہیں اور پھر اہم بات یہ ہے کہ یہ نوکری تھوڑی ہے، یہ تو ایک مشن ہے، دین کی خدمت ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جس کے تحت میں ایک پرسکون اور پریشانیوں سے آزاد زندگی گزار رہا ہوں۔
انیس سو ننانوے میں میری شادی ہوئی۔ اب میری ایک بچی ہے۔ ہم کل سات بہن بھائی ہیں جن میں میرا تیسرا نمبرہے۔ دنیا میں لوگوں کی بڑی بڑی آرزوئیں اور خواہشات ہوتی ہیں کہ بنگلہ ہو، گاڑی ہو، بینک بیلنس ہو، لیکن میری کوئی بڑی خواہش نہیں ہے۔ میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ موت سے پہلے پہلے علم مکمل کروں اور ماں باپ کیساتھ حج بیت اللہ کی سعادت کرسکوں۔ میں دنیاوی یا انگریزی تعلیم تو حاصل نہ کرسکا لیکن اب مجھے اس کا شدید احساس ہوتا ہے۔ دینی تعلیم کیساتھ ساتھ انگریزی علم بھی ضروری ہوگیا ہے۔ ہمارے مدرسوں میں بھی انگریزی تعلیم رائج ہونی چاہیے بلکہ اب تو جو نئے مدرسے بن رہے ہیں ان میں دنیاوی تعلیم بھی دی جارہی ہے۔ اگر ہم نے انگریزوں اور مغربی دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو دینی تعلیم کے ساتھ ہمیں انگریزی تعلیم پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ رہائش کے لیے مجھے مسجد کے ساتھ واقع ایک کمرہ دیاگیاہے۔ میری فیملی میرے ساتھ نہیں۔ تنخواہ کے علاوہ عیدین کے موقع پرگاؤں والوں کی طرف سے چندہ بھی دیاجاتا ہے اور عید الضحٰی کے موقع پر قربانی کی کھالیں بھی ملتی ہیں۔ علاج معالجے کے لیے پیسےنہیں ملتے جو میں خود اپنے جیب سے ادا کرتاہوں جبکہ کھانے پینے کے انتظامات گاؤں والوں کے طرف سے ہیں۔ تاہم ان تمام مشکلات کے باوجود اللہ تعالٰی کا بڑا فضل ہے کہ میرا گزارہ اچھی طرح ہورہاہے اور میں ایک اطمینان بخش زندگی گزار رہاہوں۔
اصل میں دنیا ہمارا مقصد نہیں میری ساری توجہ دین کی جانب ہے۔ میں نے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا اور جب بھی مجھے کسی چیز کی ضرورت محسوس ہوئی خدا تعالٰی نے اپنے غیبی خزانوں سے میری مراد پوری کی۔ ان نوسو روپوں میں اتنی برکت ہے کہ گھر کے اخرجات چلانے کے بعد بھی بعض اوقات ان میں سے کچھ رقم بچ جاتی ہیں۔ حالانکہ یہ نہ ماننے والی بات ہے لیکن آپ یقین کریں کہ ایسا ہی ہے۔ میرے خیال میں اگر خدا کی ذات پر دل سے یقین کر لیا جائے تو دنیا کے سارے مسائل پر قابو پانا آسان ہوجاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالٰی پر یقین نہیں اور یہی ہماری ناکامی کی وجہ بھی ہے۔ نوٹ: مولانا حافظ راضی محمد نے یہ گفتگو ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے کی۔ آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمیں لکھ کر بھیج سکتے ہیں، ہمیں ضرور شائع کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||