BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 November, 2003, 13:33 GMT 18:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی کی بیوہ کی روداد
شازیہ اعجاز
شازیہ اعجاز اپنے بچے زنون کے ساتھ

چھبیس سالہ شازیہ اعجاز پاکستان کی فوج کے ایک افسر میجر اعجاز قادر گلاب کی بیوہ ہیں۔ میجر اعجاز دو اگست سن دو ہزار دو میں متنازعہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول پر ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان ایک جھڑپ کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

میجر اعجاز جن کا تعلق مظفر آباد سے تھا، مظفرآباد کے شمال مشرق میں واقع وادیِ نیلم کے علاقے کیل میں تعینات تھے۔ اس واقعے سےصرف نو ماہ قبل چوبیس اکتوبر دو ہزار ایک کو ان کی شادی ہوئی تھی اور ان کی ہلاکت کے ایک ماہ بعد ان کی بیوہ نے ایک بچے کو جنم دیا جس کی عمر اب ایک سال ہے۔

شازیہ اعجاز مظفرآباد (پاکستان کے زیر انتظام کشمیر) میں اس روز معمول کے مطابق صبح کے وقت اٹھیں اور گھر کے کام کاج شروع کئے۔ ان کی کہانی ان ہی کی زبانی:

’میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ آج کے دن ہی میرا بہت پیار کرنے والا شوہر مجھ سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو جائے گا اور میں شادی کے صرف نو ماہ بعد ایک بیوہ کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاؤں گی۔

میرے شوہر اعجاز پاکستان آرمی میں میجر تھے اور وہ کیل کے علاقے میں تعینات تھے۔ وہ دو اگست دو ہزار دو کو بھارتی افواج کی گولہ باری کی زد میں آ کر شہید ہو گئے۔ اسی دن شام کو میرے گھر والوں کو اس واقعہ کی اطلاع دی جاتی ہے۔ لیکن وہ مجھ سے یہ خبر چھپاتے اور مجھ سے صرف یہ کہا جاتا ہے کہ میجر اعجاز زخمی ہو گئے ہیں۔

ان کے زخمی ہونے کی خبر سنتے ہی میں بے ہوش ہو گئی اور اگلی صبح جب میری آنکھ کھلی تو میں نے خود کو مظفرآباد میں واقع کمبائنڈ ملٹری اسپتال میں پایا۔ لیکن اس وقت تک میں بھول چکی تھی کہ رات کو کیا ہوا اور مجھ سے کیا کہا گیا تھا۔ شاید سکون آور دوائی نے کام دکھایا تھا۔

اسی اثناء میں میرے بھائی میرے پاس آئے تو انہوں نے میری ہمت اور حوصلہ بڑھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔ انسان کے ساتھ حادثات تو ہوتے رہتے ہیں اور جس طرح کے فرائض آپ کے شوہر انجام دے رہے ہیں اس میں ایسا ممکن ہے کہ ان کی جان بھی جا سکتی ہے لیکن میرے بھائیوں نے مجھے پھر بھی صاف صاف نہیں بتایا کہ کیا ہوا ہے۔

زنون
زنون پیدائش سے پہلے ہی یتیم ہوگیا

پھر جب اسی روز مجھے گھر واپس لایا گیا تو گھر پہنچ کر مجھے علم ہوا کہ میرے شوہر ’شہید‘ ہو چکے ہیں۔ ان کی میت گھر پہنچ چکی تھی لوگ جمع تھے۔ اتنی بڑی خبر اچانک سن کر اور اتنا کچھ دیکھ کر میں ایک بار پھر بے ہوش ہو گئی۔البتہ مجھے یاد ہے کہ میں نے ان کے چہرے کو دیکھ لیا تھا۔ کچھ عرصے تک مجھے سکون کی دوائیں دی جاتی رہیں تاکہ میرے ذہن پر دباؤ نہ پڑے لیکن جب ان دواؤں کا اثر ختم ہوتا تو مجھے یوں لگتا جیسے سب کچھ ختم ہو گیا اور کچھ بھی باقی نہیں بچا ہے۔

میں نے آہستہ آہستہ خود کو سمجھایا اور حقیقت قبول کرنا شروع کی کہ میرے شوہر اب واپس نہیں آسکتے۔ اور یہ کہ اگر میں ماضی کی سوچوں میں ہی رہتی اور اس دکھ کو خود پر سوار کر لیتی تو میری حالت مزید خراب ہو جاتی۔

 مجھے سکون کی دوائیں دی جاتی رہیں تاکہ میرے ذہن پر دباؤ نہ پڑے لیکن جب ان دواؤں کا اثر ختم ہوتا تو مجھے یوں لگتا جیسے سب کچھ ختم ہو گیا اور کچھ بھی باقی نہیں بچا ہے۔

شازیہ اعجاز

میں اپنے بچے کی لئے جینا چاہتی ہوں۔ میرا بچہ جس کا نام زنون اعجاز ہے اپنے والد کی وفات کے بعد پیدا ہوا تھا۔ اس کی عمر اب تقریباً ایک سال ہے اور اس نے اپنے والد کو نہ تو دیکھا ہے اور نہ ہی اسے یہ معلوم ہے کہ اس کے والد کے ساتھ کیا ہوا تھا۔

