BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت کی امن تجاویز، آپ کی رائے
پاک بھارت تعلقات
کیا پاک بھارت تعلقات یہ باڑھ پھلانگ سکیں گے؟

بھارت کے وزیرِ خارجہ یشونت سنہا نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لئے نئی تجاویز کا اعلان کیا ہے۔ ان تجاویز میں دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ کے تعلقات کی بحالی، دونوں ملکوں کے درمیان مزید بسیں، راجستھان اور سندھ میں سڑک اور ریل کا رابطہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے درمیان بس سروس اور حتیٰ کہ کراچی اور ممبئی کے درمیان فیری سروس شروع کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

تاہم انہوں نے اس میں کہیں بھی پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے امکان پر کچھ نہیں کہا جس کا اصرار پاکستان کرتا آیا ہے۔ نہ ہی پاکستان نے اس پر کسی ردِّعمل کا اظہار کیا ہے۔

اس سے قبل بھارتی حکومت نے کشمیر میں سرگرم شدت پسند تنظیم کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات پر بھی رضامندی کا اظہار کیا تھا تاہم بھارتی وزیرِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

آپ کے خیال میں کیا پاکستان کو ان تجـاویز کا خیر مقدم کرنا چاہئے؟ کیا بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر پر مذاکرات شروع کئے بغیر ان تجاویز کے مطابق تعلقات کی بحالی ہونی چاہئے؟

----------------- یہ فورم اب بندہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں------------------

 انڈیا ہمارا دشمن ہے۔ اور اسرائیل اور امریکہ ہمیں ڈرارہے ہیں۔

قلندر فیصل

قلندر فیصل، پاکستان

انڈیا ہمارا دشمن ہے۔ اور اسرائیل اور امریکہ ہمیں ڈرارہے ہیں۔ ہمیں ایک بہادر قوم کی طرح اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ اور ہمیں ’نظریۂ پاکستان‘ پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔

 پاکستان اور بھارت کے موجودہ مسائل بٹوارے کی وجہ سے ہے۔

خائستہ خان

خائستہ خان، کیلی فورنیا

حقیقت میں بھارت اور پاکستان کو سرحد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں ایک ساتھ رہنا چاہئے۔ موجودہ مسائل بٹوارے کی وجہ سے ہے۔ جب دونوں ملک ہزاروں سال سے ایک ساتھ رہتے رہے تھے، تو اب کیوں نہیں؟

حماد احمد، جرمنی

سب سے پہلے کشمیر۔

عتیق زمان، ٹیکسس

یہ انڈیا کی ایک اور سفارتی کوشش ہے تاکہ کشمیر میں بین الاقوامی سرحد کی تصدیق ہوجائے۔ اگر آپ کشمیر میں سرحد کھولتے ہیں تو پھر آپ کو ایک بین الاقوامی چیک پوسٹ بھی بنانا ہوگا جس سے اس بات کی تصدیق ہوجائے گی کہ کشمیر انڈیا کا حصہ ہے۔ اور میں ایک پاکستانی کی حیثیت سے کہ سکتا ہوں کہ پاکستان اسے قبول نہیں کرے گا۔

 انڈیا ہمارا کچھ نہیں کرسکتا۔

ایم ظہیر شریفی

ایم ظہیر شریفی، جرمنی

میری طرف سے پورا انکار ہے۔ انڈیا ہمارا کچھ نہیں کرسکتا۔

اویس محمد، جرمنی

میرے خیال میں انڈیا مخلص نہیں ہے۔ دو یا تین دن تک سامنے آجائے گا کہ اس بات کے پیچھے کیا ہے۔

 پہلے تو انڈیا اور پاکستان اپنی افواج کشمیر کے دونوں حصوں سے واپس بلالیں اور اس کے بعد کشمیری عوام کو ایک کھلے ماحول میں اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے رائے دہندگی کا موقع دیں۔ میں بھی کشمیری ہوں لیکن یہ صرف میری رائے نہیں ہے بلکہ تمام کشمیریوں کی ہے۔

