ڈائری: حدود آرڈیننس کا غلط استعمال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حدود آرڈیننس کو خواتین کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے، ایک فوجی آمر کے ہاتھوں مرتب کردہ یہ قانون عورت کے آزادی کے خلاف ہے اور اس کی وجہ سے ہزاروں خواتین جیل کی کالی کوٹھڑیوں میں سڑ رہی ہیں- یہ بات کسی بھی جگہ ثابت نہیں ہوئی کہ یہ حدود اللہ تعالی کے ’حدود‘ ہیں۔ اس بات کا تذکرہ قرآن وحدیث کے کتابوں میں کہیں بھی نہیں، یہ تو بعض مفادپرست عناصر ہیں جنہوں نے اس چیز کو قرآن وحدیث سے جوڑدیا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اگر کسی خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے تو حدود آرڈیننس کے مطابق وہ اپنی بےگناہی ثابت کرنے اور ملزمان کے خلاف کارروائی کے لئے چارگواہوں کو عدالت میں پیش کرےگی کہ ہاں اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے؟ چلئے یہ بھی چھوڑ دیں چند ماہ بعد جب وہ عورت حاملہ ہوگی تو اپنی بدنامی کا داغ کس کے پاس لیکر جـائیگی؟ حدود آرڈیننس تو غریب اور لاچار خواتین کے خلاف استعمال ہورہاہے- اس کا ازسرنو جـائزہ لینا چاہئے اور اس میں ضروری ترامیم وقت کی ضرورت ہے- متحدہ مجلس عمل کی حکومت مجوزہ حسبہ ایکٹ کے ذریعے سے خواتین کی آزادی کو سلب کرنا چاہتی ہے کیونکہ اس کے مطابق ایک ڈنڈا بردار فورس تشکیل دی جائیگی جس کو اختیار حاصل ہوگا کہ کسی خاتون کو پبلک اسپاٹ یا پارک وغیرہ میں اکیلا دیکھ کر ان کو گرفتار کرے- یہ فورس دفاتر پربھی چھاپے مارسکے گی۔
میری پیدائش ضلع نوشہرہ کے گاؤں ترخہ میں ہوئی اور وہیں پر پرائمری تک پڑھی جس کے بعد مزید تعلیم کے لئے پشاور آگئی۔ ایف اے میں نے پشاور سے کیا، اس کے بعد 1978 میں میری شادی ہوگئی- اس وقت میری عمر چوالیس سال ہے- میری پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں- میرے شوہر قیصرخان پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں، وہ سیاست دان بھی ہیں اس وقت وہ پاکستان انڈیا پیپلزفورم کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ مجھے بچپن سے سیاست سے ایک دلی لگاؤ تھا۔ میں نے نویں کلاس میں ہیڈگرل کے انتخابات جیتے۔ میرے دادا بھی سیاستدان تھے، انہوں نے ایوب خان کے دور میں بی ڈی کے انتخابات جیتے تھے۔ 2001 میں ملک میں لوکل گورنمنٹ کا ایک نیا نظام متعارف کرایا گیا جس میں عورتوں کو مناسب نمائندگی دی گئی۔ میں نے بھی کونسلر کا انتخاب لڑا اور منتخب ہوگئی، بعد ازاں میں نے ضلع کونسل پشاور کے انتخاب میں حصہ لیا جس میں اکیس یونین کونسلروں نے ووٹ ڈالے اور میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئی۔ میں گزشتہ بیس سال 20 سے خواتین کی سیاست سے منسلک ہوں۔ پہلے ہم پشاور میں کسی تقریب میں جاتے تو بمشکل ایک دو خواتین ہوتی تھیں لیکن مقامی حکومتوں میں خواتین کے آنے سے اب ہر جگہ ان کی تعداد زیادہ ہوئی ہے- اِس وقت تقریبا بارہ مختلف غیرسرکاری ادارے خواتین کونسلروں کی تربیت میں لگے ہوئے ہیں اور یہ اچھا شگون ہے، اس سے عورتوں کے مسائل حل ہونے میں مدد ملے گی۔ خواتین کونسلروں کی تعلیم اتنی زیادہ نہیں لیکن ان این جی اوز کے توسط سے وہ اس قابل ہوگئیں ہیں کہ اپنے حقوق سے تھوڑی بہت آگاہی حاصل کر لی ہے- پاکستان میں سیاست پیسے کے بغیر نہیں ہوسکتی- قومی، صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبرشپ پیسوں کے بغیر ممکن نہیں- ہم جس لیول سے متخب ہوکر آئے ہیں وہ نچلی سطح ہے جہاں سے تمام متوسط طبقہ کے لوگ آتے ہیں- ہمارے معاشرے میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو سیاست صرف خدمت کے جذبے کے تحت کرتے ہیں، ورنہ یہاں تو سارا کھیل مفادات حاصل کرنے کا ہے- میں اور میرے شوہر نے ساری زندگی سیاست کو عبادت سمجھ کر کیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہم کرائے کے مکان میں رہ رہے ہیں، ہمارا اپنا گھربھی نہیں۔
پاکستان میں عورتوں کا ایک مسئلہ تو ہے نہیں کہ اس پر بات کی جائے، یہاں پر تو لاتعداد مسائل ہیں جن میں جہالت سب سے اہم ہے۔ عورت کہیں بھی محفوظ نہیں، سب ان کو عجیب عجیب نظروں سے گھورتے ہیں چاہے وہ بازار میں ہوں، کسی تقریب میں، یا کسی اور جگہ۔ مقامی حکومتوں اور پارلیمنٹ میں بھاری تعداد میں آنے سے اب خواتین کو تھوڑی بہت اہمیت دی جارہی ہے جو ایک اچھی تبدیلی ہے اور آ ئندہ چند سالوں میں اس سلسلے میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں- حکومت عورتوں کو جب تک معاشرے کا اہم حصہ تصور نہیں کرتی جس طرح مردوں کو اہمیت دی جاتی ہیں اس وقت تک ان کے خلاف ہونے والی تشدد کی کاروائیاں ختم نہیں ہوسکتی- میرے پڑوس میں ایک خاتون رہتی تھیں جس کا خاوند گرم لوہے سے داغتا تھا اور بچوں کو بھی مارتا تھا- اکیسویں صدی میں اس قسم کا تشدد ناقابل برداشت ہے- میری زندگی میں کوئی بڑی خواہش نہں رہی- میرے سات بچے ہیں جن میں پانچ لڑکیاں اور دو بیٹے ہیں- دو بڑی بیٹیوں نے انگریزی ادب میں ماسڑکیا ہے اور باقی ابھی پڑھ رہی ہیں اور بیٹے بھی زیر تعلیم ہیں- میری سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ میرے بچے اعلی تعلیم حاصل کریں اور معاشرے میں نام پیدا کریں- ایم ایم اے والے طالبان طرز کی حکومت بنانا چاہتے ہیں وہ چاہتے کہ خواتین چاردیواری کے اندر محکوم رہے- اگر پچپن سال سے مخلوط طریقہ تعلیم رائج ہے تو اب اس کو کیا خطرات لاحق ہیں کہ متحدہ مجلس عمل اس پر پابندی کی بات کرتی ہے؟ خواتین کو وراثت میں بھی حصہ ملنا چاہئے جو ان کا بنیادی حق ہے- نوٹ: شمیم قیصر خان نے یہ گفتگو ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے کی۔ اگر آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمارے قارئین تک پہنچانا چاہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||