BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 October, 2003, 13:12 GMT 18:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میری آخری خواہش۔۔۔

کراچی
کراچی شہر کا ایک منظر

میں کینسر کی مریضہ ہوں اور میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں کہ کب ساتھ چھوڑ جائے۔ میری آخری خواہش ہے کہ میں اپنے والدین سے مل سکوں لیکن میرے والدین بھارت میں رہتے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان خراب تعلقات ہمارے درمیان حائل ہیں اور لگتا ہے کہ میری یہ خواہش، میرے دل میں ہی رہ جائےگی۔

اب معلوم ہوا ہے کہ دونوں ممالک آمدورفت بحال کرنے اور تعلقات بہتر ہونے کی باتیں کر رہے ہیں۔ جب میں اس طرح کی کوئی خبر سنتی ہوں تو میرے دل میں اپنے والدین سے ملنے کی خواہش جاگ اٹھتی ہے۔

لیکن دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کی خبریں اتنی بار آئی ہیں کہ اب میں ناامید ہو چکی ہوں کہ اب ایسا نہیں ہوسکتا۔ ماں باپ کوفون نہیں کر سکتی اور نہ ہی خط لکھ سکتی ہوں۔

فون نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ میں یہاں غیر قانونی طور پر رہ رہی ہوں اور خط میں کسی اور کے پتے اور نام سے کھبی کھبار بھیج دیتی ہوں مگر میری ماں مجھے بہت یاد آتی ہے کہ میں اپنی ماں کو دیکھ لوں اور وہ مجھے دیکھ لیں۔

گیارہ سال پہلے جب میرے شوہر، میں اور میرا ایک بیٹا پاکستان آئے تو ہماری خواہش تھی کہ ہم یہاں کچھ کام کریں گے اور سنا تھا کہ بھارت کی طرح پاکستان میں جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بن جاتے ہیں تو ہم نے بھی پیسے دے کر شناختی کارڈ بنوا لیے۔

 سنا تھا کہ بھارت کی طرح پاکستان میں جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بن جاتے ہیں تو ہم نے بھی پیسے دے کر شناختی کارڈ بنوا لیے۔

کینسر کی مریضہ، کراچی

میرے شوہر بچپن میں اپنی دادی اور چچا کے ساتھ پاکستان آ گئے تھے لیکن اپنے والدین سے ملنے بھارت جاتے تھے جہاں میری ان سے شادی ہوئی تھی۔

ان دنوں ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ہمارے ساتھ کھبی ایسا ہو سکتا ہے اور میرے شوہر نے کراچی میں کام کرنا شروع کیا اور ہمارا بیٹا بڑا ہوتا گیا، ہم اس کی پڑھائی کی طرف توجہ دیتے رہے، اس کی شادی کراچی میں کی اور اب میرا پوتا بھی ہے۔

یہ بات ایک دن اچانک معلوم ہوئی کہ میں کینسر کی مریضہ ہوں، میرے خاوند نے علاج میں بہت پیسے خرچ کرنا شروع کئے مگر مرض بڑھتا گیا۔ جیسے جیسے میری حالت خراب ہوتی جا رہی ہے ویسے ویسے ماں سے ملنے کی خواہش بڑھتی جارہی ہے۔

 اب تمہاری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، اس لیے میری کوشش ہے کہ زندگی کی جمع پونجی لگا کر تہمیں تمہارے والدین سے ملوا دوں۔

مریضہ کا شوہر

میں تو ہر وقت ڈری ڈری رہتی ہوں اور خوفزدہ بھی کیونکہ میری غیر قانونی رہائش کا کسی کو معلوم ہوا تو ہمیں پکڑ لیا جائے گا اور ایسا نہ ہو کہ سب کو ویزے ملیں مگر ہمیں نہ ملے اسی وجہ سے بہت کوششوں میں ہیں کہ کوئی ایسا راستہ نکل آئے جس سے ہم بچ بھی جائیں اور ہم اپنے والدین سے بھی مل پائیں۔ میری تو آنکھیں ترس گئی ہیں۔

میرے شوہر ان دنوں بہت کوشش کر رہے ہیں اور ہر وقت تیاری کرتے ہیں، پیسے جمع کرتے ہیں اور ہمیشہ مجھے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ تمھیں یہاں لانے کے بعد میں تہمیں واپس نہیں لے جا سکا مگر اب تمہاری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے، تو میری کوشش ہوگی کہ زندگی کی جمع پونجی لگا کر تہمیں تمہارے والدین سے ملوا دوں۔

میں تو ہر وقت ہر سانس یہ سوچتی ہوں کہ نہ جانے کوئی ہمیں پکڑ نہ لے ہمیں بھارتی ایجنٹ کہہ کر جیل نہ پھیج دیں اور کچھ نہیں تو جعلی کاغذات بنوانے کے جرم میں تو ہم پکڑے جا ہی سکتے ہیں اور اس کی اتنی بڑی سزا تو مجھے نہیں ملنی چاہیئے کہ میں اپنے والدین کواور میرے والدین مجھے نہ دیکھ سکیں۔

نوٹ: خاتون کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے جنہوں نے یہ گفتگو کراچی میں ہمارے نمائندے محمد ارسلان سے کی۔ آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمیں لکھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد