| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عورت کہانی: زندگی میں انقلاب
میری زندگی میں اس وقت انقلاب آیا جب میں نے جماعت اسلامی کی تنظیم ’حلقۂِ خواتین‘ میں شمولیت اختیار کی۔ سولہ سال پہلے میری شادی ہوئی اور اس کے بعد میری زندگی تبدیل آنا شروع ہوئی۔ ویسے بنیادی طور پر میں نے ایک سیاسی خاندان میں آنکھ کھولی کیونکہ میرے دادا، والد اور چچا نے اپنے وقت میں جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست میں حصہ لیا۔ میری شادی بھی ایک سیاستدان سے ہوئی اسی وجہ سے بیاہ ہونے کے بعد میں حلقہ خواتین کی تنظیم سےعملی طور پر وابستہ ہوگئی۔ میرے شوہر ڈاکٹر اقبال خلیل ضلع پشاور کے ضلعی نائب ناظم اعلی ہیں۔ اس وقت میری عمر چالیس سال ہے۔ میری پیدائش ضلع صوابی کے گا ؤں جہانگیرہ میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم بھی میں نے وہیں سے حاصل کی۔ میٹرک ضلع نوشہرہ جبکہ بی اے میں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے کیا۔ اس کے بعد میں نے پشاور یونیورسٹی سے عربی کے مضمون میں ما سٹرزکی ڈگری لی۔
شادی سے پہلے میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں بھی کبھی اس طرع عملی سیاست میں قدم رکھوں گی لیکن حلقۂِ خواتین سے منسلک رہنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ عورتوں کا سیاست میں آنا کتنا ضروری ہوگیا ہے۔ حلقۂِ خواتین ھر لحاظ سے ایک فعال تنظیم ہے جو سا لہا سال متحرک ہے۔ یہ ایک این جی او کی مانند ہے جو مختلف قسم کے پرا جیکٹس چلا رہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کو کئی قسم کے بڑے مسا ئل کا سامنا ہے اور پھر پختون معاشرے میں تو یہ اور بھی زیادہ ہے لیکن ان مسا ئل کو عورتیں ہی بہتر طریقے سے سمجھ سکتی ہیں اور اس کا حل تلاش کرنے میں بھی خوا تین ہی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ صوبۂِ سرحد میں مجلس عمل کی حکومت آنے کے بعد خواتین پر پابندیاں لگ گئیں ہیں اور انہیں چاردیواری کے اندر قید کر دیا گیا ہے۔ میرے خیال میں وہ اپنے روز مرہ امور کو نمٹانے کے سلسلے میں پہلے کی طرح اب بھی نقل و حمل میں پوری طرح آزاد ہیں۔ یہ تو مغربی ممالک کا پروپیگنڈہ ہے جو ہماری حکومت کو بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ میں دعوےسے کہتی ہوں کہ ہماری حکومت نے ایک سال کی قلیل مدت میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے جو کام کیا ہے وہ پہلے کسی حکومت نے نہیں کیا۔ شریعت بل کے نفاذ کے بعد ہماری حکومت نے پہلی دفعہ غیرت کے نام پر ہونے والے ’قتل‘ کو قتل قرار دیکر اس کی آڑ میں عورتوں کے خلاف تشدد کی کاروائیوں کو باقاعدہ جرم قرار دیا۔ ’سورہ‘ جو ہمارے پختون معاشرے کی ایک پرانی رسم سمجھی جاتی ہے لیکن اس میں عورت کو باہمی دشمنیوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ اس رسم میں عورت کو دشمن کے گھر خون بہا کے طور پر بیاہ دیا جاتاہے لیکن ہماری حکومت نے اس جا ہلانہ رسم پر مکمل پابندی عائد کرکے دیہی علاقوں میں اس کا نشانہ بننے والی خواتین کو تحفظ فراہم کردیا ہے۔ اس کے علاوہ ’طلاق مغلذہ‘ یعنی ایک ہی دن تین طلاقیں دیکر عورت کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ناطہ توڑدینے کے عمل کو بھی جرم قرار دیا۔ ایم ایم اے کی حکومت نے سرحد میں پرائمری تک مفت تعلیم دینے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ صوبائی حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ جو والدین بچوں کو سکول نہیں بھیجتےان کے خلاف کسی طرح قانونی کاروائی کی جائے تاکہ کوئی بچہ بھی بنیادی تعلیم سے محروم نہ رہے۔
ہمارا ملک تعلیم میں بہت پیچھے ہے بالخصوص عورتیں تو اس زیور سے زیادہ ہی محروم ہیں حالانکہ بحثیت ماں، بیوی، بیٹی اور بہن ان کو تعلیم کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ہم مخلوط تعلیم کے مخالف ضرور ہیں لیکن جب تک کوئی متبادل بندوبست نہیں ہوتا ہم اس پر پابندی کے حق میں بھی نہیں۔ آپ یورپی ممالک اور پڑوسی ملک ہندوستان میں دیکھیں تو وہاں پر بھی عورتوں کے لئے الگ الگ یونیورسٹیاں قائم ہیں اور ویسے بھی یہ فطرت کا تقاضہ ہے کہ لڑکیاں اپنے ماحول میں رہ کر جتنی اچھی طرح پڑھ سکتی ہیں وہ لڑکوں کے درمیان رہ کر نہیں کرسکتیں۔ اس بات میں بھی کوئی حقیقت نہیں کہ ایم ایم اے کے اہم رہنما مولانا فضل الرحمان اور قاضی حسین احمد نے قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کے لئےمخصوص نشستوں پر اپنے رشتہ داروں کو ٹکٹ دیکر ممبر بنوایا۔ جماعت اسلامی نے جن خواتین کو ٹکٹ دیئےتھیں وہ سب کی سب ان کی حقدار تھیں۔ ان میں ایک قاضی حسین احمد کی بیٹی بھی ہے لیکن ان کا ریکارڈ ہے کہ وہ گزشتہ بیس سال سے حلقۂِ خواتین سے منسلک ہیں اور میں بھی سولہ سال سے کام کررہی ہوں۔ زندگی میں میری کوئی اتنی بڑی خوائش نہیں رہی ہاں البتہ یہ آرزو ہے کہ خدا تعالی نے میرے اوپر جو ذمہ داری ڈالی ہے ان کو ایمانداری سے ادا کرسکوں اور حقدار کو ان کا حق دلاسکوں۔ نوٹ: زبیدہ خاتون نے یہ گفتگو ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے کی۔ اگر آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمارے قارئین تک پہنچانا چاہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||