اے یو رحمان راجہ، اسٹاک ہوم

اے یو رحمان راجہ، اسٹاک ہوم

میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہتر تجاویز ہیں لیکن دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی بھی ضرورت ہے اور کشمیری عوام کی رائے کا احترام بھی کرنا چاہئے۔ پہلے تو انڈیا اور پاکستان اپنی افواج کشمیر کے دونوں حصوں سے واپس بلالیں اور اس کے بعد کشمیری عوام کو ایک کھلے ماحول میں اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے رائے دہندگی کا موقع دیں۔ میں بھی کشمیری ہوں لیکن یہ صرف میری رائے نہیں ہے بلکہ تمام کشمیریوں کی ہے۔

عبدالسمیع میمن، میرپورخاص

آپ نے پوچھا ہے کہ کیا انڈیا اور پاکستان رابطہ بحال کریں، میں کہتا ہوں کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ اس لئے کہ امریکہ کے اسلحے کون خریدے گا؟ اسرائیل کے اسلحے کون خریدے گا؟

رانا محمد ناصر خان، نیوزی لینڈ

جس طرح ندی کے دو دھارے کبھی نہیں ملتے اسی طرح پاکستان اور انڈیا کبھی نہیں مل سکتے۔

عبدالرزاق راجہ، دبئی

میرے خیال میں پاکستان پہلے سے ہی ان تجاویز کے حق میں تھا۔ اگرچہ ان میں کشمیر کے بارے میں کچھ بھی نہیں ہے، پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو مثبت طور پر جواب دینا چاہئے۔ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد بحال ہوگا۔

اویس سید، محتدہ عرب امارات

میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو یہ تجاویز منظور کرلینی چاہئے۔ اس لئے کہ کشمیر دونوں ملکوں کا خود کا پیدا کیا ہوا مسئلہ ہے۔

احمر خان، پاکستان

کچھ بھی ہوجائے، جتنی بھی ٹرین سروِس شروع ہوجائے، کرکٹ دوبارہ شروع ہوجائے، مگر مسئلہ وہیں اٹک جائے گا۔ اور مسئلہ ہے کشمیر کا۔

فاطمہ شاہین، جرمنی

اچھی تجاویز ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملے گا۔ اور دونوں ممالک میں خوشحالی آئے گی۔

 آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل ہمیں۔ ہم دو ملک ہی اچھے لگتے ہیں۔ بات باتوں سے نہیں بنتی بلکہ خلوص بنیادی چیز ہے۔ دنیا کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں جو حل نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کو مثبت جواب دینا چاہئے۔

عبدالغفور چودھری، بحرین

عبدالغفور چودھری، بحرین

’آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل ہمیں۔‘ ہم دو ملک ہی اچھے لگتے ہیں۔ بات باتوں سے نہیں بنتی بلکہ خلوص بنیادی چیز ہے۔ دنیا کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں جو حل نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کو مثبت جواب دینا چاہئے۔

شاہد سومرو، جرمنی

میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو ان تجاویز کا جزوی طور پر خیرمقدم کرنا چاہئے۔ مکمل تعلقات کی بحالی کشمیر پر مذاکرات سے منسلک ہونا چاہئے۔

شاہنواز نصیر، کوپین ہیگین، ڈنمارک

میرا خیال ہے کہ یہ ایک مثبت قدم ہے۔ لیکن مسئلہ پھر وہیں پہ آکے اٹکا ہے کہ کشمیر پر بات ہو یا نہ ہو۔ بنیادی مسئلہ کشمیر ہی ہے۔ انڈیا ایک بڑا ملک ہے۔ اسے بڑکپن کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کشمیر کے معاملے میں اور اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان ایک الگ ملک ہے، نہ کہ انڈیا کا حصہ۔

کمال احمد منصور، فیصل آباد

جس طرح کینسر والے مریض کو تسلیاں دیکر اس کے کینسر کو ختم نہیں کیا جاسکتا، بالکل اسی طرح انڈیا چھوٹی چھوٹی تجاویز سے پاک۔انڈیا تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔ جب تک کینس (کشمیر) والے مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔۔۔

محمد شعیب ملِک، سرگودھا

ہم بھارت سےتعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں لیکن بھارت امن کے لئے خلوص سے کام نہیں کررہا ہے۔ اگر ہم کہتے ہیں کہ کشمیر اصلی مسئلہ ہے تو بھارت ہماری اور بین الاقوامی برادری کی آنکھ میں دھول جھونکنا چاہتا ہے۔ سب سے پہلے کشمیر، پھر بعد میں کچھ۔۔۔۔

 انڈیا نے یہ اعلان کرکے خصوصا سندھ کے اردو بولنے والوں کا دل جیت لیا ہے ۔ خصوصا کھوکھراپار کا راستہ کھلنا یاہاں کے عوام کے لئے ایک خواب کی مانند ہے۔ اللہ کرے کہ ہماری گورنمنٹ بھی اس دیرینہ مطالبے پر اپنا مثبت ردعمل ظاہر کرے۔

سید خالد حسین جعفری، حیدرآباد

سید خالد حسین جعفری، حیدرآباد

انڈیا نے یہ اعلان کرکے خصوصا سندھ کے اردو بولنے والوں کا دل جیت لیا ہے ۔ خصوصا کھوکھراپار کا راستہ کھلنا یاہاں کے عوام کے لئے ایک خواب کی مانند ہے۔ اللہ کرے کہ ہماری گورنمنٹ بھی اس دیرینہ مطالبے پر اپنا مثبت ردعمل ظاہر کرے۔ اور مصلحت پسندی سے کام نہ لے۔ ہمیشہ یہی ہوتا آیا ہے کہ ایک اعلان ہوتا ہے اور پھر بات وہیں میرے پاکستانی گورنمٹن سے التجا ہے کہ خدارا اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور فی الفور کھوکھرا پار کا راستہ کھولا جائے۔

محمد افضال عباسی، مالدیپ

یہ مثبت سمت میں ایک شروعات بھی نہیں ہے۔ در حقیقت انڈیا اصلی مسئلے سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ اسی لئے اس طرح کی تجاویز آرہی ہیں، اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر وہ تعلقات جو انڈیا شروع کرنا چاہتا ہے خود اسی نے بند کیا تھا۔

ڈاکٹر امیرحمزہ، یوکرائین

اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اگر پاکستان یہ ساری باتیں مان جائے تو پھر انڈیا اپنی زبان سے مکر نہیں جائے گا، ماضی کی طرح۔ اگر کوئی اس بات کی ضمانت دینے کو تیار ہے تو یہ ایک خوش آئند اور مثبت قدم ہوگا۔

غیاث انجم، ایبٹ آباد

میرے خیال میں یہ بات چیت ہونی چاہئے اور پاکستان کو انڈیا کی اس پیشکش کو بلاتاخیر قبول کرنا چاہئے کیونکہ ان تجاویز کا اثر براہ راست عوام پر پڑےگا اور اسی مین دونوں ممالک کی بہتری ہے۔

شیر اکبر حسن، کویت

جب تک اصل مسئلہ موجود ہے اسے حل کیے بغیر کچھ کرنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے والی بات ہے۔

حکمران سبوتاژ کر دیں گے

 مجھے ڈر ہے کہ پاکستان کے حکمراں اسے کشمیر اور سلامتی کے مسئلے سے جوڑ کر سبوتاژ کر دیں گے۔

ناظم سید محمد، پاکستان

ناظم سید محمد، پاکستان

پاکستان میں بھارتی وزیر کی پیش کش کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے حضوصاً آپس میں بچھڑے ہوئے خاندانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے۔ لیکن مجھے ڈر ہے کہ پاکستان کے حکمراں اسے کشمیر اور سلامتی کے مسئلے سے جوڑ کر سبوتاژ کر دیں گے۔

ٹیپو کامران، کینیڈا

پاکستان کو بھارت کو مثبت جواب دینا چاہئے۔

وہاج احمد، کراچی، پاکستان

جہاں تک امن کا سوال ہے وہ تو کشمیر کے حل ہونے تک نہیں قائم ہو سکتا۔ اگر ہم بھارتی تجاویز مان لیتے ہیں تو کیا بھروسہ کہ کل وہ کچھ جھوٹے گواہ یا ثبوت بنا کر دنیا کو یہ دکھائے کہ دیکھئے ان راستوں کے ذریعے پاکستان دراندازی کر رہا ہے اور یہ کہ ہم نے بہت کوشش کی مگر یہ امن قائم کرنا ہی نہیں چاہتا۔ یہ سب باتیں لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کےلئے ہیں اس لئے ان کا کوئی فائدہ نہیں۔

محمد فاروق، اومان

یہ پاکستان کے ساتھ دھوکہ ہے۔

علی خان بنگش، پشاور، پاکستان

یہ بہت اچھا قدم ہے اور پھر کوئی دوسرا راستہ بھی تو نہیں ہے۔

ایک تیر میں تین شکار

 بھارت اپنا دفاع مضبوط بنا رہا ہے، ٹال مٹول کر رہا ہے اور دنیا کی نظروں کو دھوکہ دے رہا ہے۔

ڈاکٹر نصیر احمد طاہر، پاکستان

ڈاکٹر نصیر احمد طاہر، پاکستان

بھارت اپنا دفاع مضبوط بنا رہا ہے، ٹال مٹول کر رہا ہے اور دنیا کی نظروں کو دھوکہ دے رہا ہے۔ ایک تیر میں تین شکار

محسن، نیو یارک، امریکہ

سوچ سمجھ کر اور اپنے مفادات کو مدِّ نظر رکھ کر تجویز قبول کرلینی چاہئے کیوں کہ سب سے پہلے پاکستان۔

عمران صدیقی، کراچی، پاکستان

بھارت پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں کبھی بھی مخلص نہیں رہا۔ اس کے بیانات روز بدلتے رہے ہیں۔ اسلامی ممالک کی حالیہ کانفرنس کی وجہ سے اسے لگ رہا ہے کہ پاکستان مسلمانوں کو متحد کرنے والا ہے اس لئے وہ پاکستان کی توجہ اس مقصد سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

کشمیر، فوج کے وجود کا جواز

 فوج کو ڈر ہے کہ اگر کشمیر کا مسئلہ ختم ہو گیا تو ان کے وجود کا کوئی جواز نہیں بچے گا۔

تصور حسین، نیویارک، امریکہ

تصور حسین، نیویارک، امریکہ

پاکستان اور بھارت جلد ہی ایک ملک ہوں گے کیونکہ ہماری تاریخ ایک ہے۔ بھارت میں پاکستان سے زیادہ مسلمان بستے ہیں اور میرا خیال ہے کہ دونوں ممالک میں ریفرنڈم کروانا چاہئے کہ آیا دونوں ملکوں کے عوام مل کر رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ پاکستان کی فوج کشمیر کی صورتِ حال کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ سب سے پہلے تو پاکستان میں جمہوریت بحال ہونی چاہئے کیونکہ فوج کو کسی قسم کی سیاسی سرگرمی یا مذاکرات میں حصہ لینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ پھر ہمیں بھارت کے ساتھ کسی سیاسی تصفیے کی بات کرنا چاہیے کیونکہ فوج کو ڈر ہے کہ اگر کشمیر کا مسئلہ ختم ہو گیا تو ان کے وجود کا کوئی جواز نہیں بچے گا۔

محمد نشاط، پاکستان

بھارت کی طرف سے یہ ایک اچھا قدم ہے اور بالکل یہ درست تجاویز ہیں۔ پاکستان کو ان سب تجاویز کا خیرمقدم کرنا چاہئے۔

عامر خان، نیو کیلیڈونیہ

چلو یہ بھی کر کے دیکھ لیں۔ کشمیر بھارت کے لئے زمین اور پاکستان کے لئے پانی کا مسئلہ ہے دونوں اب بھرم قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ اے کاش کہ ایسا ہو جائے۔

محمد رضا، قطر

پاکستان کو بھارت کی پیش کش قبول کرنی چاہئے۔ یہ مسائل کے حل کی طرف ایک بہتر قدم ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہوگی اور دل ودماغ بدلنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

