BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 January, 2004, 16:25 GMT 21:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میری ڈائری: مرد زدہ معاشرہ؟

مسز روبینہ منیر
خواتین کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے
میرا تعلق پشاور شہر کے علاقہ کاکشال سے ہے۔ میں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نبات سے حاصل کی اور بی اے کی ڈگری الزبیتھ کالج پشاور سے کرنے کے بعد پی ٹی سی کا کورس کیا۔

اس کے علاوہ میں نے ٹیچنگ کے متعدد کورس کئے۔ پڑھانے کا شوق مجھے بچپن سے تھا کیونکہ میں اسکول میں ہیڈ گرل تھی اور جب کوئی استانی نہیں ہوتی تھی تو اساتذہ مجھے ساتھی طلبا کو درس دینے کے لئے کہتے۔ اسی طرح مجھے شوق ہوا اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں بھی اس شعبہ سے منسلک ہوگئی۔

بحیثیت استانی مجھے اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینے میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں ہوا۔ ہمارے سکول میں مخلوط تعلیم دی جاتی ہے۔ لڑکے لڑکیاں اکٹھے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

میری شادی 1995 میں ہوئی اور میرے شوہر بھی استاد ہیں اور تعلیم کے شعبے سے ہی منسلک ہیں۔ ان کی طرف سے میرے اوپر کوئی پابندی نہیں ہے۔ میرے دو بچے ہیں۔ چونکہ ہم جوائینٹ فیملی میں رہتے ہیں اسی وجہ سے مجھے اپنے بچوں کی پرورش کے سلسلے میں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں ہے۔

یہ حقیقیت ہے؟
 اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ہمارا معاشرہ مرد زدہ معاشرہ ہے اور مردوں ہی کو سیاہ و سفید کا مالک سمجھا جاتا ہے۔
مسز روبینہ منیر

خواتین کے لیے پڑھانے سے بہتر اور کوئی شعبہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اس میں آپ بچوں کی تربیت کے علاوہ گھر کے کام کاج کے لیے بھی باآسانی وقت نکال سکتے ہیں دو بجے کے بعد سکول بند ہو جاتا ہے اور اس کے بعد کافی وقت ہوتا ہے۔ خواتین کے لیے ٹیچنگ بہترین شعبہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس شعبے میں خواتین کی تعداد خاصی زیادہ ہے۔

تعلیم حاصل کرنا خواتین کے لیے اس لیے بھی ضروری ہوگیا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں وہ عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ زندگی میں ہر قسم کے واقعات سے نمٹنا پڑتا ہے۔ لہذا کسی بھی ممکنہ خطرہ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر وقت تیار ہوں۔

مرد کو سب کچھ کرنے کا اختیار ہے جبکہ عورت اس سلسلے میں بالکل بے بس ہے۔ اگر مرد کو چار شادیاں کرنے کا حق ہے تو پھر عورت کو بھی کچھ تحفظ ملنا چاہیے۔ اگر خاتون اپاہج یا معزور ہوگئی ہے یا اگر اسے کے بچے نہیں ہیں تو اس صورت میں مرد اگر شادی کرے تو کوئی صورت بنتی ہے لیکن اگر عورت کے بچے بھی ہیں اور ان کو کوئی مسئلہ بھی نہیں تو ان حالات میں دوسری شادی پہلی بیوی سے زیادتی کے مترادف ہے۔

میری رائے میں خواتین کو قانونی طور پر اپنی پسند کی شادی کرنے کا حق دینا چاہیے کیونکہ اسلام بھی اس کی اجازت دیتا ہے کہ شادی سے پہلے لڑکے لڑکی کو ایک دوسرے کو دیکھنا چاہیے۔

پسند کی شادی
 خواتین کو قانونی طور پر اپنی پسند کی شادی کرنے کا حق دینا چاہیے۔
مسز روبینہ منیر

عورت کو اس قدر آزادی بھی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اپنی من مانی کرے لیکن اسے اتنا پابند بھی نہ بنایا جائے کہ وہ گھربار چھوڑ کر بھاگ جائے اور خاندان کی بدنامی کا باعث بنے۔

جس طرح خدا نے ہر چیز میں توزان رکھا ہے اسی طرح خواتین کے حقوق کے حوالے سے بھی ضابطوں میں توازن ملحوظ رکھنا چاہیے۔

پاکستان میں خواتین کو ہر لحاظ سے بے پناہ مسائل کا سامنا ہے جس کو دور کرنا اب وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔

مرد اور عورت تو گاڑی کے دو پہیے ہیں اور موجودہ دور میں ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ہمارا معاشرہ مرد زدہ معاشرہ ہے اور مردوں ہی کو سیاہ و سفید کا مالک سمجھا جاتا ہے۔

اب حالات تبدیل ہوگئے ہیں خواتین تعلیم یافتہ ہوگئی ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی سے ناطہ کیوں توڑ دیا جاتا ہے؟ یہ تو سراسر زیادتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں نسل بیٹے سے چلتی ہے جو سراسر ناانصافی ہے کیونکہ بیٹے نے بھی کسی عورت کی ہی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ عورت پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ بیٹا پیدا کرو ورنہ دوسری شادی کی جائے گی۔ اب اس میں خواتین کا کیا قصور ہے کیونکہ بیٹی یا بیٹے کا پیدا ہونا تو خدا کے ہاتھ میں ہے۔

طلاق کو کھیل بنا دیا گیا ہے اور مرد اس کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں خواتین کو بھی کچھ تحفظ حاصل ہونا چاہیے اور عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین کا بھی خاتمہ ضروری ہے۔

پارلمینٹ اور مقامی حکومتوں میں خواتین کے آنے سے ان کے مسائل بالکل ختم تو نہیں ہوئے لیکن ان کے حل کے لیے راہ ضرور ہموار ہوئی ہے اور مستقبل میں اس کے دور رس نتائج برامد ہوں گے۔

سرحد میں مذہبی جماعتوں کے حکومت کے آنے سے کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوا خصوصاً خواتین کے حوالے سے۔ البتہ ایسی خبریں منظر عام پر ضرور آتی رہی ہیں کہ سائن بورڈز پر سے خواتین کی تصاویر ہٹائی جا رہی ہیں۔


نوٹ: مسز روبینہ منیر نے یہ گفتگو ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے کی۔ اگر آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمارے قارئین تک پہنچانا چاہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد