| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی تارک وطن پرکیاگزری
میں اب سے تقریباً تئیس برس قبل سن انیس سو اناسی میں مشرقی جرمنی داخل ہوا۔ میری عمر اس وقت صرف اٹھارہ برس تھی اور میں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا اور جرمنی آنے کا سبب میرے گھریلو حالات اور نوکری حاصل کرنے میں ناکامی تھی۔ ان دنوں مشرقی اور مغربی جرمنی علیحدہ تھے لیکن ویزہ ایئرپورٹ پر ہی مل جاتا تھا۔ ویزہ ختم ہونے سے پہلے میں نے خود کو سیاسی پناہ گزین ظاہر کرتے ہوئے پناہ کی درخواست جمع کروا دی۔ درخواست جمع کروانے کے بعد مجھے پناہ گزینوں کے ہوٹل پہنچا دیا گیا۔ تقریباً ہر ایک یا دو ماہ بعد سیاسی ویزہ حاصل کرنا ضروری تھا کیونکہ میری درخواست التوا کا شکار تھی۔ ویزے کے حصول میں جس قدر پریشانی اٹھانی پڑتی وہ بیان سے باہر ہے۔ ویزے کے لیے سردیوں کے منفی آٹھ درجہ سینٹی گریڈ میں صبح چار بجے سے لائن میں کھڑا ہونا پڑتا تب کہیں نمبر آتا ورنہ کھڑکی بند ہو جاتی اور باقی رہ جانے والے افراد کو اگلی صبح پھر اسی طریق کار سے گزرنا پڑتا تھا۔ ان دنوں مجھے جن مشکلات اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، میں انہیں لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ ان پریشانیوں سے میں بہت دل برداشتہ ہو چکا تھا لیکن اس دوران میری دوستی ایک جرمن لڑکی سے ہو گئی اور بعد ازاں ہم دونوں نے شادی کر لی۔
یہ شادی چند سال ہی برقرار رہ سکی اور پھر طلاق پر یہ باب بھی ختم ہو گیا۔ اس شادی سے میری دو بیٹیاں ہیں جنہیں میری سابقہ بیوی اپنے ساتھ لے گئی اور میں نے اپنی بیٹیوں کو حاصل کرنے کے لیے عدالت میں مقدمہ درج کروا دیا۔ اس دوران مجھے جرمنی کی شہریت حاصل ہو چکی تھی اور میں یہ سمجھ رہا تھا کہ میری مشکلات کا خاتمہ ہو گیا ہے لیکن یہ میری خام خیالی تھی کیونکہ عدالت میں دائر کیس نے میری حالت خراب کر دی اور دوسرا یہ کہ مجھے اپنی بچیوں اور سابقہ بیوی کو خرچہ بھی دینا ہوتا تھا جو کہ میری ماہانہ آمدنی کے بڑے حصے پر مشتمل تھا۔ اس وجہ سے میں بہت زیادہ مقروض ہو گیا۔ بچیوں کے لیے دائرکردہ مقدمے کا فیصلہ میرے حق میں ہوا اور میری مشکلات میں بتدریج کمی آنے لگی۔ میں ایک چھوٹے سے سرکاری ادارے کا ٹھیکہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا اور اسی دوران مشرقی اور مغربی جرمنی کا الحاق ہو گیا اور ملک کی اقتصادی حالت بہت زیادہ بہتر ہو گئی اور اس کا اثر براہ راست عوام پر پڑا۔ میرے حالات بھی بہتر سے بہتر ہوتے چلے گئے۔ میں اس دوران اکثر پاکستان جاتا رہا ہوں جہاں میرے بھائی بہن اور والدہ رہتی ہیں۔ مجھے اپنے ملک سے بہت پیار ہے اور جب بھی کسی وزیراعظم نے پاکستان کی تعمیر کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں سے مدد کی اپیل کی تو میں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر اس میں حصہ لیا۔ لیکن کوئی بھی حکمران ملک سے مخلص نہیں رہا اور سب نے مل کر پاکستان کو خوب لوٹا۔ ہم سب پاکستانی اپنے ملک سے بےپناہ محبت کرتے ہیں اور جب ضرورت پڑی ہم اسے ترقی دینے کے لیے ضرور آگے آئیں گے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ کوئی ایماندار اور مخلص رہنما آگے آئے۔ اب صدر پرویز مشرف سے ایک امید بندھی ہے۔ خدا کرے کہ وہ پاکستان کو ایک حقیقی اور ترقی یافتہ اسلامی مملکت بنانے میں کامیاب ہو جائیں۔ میں انیس سو تیرانوے میں پاکستان گیا اور والدہ کی پسند سےایک پاکستانی لڑکی سے شادی کی جو بہت ہی کامیاب جا رہی ہے۔ شادی کے بعد اب میرا کاروبار خاصا اچھا چل رہا ہے۔ میری بیوی نے صحیح معنوں میں خوشی اور غمی میں ایک ساتھی کا فرض نبھایا ہے۔ میرے اہلِ خانہ میں ایک بیٹے اور بیٹی کا اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ آپ بیتی بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ زندگی میں اگر کچھ حاںل کرنا ہو تو صرف کوشش کام نہیں آتی بلکہ انتھک محنت، قربانی، پریشانی، بزرگوں کی دعاؤں اور ایماندرانہ جدوجہد سے ہو کر ہی منزل ملتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||