وہ پیدا ہونے سے پہلے ہی اپنے والد کی شفقت سے محروم ہو گیا بس اب یہی بچہ میرے لیے سب کچھ ہے اور میرے شوہر کی نشانی ہے۔ اب میں ہی اس کی ماں ہوں اور میں ہی باپ۔

میں اس کی لیے زندہ ہوں اور میں زندہ رہنے کے لیے خود کو دھوکہ دیتی ہوں اور اسی دھوکے میں میری زندگی گزر رہی ہے۔ کبھی سوچتی ہوں کہ میرے شوہر کیل میں ہی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ کبھی واپس آ جائیں اور کبھی ایسا محسوس کرتی ہوں کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔ بس یوں زندگی گزر رہی ہے۔

 میاں بیوی گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں اور اگر ایک پہیہ نکال دیا جائے تو گاڑی چلتی نہیں گھسٹتی ہے۔

شازیہ اعجاز

ہم دونوں میں صرف موت کا فرق ہے۔ میرے شوہر بہت دیکھ بھال اور پیار کرنے والے تھے اور ان کی یادیں میرا سرمایہ بن گئی ہیں اور انہی یادوں میں رہ کر اپناوقت گزار رہی ہوں۔ فرق اتنا ہے کہ میاں بیوی گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں اور اگر ایک پہیہ نکال دیا جائے تو ظاہر ہے گاڑی چلتی نہیں گھسٹتی ہے۔ وقت تو ٹھہرتا نہیں چاہے اسے ہنس کر گزاریں یا رو کر۔

بات وہی ہے کہ اگر کانٹوں پر بھی چلنا پڑے تو چلنا پڑتا ہے۔ وقت گزارنا بہت مشکل ہے لیکن خود کو مصروف رکھنے کے لیےمیں یہ چاہتی ہوں کہ تعلیم دوبارہ شروع کر دوں۔

میں نے گریجویشن کر رکھی ہے اور بس یہی سوچتی ہوں کہ میرا بیٹا سکول جانے کے قابل ہو جائے اور میں اپنی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دوں ورنہ زندگی گزارنی مشکل ہو جائے گی۔

مجھے اعجاز بہت یاد آتے ہیں لیکن بس اب میری خواہش ہے کہ اپنے بچے کو اس مقام پر دیکھوں جہاں اس کے بابا تھے۔ میں چاہتی ہوں کے وہ بھی پاکستان فوج میں جائے۔ میں نے اپنے شوہر کی وردی جوتے اور دیگر چیزیں سنبھال رکھی ہیں اور اسی لباس میں اپنے بچے کو دیکھنا چاہتی ہوں کیونکہ میجر اعجاز کی بھی یہی خواہش تھی۔

 پاکستان اور بھارت اپنی دشمنی ختم کر دیں تاکہ مزید جانیں ضائع نہ ہوں۔

شازیہ اعجاز

تاہم میرا ہندوستان اور پاکستان کو یہ پیغام ہے کہ وہ اپنی دشمنی ختم کر دیں اور بات چیت کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کا حل نکالیں۔ گزشتہ پچاس سال سے زائد عرصے سے یہ لڑائی چلی آ رہی ہے، جانیں ضائع ہو رہی ہیں، گھر اجڑ رہے ہیں اور سب کچھ برباد ہو رہا ہے۔

جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے، تباہی بڑھتی جا رہی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ مسئلہ کشمیر گولی یا جنگ سے نہیں بلکہ پُرامن طریقے سے حل کیا جائے تاکہ مزید جانیں ضائع نہ ہوں۔ جنگ مسئلے کا حل نہیں۔ اگر اب جنگ ہوتی ہے تو کچھ بھی باقی نہیں بچے گا کیونکہ دونوں ممالک اب ایٹمی طاقت بن چکے ہیں۔

کشمیر کے معاملے پر ہندوستان اور پاکستان کی دشمنی میں، میں نے اپنا شوہر کھو دیا ہے۔ ٹھیک ہے کہ ایک طرف یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں ایک شہید کی بیوی ہوں لیکن دوسری طرف مجھے جس قدر دکھ ہے وہ ناقابل بیان ہے۔

میں نہیں چاہتی کہ مزید کوئی عورت یہ دکھ اٹھائے کیونکہ یہ دکھ اتنا بڑا اور گہرا ہے کہ برداشت نہیں ہوتا اور نہ میں یہ چاہتی ہوں کہ میرے معصوم بچے کی طرح کوئی اور بچہ اپنے پیدا ہونے سے پہلے ہی باپ کی شفقت اور محبت سے محروم ہو جائے۔

میں یہی چاہتی ہوں کہ جتنا جلد ہو سکے اس مسئلے کا پرامن حل نکالا جائے تاکہ مزید جانیں ضائع نہ ہوں اور یہ دکھ نہ اٹھانا پڑے۔‘

نوٹ: شازیہ اعجاز نے یہ گفتگو مظفرآباد میں ہمارے نمائندے ذوالفقار علی سے کی۔ یہ بہت کم ہوتا ہے کہ کسی پاکستانی فوجی افسر کی بیوی نے اپنی زندگی کے بارے میں بی بی سی کے نمائندے سے گفتگو کی ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد