BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 December, 2003, 17:53 GMT 22:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میرا بچہ کیسا ہے؟

بےبسی کا احساس
بیوی بچے سے دوری انتہائی پریشانی کا باعث ہے

میری پیدائش تو کالا باغ ضلع میانوالی کی ہے لیکن میں نے اپنی ابتدائی تعلیم شیخوپورہ میں حاصل کی جہاں میرے والد کاروبار کے سلسلے میں آ کر بس گئے تھے۔ اس کے بعد میں نے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور اس کے بعد اسلام آباد کے ایک کمپیوٹر کالج میں ایم سی پی اور ایم سی ایس سی کے لئے داخلہ لے لیا۔

یہاں میری ملاقات نائلہ سے ہوئی جو بعد میں میری بیوی بنی۔ نائلہ کے والد پنجابی اور ماں ہسپانوی تھی اور وہ بیلجیئن شہری تھے۔ نائلہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ چکلالہ کے پاس رہتی تھی اور میرے ہی کالج میں تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ اسے انگریزی یا اردو بہت کم آتی تھی کیونکہ وہ بیلجیئم ہی میں پلی بڑھی تھی۔ ہوتے ہوتے ہماری ملاقاتیں بڑھکر محبت میں بدل گئیں۔

تعلیم کے بعد میں نے نادرہ کے ساتھ نیٹ ورک انجینیئر کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا لیکن مجھے اس سے بہتر مستقبل کی خواہش تھی۔ میرے مجبور کرنے پر میرے والد نے تین لاکھ روپے خرچ کرکے مجھے دوبئی کا تین سال کا ویزا دلا دیا اور میں نے وہاں جا کر ملازمت اختیار کر لی۔

میری نائلہ سے خط و کتابت جاری تھی۔ اس نے اپنے والدین کو بتا دیا تھا کہ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ مجھے دوبئی میں رہتے ہوئے چھ ماہ ہی ہوئے تھے کہ اس کے والدین دوبئی مجھ سے ملنے آئے اور وہ اس شرط پر ہماری شادی پر رضامند ہوگئے کہ نائلہ دوبئی آکر نہیں بسے گی بلکہ مجھ اس کے ساتھ بیلجیئم میں آ کر بسنا ہوگا۔ میرے والدین اس پر بالکل رضامند نہ تھے لیکن میں ان کا اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے انتہائی لاڈلا تھا اور پھر پاکستان کے حالات کی وجہ سے انہیں یہ بھی احساس تھا کہ شاید یہی مستقبل کے لئے اچھا ہو۔

لمحۂ فکریہ

 کیا ستمبر گیارہ کے واقعات کے بعد مسلمان اور پھر پاکستانی ہونے سے آپ انسان کے درجے سے نیچے چلے جاتے ہیں؟ کیا اس طرح لوگوں کے حقوق دبانے سے ہی ہم انسانی آزادی کی حفاظت کر سکتے ہیں؟

خالد عمران

یوں میں چھ ماہ بعد ہی پاکستان لوٹ آیا اور یہاں اسلام آباد اٹھائیس فروری دو ہزار تین کو ہماری شادی ہوگئی۔ شادی کے کچھ دنوں میں نائلہ امید سے ہوگئی لیکن یہاں اس کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ وہ یہاں کے ڈاکٹروں سے زیادہ خوش نہیں تھی اس لئے میں نے بیلجیئم کے لئے وزٹ ویزے کی درخواست دے دی۔ شروع میں ہمارا خیال تھا کہ مجھے ایک بیلجیئن شہری سے شادی کی بنیاد پر فیملی ویزا حاصل کرنا چاہئے لیکن ہمیں پتہ چلا کہ اسے حاصل کرنے میں گیارہ مہینے لگ سکتے ہیں۔ ہم نے درخواست دی اور انہیں ساری صورتِ حال سے مطلع کیا لیکن انہوں نے مجھے یہ کہتے ہوئے ویزا دینے سے انکار کر دیا کہ چونکہ میری بیوی یہیں میرے ساتھ ہے اس لئے مجھے فیملی ویزا حاصل کرنا ہوگا۔ دوسری طرف نائلہ کی طبیعت بہت خراب ہوتی جا رہی تھی اور اس کے والدین مسلسل فون کر رہے تھے کہ وہ بیلجیئم آجائے۔ ہم نے مل کر یہی فیصلہ کیا کہ وہ بیلجیئم جا کر ایک وکیل کی خدمات حاصل کرے اور میرے لئے کوشش کرے۔

یوں میری بیوی مجھ سے جدا ہوئی۔ وہاں جاکر اس نے عدالت سے رجوع کیا لیکن عدالت نے اس بنیاد پر مجھے ویزا دینے سے انکار کر دیا کہ چونکہ نائلہ برسرِ روزگار نہیں ہے تو وہ میری مالی اعانت نہیں کر پائے گی۔ ہمارا کہنا تھا کہ وہ امید سے ہے اور آخر وہ اس حالت میں کیسے کام کرسکتی ہے۔ اس اثنا میں زچہ وبچہ کی صحت کے حوالے سے کچھ پیچیدگیاں پیدا ہوگئیں اور ڈاکٹروں نے بھی یہی کہا کہ بچے کی پیدائش کے وقت میرا اپنی بیوی کے ہمراہ ہونا بہت ضروری ہے۔ لیکن پھر بھی مجھے ویزا نہیں دیا گیا۔

میں یہاں انتہائی پریشانی کا شکار رہا اور ہر وقت یہی خدشہ تھا کہ کہیں نائلہ کو کچھ نہ ہوجائے یا بچے کو کچھ نہ ہو جائے۔ مجھے زندگی میں اس قدر بے بسی کا احساس کبھی نہیں ہوا۔ خدا کا شکر ہے کہ بچہ خیریت کے ساتھ پیدا ہوا اور نائلہ بھی خیریت سے ہے۔ لیکن اسے دیکھے ہوئے مجھے چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور ابھی تک میں نے اپنے بچے کی شکل نہیں دیکھی۔ میرا سوال صرف یہی ہے کہ آخر ان تمام ممالک کو کیا ہو گیا ہے جو انسانی حقوق کے علم بردار سمجھے جاتے تھے؟ کیا ستمبر گیارہ کے واقعات کے بعد مسلمان اور پھر پاکستانی ہونے سے آپ انسان کے درجے سے نیچے چلے جاتے ہیں؟ کیا اس طرح لوگوں کے حقوق دبانے سے ہی ہم انسانی آزادی کی حفاظت کر سکتے ہیں۔


نوٹ: اس آپ بیتی کے راقم شیخوپورہ میں رہتے ہیں اور اپنے خاندان سے دور ان کے ساتھ جا کر بس سکنے کے حق کےلئے لڑ رہے ہیں۔ اگر آپ بھی ایسے ہی حالات سے دوچار ہیں یا کبھی رہے ہیں، تو ہمیں اپنی کہانی کم سے کم الفاظ میں لکھکر بھیجئے۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام نہیں شائع کریں گے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد