القاعدہ کی تلاش  | | قبائلی علاقوں میں فوج القاعدہ کی تلاش میں کارروائی کرتی رہی ہے | |
پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں پاکستانی فوج نے مشتبہ افراد کی تلاش میں ایک بار پھر کارروائی کی ہے جس کے دوران کئی فوجی مارے گئے ہیں اور ایک فوجی کیمپ پر راکٹ داغے گئے ہیں۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی صحافی ایلیا حیدر نے وانا کے علاقے میں وزیر قبیلے کے سربراہ ملک حاجی میر زالم خان سے اس بارے میں گفتگو کی۔ ایلیا حیدر: حاجی صاحب آپ کے علاقے میں کیا ہورہا ہے؟ ملک حاجی میر زال خان: سنا تھا کہ وانا میں کلوسہ کے علاقے میں کچھ القاعدہ کے لوگ ہیں، حکومت نے رات کو فوج ڈال دیا اور آپریشن شروع کردیا۔ اس میں کچھ نہ مل سکا۔ اس میں تین کوٹیں (قلعہ نما عمارتیں) مسمار ہوگئیں جس میں شک تھا کہ القاعدہ کے لوگ ہونگے۔ ایلیا: آپ اس علاقے کے سردار ہیں، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہاں پر مشتبہ افراد ہیں جو اس طرح کی مشتبہ کارروائیوں میں ملوث ہیں؟ حاجی: اگر کوئی ہوتا، تو اتنی بڑی کارروائی ہوئی، تیس سے پینتیس ہیلی کاپٹر تھے، کم سے کم چار پانچ ہیلی کاپٹر استعمال ہورہے تھے، باقی بیٹھے ہوئے تھے، تو اس میں کچھ نہ کچھ قتل ہوجاتا، یا حملہ کرتا، یا پکڑلیا جاتا، لیکن اس میں کچھ بھی نہیں ہوا۔ ایلیا: تو اس کا کیا مطلب ہے؟ حاجی: میں نے آپ کو کہہ دیا کہ جن جہگوں پر ان کو شک تھا۔۔۔ لیکن القاعدہ نہیں تھا، گورنمنٹ کو یہ شک تھا کہ شاید کلوسہ میں القاعدہ ہے۔ ایلیا: آپ کی نظر میں اس شک کی کیا وجہ ہے؟ کس بنیاد پر آپریشن آپ کے علاقے میں کیا گیا؟ حاجی: اس علاقے میں گیارہ ایجنسیاں ہیں، باقی ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے کچھ ایسی شیطانی کی ہوگی، تو اسی وجہ سے آپریشن کردیا۔۔۔ ایجنسیوں نے خبر دی ہوگی، یا کسی جاسوس نے کچھ خبر دی ہوگی۔ ایلیا: حاجی صاحب، آپ کے قریبی قبائلی علاقوں میں مشتبہ افراد کی موجودگی کی کوئی اطلاعات ہیں؟ حاجی: نہیں، ہمیں کچھ اطلاعات نہیں ہیں۔ لیکن گورنمنٹ کو شک ہوتا ہے۔ اس طرح کی کارروائی کرتی ہے، جیسے پہلے بھی کیا تھا۔ لیکن اس وقت بھی کچھ بھی نہیں ملا تھا۔ ایلیا: قبائلی سرداروں اور حکومت کے درمیان بات چیت ہورہی تھی اور آپ لوگوں کو ڈیڈلائن دیا گیا تھا، تو آپ لوگوں نے حکومت کو بتایا کیوں نہیں کہ یہاں کچھ بھی نہیں ہے؟ حاجی: ڈیڈلائن آٹھ تاریخ تھا۔ حکومت کے ساتھ ہماری میٹنگ آٹھ تاریخ کو تھی۔ لیکن فوج نے سات تاریخ کی رات ہی آپریشن کردیا۔ ایلیا: آپ کے خیال میں فوج نے دھوکہ دیا ہے؟ حاجی: اس علاقے میں آپریشن سے پہلے قومی سرداروں یا قومی مالکان کو اعتماد میں لینا پڑتا ہے۔ پہلے وہ خود تلاش کرتے ہیں، اور اگر کچھ مل جاتا ہے تو اسے بتاتے ہیں۔۔۔ لیکن یہاں پہلی دفعہ پوچھ گچھ کے بغیر فوج کو ڈال دیا گیا۔۔۔۔ میں صبح نماز پڑھ کر مسجد سے واپس گھر آیا تو مجھے فون پر بتایا گیا کہ فون نے ڈیرے ڈال دیے ہیں، تو ہم روانہ ہوگئے، لیکن فوج کے نزدیک جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایلیا: آپ کا کہنا ہے کہ وہاں کوئی مشتبہ افراد نہیں ہیں؟ تو کارروائی کے دران کئی پاکستانی فوجی مارے گئے، وہ کس نے مارے؟ حاجی: ہمار گھر تو تقریبا پندرہ بیس کلومیٹر دور ہے۔ آج تمام گیٹیں بند تھیں۔ کچھ لوگوں کے کوٹیں (قلعہ نما عمارتیں) مسمار کردی گئی تھیں، شاید ان کے مالکان نے مارا ہوگا۔ ایلیا: اب کیا صورتحال ہے؟ حاجی: ابھی سب کچھ ٹھیک ہے، کل اس بارے میں جرگہ بلایا ہے، دس جنوری کو۔ ایلیا: کیا کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے مشتبہ افراد کو پناہ دی ہے؟ حاجی: نہیں، یہاں تو مشتبہ افراد ہیں نہیں۔ اگر ہوتے تو یہاں اتنا لوگ ہیں، کوئی نہ کوئی بتادیتا کہ القاعدہ کے لوگ ہیں۔ ایلیا: تو وانا کے علاقے میں ہی بار بار کارروائی کیوں ہوتی ہے؟ حاجی: افغانستان کے باؤنڈری لائن میں سکین کے مقام پر کچھ کارروائی ہوئی تھی، اس پر پاکستان نے بمباری کردی تھی، اس میں کچھ القاعدہ کے لوگ فوت ہوئے، کچھ پکڑے گئے، تو اسی وجہ سے یہ بار بار کارروائی ہوتی ہے کہ شاید کچھ لوگ ہوں۔ |