خالد شاہین، ورسمولڈ، جرمنی

تجاویز اچھی ہیں۔ ان پر عمل درآمد سے دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کو بہتر سمجھ سکیں گے، میل جول بڑھے گا، محبت اور ہمدردی کے جذبات پھیلیں پھولیں گے۔

کشمیر اور بس کشمیر

 کسی اور مسئلے پر بات نہیں ہو سکتی سوائے کشمیر کے۔

مختار نقوی، فلوریڈا، امریکہ

مختار نقوی، فلوریڈا، امریکہ

بھارتی تجاویز میں کوئی وزن نہیں ہے کیونکہ ان کا تعلق اس مرکزی مسئلے سے نہیں ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان پچھلے چھپن برسوں سے وجہِ تنازعہ ہے۔ ایک مضحکہ خیز پیش کش بھارت میں بیس پاکستانی بچوں کے علاج کی ہے۔ پاکستان کو مکمل طور پر یہ تمام تجاویز رد کر دینی چاہئیں۔ کسی اور مسئلے پر بات نہیں ہو سکتی سوائے کشمیر کے۔

احمد پنوار، ابوظہبی

انڈوپاک ایک ساتھ اچھا لگتا ہے۔ میں تو چاہتا ہوں کہ پاکستان اور انڈیا کا ایک نام ہونا چاہئے: انڈوپاک۔

منظر انصاری، کینیڈا

بالکل پاکستان کو یہ تجویز اچھی طرح پاکستان کے تحفظ اور دوستی کے معیار پر چیک کرکے قبول کرلینا چاہئے۔

دلوں میں کھوٹ

 جب دلوں میں کھوٹ ہو تو کوئی کام کیسے ہوسکتا ہے؟ جب تک یہ دونوں ملک مخلص نہیں ہونگے، مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔

علینا علی، انگلینڈ

علینا علی، انگلینڈ

جب دلوں میں کھوٹ ہو تو کوئی کام کیسے ہوسکتا ہے؟ جب تک یہ دونوں ملک مخلص نہیں ہونگے، مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ جہاں حکومت سطح اور عوامی سطح پر دونوں میں ایک دوسرے ملک کے خلاف اتنی زیادہ نفرت ہو، تو کوئی بھی مسئلہ اتنی آسانی سے حل نہیں ہوسکتا۔

خالد سلیم، پتوکی، پاکستان

ہاں، دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لئے ضروری ہے۔

طارق فاروق، ماڈل ٹاؤن، لاہور

پاکستان اور انڈیا ایک ندی کے دو کنارے ہیں۔ یہ چاہیں جتنی بھی کوشش کرلیں کبھی بھی سب سے بڑے کشمیر مسئلے پر متفق نہیں ہونگے۔

الیکس، آئیوا، امریکہ

دونوں ملکوں کے درمیان کسی فیری، بس، ریل یا فضائی تعلقات کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نہیں چاہتے ہیں کہ بھارتی ہمارے ملک میں آئیں۔ ہمیں ان کی ضرورت نہیں، انہیں ہماری ضرورت ہے۔

امن کی ہر پیش قدمی کا خیرمقدم

 امن کی جانب ہر پیش قدمی کا خیرمقدم کیا جانا چاہئے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں ممالک تعلقات کی بہتری میں کتنے مخلص ہیں۔

ہارون کھوکر، لیڈز، انگلینڈ

ہارون کھوکر، لیڈز، انگلینڈ

امن کی جانب ہر پیش قدمی کا خیرمقدم کیا جانا چاہئے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں ممالک تعلقات کی بہتری میں کتنے مخلص ہیں۔ دونوں ملک جو پیسہ ہتھیار خریدنے پر صرف کررہے ہیں وہ ہسپتال، اسکول اور کالجوں کی تعمیر کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

عامر ہاشمی، گجرانوالہ

میرے خیال میں یہ کام ہونا چاہئے کیونکہ اس طرح دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے نزدیک آنے کا موقع ملے گا۔ اور جب دونوں ملک قریب آئیں گے تو دوسرے مسئلے بھی حل ہوسکیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد