BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 October, 2003, 16:09 GMT 21:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دیسی وکیل پر اعتماد نہ کریں‘

انصاف اور دیسی وکیل
انصاف اور دیسی وکیل

میرا تعلق پاکستان کے شہر کراچی سے ہے۔ میرے خاندان نے تقریباً اپنی تمام تر زندگی سعودی عرب میں گزاری۔ کراچی میں اپنی گریجوایشن مکمل کرنے کے بعد پاکستان میں ہونے والے مذہبی تشدد سے جان بچا کر میں بھی سعودی عرب آگیا۔ لیکن وہاں میرے مالک نے مجھے کچھ ایسے کام کرنے پر مجبور کردیا جو خلافِ قانون تھے۔ چونکہ سعودی قوانین کے مطابق ان کاموں کی سزا موت ہے اس لئے میں وہاں سے فرار ہو کر ابو ظہبی پہنچا اور کینیڈا کے سفری ویزے یعنی وزٹ ویزے کے لئے درخواست دے دی۔

اتفاق سے میری اور میری بیوی کی درخواست منظور ہوگئی اور ہمیں وزٹ ویزہ دے دیا گیا اور یوں ہم کینیڈا پہنچ گئے۔ یہاں میں نے ایک وکیل سے رابطہ کیا اور اسے کہا کہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دینا چاہتا ہوں۔ میں اور میری بیوی دونوں شیعہ ہیں اور میری بیوی کراچی کی مشہور ڈاکٹر رہی ہے۔ پاکستان میں چونکہ شیعہ افراد اور خصوصاً ڈاکٹرز کو مارا جا رہا ہے اس لئے میرا خیال تھا کہ میرے کیس میں جان ہے۔

میرے وکیل نے جو ایک خود بھی پاکستانی تھا کہا کہ مجھے احمدی مسلمان کے طور سیاسی پناہ کی درخواست دینی چاہئِے اور ہماری غلطی کہ ہم نے اس کی بات مان لی۔ عدالت میں جج نے ہمیں ہمارے شیعہ سید ناموں سے پہچان لیا اور ہماری سیاسی پناہ کی درخواست مسترد کر دی۔ امیگریشن افسر کا کہنا تھا کہ چونکہ ہم نے عدالت سے جھوٹ بولا ہے اس لئے اب اگر میں شیعہ کے طور پر بھی درخواست دوں تو اس کو منظور نہیں کیا جائے گا۔

اب مجھے کینیڈا میں رہتے ہوئے پانچ سال گزر چکے ہیں اور ابھی تک میری قانونی حیثیت کا تعین نہیں ہوا۔ میں ہر سال اپنا ٹیکس ادا کرتا ہوں۔ میرے دو بچے ہیں جو کینیڈا میں پیدا ہوئے، اس لئے کینیڈین شہری ہیں لیکن ان کی یہ حیثیت بھی میری کوئی مدد نہیں کر سکتی۔ اگر ہم کینیڈا چھوڑ کر پاکستان چلے جاتے ہوں تو مجھے معلوم ہے کہ کسی دن ہمیں مار دیا جائے گا کیونکہ ہم آئے دن وہاں شیعہ ڈاکٹروں کے مارے جانے کی خبریں سنتے رہتے ہیں۔

میں صرف ایک بات ان تمام لوگوں سے کہنا چاہتے ہوں جو کبھی بھی مجھ سے ملتے جلتے حالات میں گرفتار ہوجائیں اور وہ یہ ہے کہ امیگریشن کے لوگوں سے کبھی جھوٹ نہ بولیں اور کبھی کسی دیسی وکیل پر خواہ وہ پاکستانی ہو، بھارتی ہویا بنگلہ دیشی ہو، اعتبار نہ کریں۔

نوٹ: اگر آپ بھی وطن سے دور دربدری کی زندگی گزار رہے ہیں، تو ہمیں اپنی کہانی کم سے کم الفاظ میں لکھ کر بھیجئے۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام نہیں شائع کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد