| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوج قانون سے بالاتر ہے؟
لاہور میں پولیس کانسٹیبل نذیر احمد کو گرفتار کرکے اسی کے تھانے میں قید کردیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے فوج کے ایک میجر جنرل کی گاڑی کو روک کر اس کے شیشے کالے کرنے والے کاغذ اتارنے کا مطالبہ کیا تھا۔ میجر جنرل صباحت حسین کی گاڑی روکنے کی وجہ سے کانسٹیبل کی ’پیٹی اور ٹوپی‘ اتروا لی گئیں۔ سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا اعظم طارق کے قتل کے بعد دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر ملک بھر میں حفاظتی اقدامات کے تحت پنجاب پولیس نے گاڑیوں سے کالے شیشے اتارنے کی مہم شروع کی ہے۔ پہلے بھی ایسے کچھ واقعات ہوئے ہیں جن میں شاید ہی کسی فوجی کے خلاف کارروائی کی گئی، ہمیشہ پولیس کی شامت آئی ہے۔ چند سال قبل ایم پی اے بشیرالحسن خان مرحوم کے ساتھ بھی راولپنڈی میں فوج کے نئے نئے جوانوں نے کم و بیش ایسے ہی سلوک کا مظاہرہ کیا تھا۔ ایسے واقعات پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟ کیا فوج قانون سے بالاتر ہے؟ کیا فوج کے اقتدار میں آنے سے اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے؟ --------------یہ فورم اب بندہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں------------------------
قانون سب کے لئے برابر ہے۔ فوجی اس ملک کے محافظ ہیں نہ کہ ڈنڈا بردار بدمعاش جس کا جب جی چاہے لاٹھی کسی کو دے مارے۔ فوج کو چاہئے کہ اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔ رضوان احمد، جاپان ابھی تک اس غریب کا فیصلہ نہیں ہوا، بہت افسوس ہے مجھے اپنے ملک کے حکمرانوں پر۔ مبشر ملک، تلہ گنگ، پاکستان میرے خیال میں فوجی اس ملک کے آمر ہیں جو اپنی مرضی سے آئے ہیں اور اپنی مرضی سے جائیں گے۔ نوید فخر، متحدہ عرب امارات اگر یہ اسی طرح جاری رہا تو جلد ہی ہر پاکستانی کی دعا ہو گی کہ ’ناپاک فوج‘ بھارت کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہو۔ جب ان کے اعلیٰ حکام ہی پاکستان کے آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں تو نیچے کے اہلکار کیسے قانون کا احترام کر سکتے ہیں۔ بشیر راجہ، دیر، پاکستان ہاں مدثر حسن، جلال پور پیر والہ، پاکستان صدر سے لیکر ایک عام شہری تک قانون سے کوئی بالا تر نہیں۔ فوجی افسران کو اپنے رویئے میں بہتری لانی چاہئے تاکہ عوام میں انکا ایک اچھا تاثر قائم ہو۔
باسط خان، اسلام آباد، پاکستان فوج ایک مقدس گائے ہے جس کی پوجا ہرپاکستانی پر فرض کردی گئی ہے۔ (فرمانِ فوج)۔ صرف یہی کہوں گا کہ باوجود فوج کا ایک اعلیٰ افسر ہونے کے، میں اس بات پر سخت شرمندہ ہوں کہ ہر افسر کے ذہن میں یہی خناس بھر جاتا ہے کہ وہ کییڑے مکوڑوں سے بر تر ہے۔ خدارا اگر پاکستان کو بچانا ہے تو فوج کی تربیت کا انداز تبدیل کرنا ہوگا۔ ابرار خان، پکرنگ، کینیڈا پاکستان افواج کسی منظم مافیا سے کم نہیں۔ انہوں نے مشرقی پاکستان میں ایسے جرائم کا ارتکاب کیا جو سوچنا محال ہے اور اب باقی آدھے پاکستان کو قابو کئے ہیں۔ یہ با ہر سے آنے والوں سے تو لڑ نہیں سکتیں لیکن پاکستان کے لوگوں کو سبق پڑھانے کےلئے ہر وقت تیار ہیں جو ان کے اعلیٰ طبقے کے طرزِ زندگی کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ محمد شفیق، شیخوپورہ، پاکستان یہ ہے برطانیہ کے وزیرِاعظم کی بیوی اور ایک پاکستانی فوجی افسر کی بیگم میں فرق۔
اعظم میاں، کویت ’رہنا دریا میں اور مگر مچھ سے بیر رکھنا۔‘ حبیب رحمان میاں خیل، کوئٹہ، پاکستان ملک کا کوئی فرد قانون سے بالا تر نہیں ہے خواہ وہ مشرف ہوں یا فوج کا کوئی بھی اہلکار۔ ہارون چوہدری، نیو یارک، امریکہ لوگ اس واقعے پر بہت زیادہ ردِّعمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ہمیں اس بارے میں آگہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ جس دن جنرل گریس نے کشمیر کے بارے میں قائداعظم کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا، فوج نے ہماری نئی حاصل کی ہوئی آزادی چھین لی تھی اور ہم اس برطانوی تربیت یافتہ فوج سے کبھی بھی آزاد نہیں رہے۔ ہمیں ایک بار پھر اپنی آزادی کے لئے لڑنا ہوگا۔ ایم اشرف ربانی، گجرات، پاکستان پاکستان میں قانون صرف کمزور کے لئے ہے، جنرل کےلئے نہیں۔ پولیس والا انعام کا حقدار ہے۔
اظہر مقبول، کینیڈا کیا اگر یہی گاڑی تھانیدار کی ہوتی تو کیا تب بھی یہ پولیس والا اسے روکتا۔ کیا بی بی سی کو پاکستان میں رپورٹنگ کیلئے اس سے بہتر موضوع نہیں ملا۔ بی بی سی کو اپنا معیار بہتر کرنا چاہئے۔ کہاں بی بی سی اور کہاں ایک کانسٹیبل۔ کیا یہ گلی محلے کی رپورٹنگ ایجنسی ہے۔ علی تیمور، کینیڈا فوج قوم کی نوکر ہوتی ہے مگر اس ملک میں قوم فوج کی نوکر ہے۔ خرم خان، پشاور، پاکستان پاکستان میں یہ کوئی نیا نہیں اور فوج پچاس سال سے یہ کر رہی ہے۔ اس دفعہ ایک چھوٹے جعلساز کو ایک بڑے جعلساز نے پکڑا ہے۔ محمد صدیق خٹک، متحدہ عرب امارات جنرل قریشی کو امریکہ میں تلاشی دیتے وقت بوٹ اتارتے ہوئے کوئی سبکی محسوس نہیں ہوتی لیکن ایک میجر جنرل کی بیگم کو اپنے ملک میں قانون کی پاسداری کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ فو ج کو لگام دینے کےلئے خمینی کی قسم کا انقلاب ضروری ہے۔ جمیل اختر، اٹلانٹا،امریکہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے پہلے بھی ملتان میں دوکانداروں کے ساتھ، اوکاڑہ فوجی فارم اور ہائی وے پولیس انسپکٹر کے ساتھ یہ ہوچکا ہے۔ یہ فوج ہے ہماری حفاظت کرنے والی جو حفاظت کرنا بھول گئی ہے۔ فوج کے اقتدار میں آنے کے ساتھ ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ مظہر ظفر، ریاض، سعودی عرب یہ حقیقت کہ پاکستان میں فوج کے خلاف نفرت آسمان کو چھو رہی ہے مجھے شرم آتی ہے جب میرا بیٹا کہتا ہے کہ وہ فوجی بننا چاہتا ہے۔
محمد توصیف، ملتان، پاکستان یہ اچھی بات نہیں ہے کہ فوج کے افسر قانون کا احترام نہ کریں لیکن میرا خیال ہے کہ بی بی سی بھی اس میں ملوث ہے اور پاکستانی عوام اور فوج کو لڑوانا چاہتی ہے۔ کیونکہ بی بی سی یہودی میڈیا کا حصہ ہے۔ پاکستانی کی فوج ایک منظم اور عظیم فوج ہے اور یہودی اسے شکست نہیں دے سکتے اس لئے وہ ہمیں آپس میں لڑانا چاہتے ہیں۔ اکرم علی، اومان فوج قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ معین الدین حمید، کینیڈا فوجی افسران نہ تو قانون کو مانتے ہیں نہ ہی ان پر عمل کرتے ہیں۔ اگر وہ قوانین کو مانتے تو ملک میں ایک سویلین حکومت ہوتی۔ میجر جنرل صباحت کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے۔ اس طرح کے کئی واقعات دیگر شہروں میں بھی ہو چکے ہیں اور یہ پاکستانیوں کےلئے پیغام ہے کہ فوجی اور ان کے خاندان قانون سے بالا تر ہیں۔ قریشی، ملتان، پاکستان ہاں پاکستان میں وہ قانون سے بالا تر ہی ہیں اور انہیں کی رہنمائی میں پاکستان نے مشرقی پاکستان اور سیاچن گنوائے ہیں۔ انہوں نے ملک کی عزت برباد کی ہے اور ابھی تک کر رہے ہیں۔ ان کے اپنے قوانین کے مطابق جن کو پھانسی دی جانی تھی انہیں اعلیٰ ترین عہدے دیئے گئے ہیں۔
صولت جامی، کیلیفورنیا، امریکہ ہمیں فوج کو یوں بھلا برا نہیں کہنا چاہئے۔ تمام بدعنوان سیاستدانوں کے بعد فوج ہی وہ واحد ادارہ ہے جو پاکستان کو پاکستان بناتا ہے۔ وہ مخلص ہے اور ہمارے راز دشمنوں کے حوالے نہیں کرتی۔ وہ پاکستان کی سلامتی پر کبھی مفاہمت نہیں کرتی اور جب بھی سیاستدانوں نے ملک کو خانہ جنگی کی صورتِ حال تک پہنچایا یا اسے بیچنے کی کوشش کی، فوج نے ہی آکر ملک بچایا۔ اس لئے انہیں کچھ خصوصی مراعات حاصل ہونی چاہئیں۔ پولیس افسر کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ یہ ایک جنرل کی کار ہے اور پاکستانی جنرل دہشت گرد نہیں ہوتے جن کا سپاہِ صحابہ سے تعلق ہو۔ مسلح افواج کو تنقید کا نشانہ بنانا ایک فیشن بن چکا ہے۔ اگر فوج نہ ہوتی تو پاکستان کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔ درحقیقت وہی پاکستان ہیں۔ جاوید چوہدری، دمام، سعودی عرب صرف ہمارا ملک ایسا ہے جہاں ہر چھوٹا موٹا افسر اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا ہے۔ پورے ملک کے عوام جنرل اور ان کی فوج سے تنگ ہیں جو اپنے ہی لوگوں پر ظلم ڈھا کر ان کو دلاسہ دیتے ہیں کہ ہم انصاف کریں گے۔ اس دور میں غریب کو اور بھی ذلت میں دھکیل دیا گیا ہے۔ اگر یہ خود ہی قانون کی پابندی نہیں کریں گے تو دوسرے خاک کرینگے۔ کتنا پیسہ یہ ہمارا اجاڑتے ہیں اور پھر ہم ہی کو آنکھیں دکھاتے ہیں۔ یونس نظامی، کینیڈا فوجی حکام سمیت کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے۔ احمد، لندن، برطانیہ قانون فوج سے نہیں بلکہ سب سے بالاتر ہے۔ محمد چیمہ، انگلینڈ ڈرائیور کو سزا دینی چاہئے تھی۔ حتیٰ کہ میجر جنرل سلطان عزیز کے بیان میں بھی یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اس نے سیاہ پٹیاں اتارنے سے انکار کیا تھا۔ کوئی بھت قانون سے بالا تر نہیں ہے، مشرف بھی نہیں۔
نیر ایاز ملک، تلہ گنگ، پاکستان پاکستان میں تمام بہترین سکول، ہسپتال، خدمات، زمین اور قانون اور عدلیہ فوج کے لئے ہیں اور ہم صرف غلام ہیں۔ ہمیں کچھ کہنے کا حق حاصل نہیں اور پاکستان صرف فوج کے لئے ہے۔ عامر رضا، کراچی، پاکستان میرے خیال میں اس پولیس والے کو تمغہ حسنِ کارکردگی ملنا چاہئے۔ فوجی حکام خود کو قانون سے بالا تر سمجھتے ہیں اور اسے میجر جنرل کو سزا دے کر تبدیل کرنا چاہئے۔ اگر صدرِ پاکستان یا سپریم کورٹ اصل مجرموں کو سزا دیں گے تو عدلیہ پر بھروسہ بڑھے گا اور یہ تاثر پیدا ہوگا کہ قانون سے بالا تر کوئی نہیں ہے۔ شکیل احمد، لندن، برطانیہ فوج ہمیشہ سے خود سے سویلین اور دوسرے اداروں کو کم تر سمجھتی آئی ہے اور طاقتور طبقات کی قانون سے بالا تر ہونے کی روایت کسی دن ایک پرتشدد انقلاب کی وجہ بن جائے گی۔ ادریس بٹ، گجرات، پاکستان اگر غلامی ہی کرنی تھی تو بھارت سے علیحدہ ہونے کا کیا فائدہ۔ اب بھی وقت ہے کہ فوج باز آجائے نہیں تو ان کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا جائے گا۔ یہ پاکستان کی غریب عوام پر رعب ڈالتے ہیں اور بھارت سرحدوں پر آجائے تو سر جھکانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ غلام نبی، لاہور، پاکستان پاکستان فوج جو شاہی جماعت بھی ہے طاقت اور زمین کا قبضہ گروپ ہے۔ حتیٰ کہ ان کے ڈرائیور بھی قانون سے بالا تر ہیں۔ جنرل عوام کے ملازم نہیں بکہ راجہ ہیں جنہیں پاکستان کے نہیں اپنے مفادات عزیز ہیں۔
وجاہت صدیقی، ٹورنٹو، کینیڈا مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس واقعے پر اتنا شور کیوں مچایا جا رہا ہے۔ آپ ایک ایسی فوج سے اور کیا توقع رکھتے ہیں جو پچھلے پچاس برسوں سے اپنے ہی ملک کو فتح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں اور نہ ہی آخری ہوگا۔ موٹر وے اور اوکاڑہ کے اس دوکان دار کا واقعہ کیجئے جو اپنی جان بچانے کے لئے ملک چھوڑ کر بھاگا۔ کچھ لوگ بی بی سی کے نمائندے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت جرات مندانہ کام ہے ورنہ اس طرح کی خبریں کبھی بھی عوام کے سامنے نہیں آسکیں گی۔ پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر ایسے بے بنیاد جواز پیش کر رہے ہیں کہ کوئی بھی ذی ہوش آدمی ان کا اعتبار نہیں کر سکے گا۔ احسن شیخ، ٹورنٹو، کینیڈا قانون سے بالاتر کوئی بھی نہیں ہے۔ پاکستان کی اصل دشمن پاکستانی افواج ہیں۔ سعید احمد شاہ، مردان، پاکستان پولیس کانسٹیبل نے انتہائی اچھا کام کیا ہے اور کسی کو قانون توڑنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ اسے اپنے فرائض ایماندارانہ اور جرات مندانہ انداز میں ادا کرنے پر انعام دینا چاہئے۔
تیمور میاں، فیصل آباد، پاکستان میرے جیسے شخص کے لئے جس نے حال ہی میں پولیس میں کام کرنا شروع کیا ہے یہ خاصی تشویشناک بات ہے۔ لوگ عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ پولیس بدعنوان ہے اور اپنے فرائض سے غفلت برتتی ہے۔ لیکن اس طرح کی صورتِ حال میں پولیس سے کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ امنِ عامہ کی صورت حال برقرار رکھے۔ بیروزگاری کے اس دور میں کوئی بھی اپنی نوکری سے محروم نہیں ہونا چاہتا۔ میرا خیال ہے کہ پولیس والا بالکل حق پر ہے کیونکہ میں نے خود تجربہ کیا ہے کہ مسلح افواج کے افراد کا رویہ پولیس والوں کے ساتھ بہت برا ہوتا ہے۔ محمد، کراچی، پاکستان میں فوج سے تعلق رکھنے والے اپنے شہریوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ قانون توڑنے اور لوگوں کے حقوق چھیننے کی قیمت یہاں بھی ادا کرنا پڑتی ہے اور دوسری دنیا میں بھی۔ مالی کالا، امریکہ ہاری ہوئی فوج کا حکومت میں آنا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ فوج قانون سے بالاتر ہے اور پاکستانی قوم پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ اکبر، پاکستان اصل مسئلہ یہ جنرل ہی ہیں اور یہ واقعات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔
جواد علی شاہ، کراچی، پاکستان پولیس اہلکار کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے لیکن اچھے اور برے لوگ ہر شعبے، ہر ذات، ہر مذہب اور ہر نسل میں ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پرویز مشرف یا فوج بری ہے۔ زاہد سید، امریکہ اگر گاڑی پر فوج کی نمبر پلیٹ یا شناختی نشان موجود تھے تو پھر نذیر احمد کی غلطی تھی۔ لیکن دوسری بات یہ بھی ہے کہ پاکستان میں طاقتور کے لئے کوئی قانون نہیں ہے۔ علی حسن، کوپن ہیگن، ڈنمارک ایسے تمام واقعات میں، جن میں فوج کے لوگ ملوث ہوتے ہیں منتخب حکومت کوئی قدم نہیں اٹھاتی۔ یوں لگتا ہے کہ حکومت ہی فوج کی ہے اور سب کچھ انہی کے اختیار میں ہے۔ جو کچھ نذیر احمد نے کیا وہ قانون کے مطابق ہے۔ اور اگر یہ غلط ہے تو فوج کو اپنی مرضی کے قوانین بنا لینے چاہئیں۔ حزبِ اختلاف کیا کر رہی ہے۔ انہیں آواز اٹھانی چاہئے۔ اگر نذیر احمد کو انصاف نہ ملا تو پھر پاکستان میں کوئی بھی قانون کا احترام نہیں کرے گا۔ یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے لیکن یہ پاکستان کے مستقبل کے لئے بہت اہم ثابت ہوگا۔
محمد عثمان، کینیڈا مجھے یہ کہتے ہوئے بہت شرم محسوس ہو رہی ہے کہ یہ ہماری فوج ہے۔ اگر آج فرعون بھی پاکستان میں ہوتا تو وہ بھی فوج کے عتاب سے نہ بچ سکتا۔ کانسٹیبل کی حمایت میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ ’اینٹ کا جواب پتھر۔‘ پولیس عوام کے ساتھ جیسا کرتی ہے ویسا ہی اسے بھرنا بھی ہوگا۔ سلیم حیدر ڈوگر، حجرہ شاہ مقیم، پاکستان مجھےاس بہادر پولیس والے پر فخر ہے اور اچھی بات ہے کہ بی بی سی آن لائن نے اسے لوگوں تک پہنچایا کیوں کہ پاکستانی پریس ایسا نہیں کر سکتا۔ علی اصغر، لاہور، پاکستان اس پولیس والے کو ایک دن کے لئے جنرل صاحب کی پوسٹ پر بٹھا دیں اور جنرل صاحب کو ایک دن کے لئے کانسٹیبل بنا دیں۔ پھر اس پولیس اہلکار کی مرضی ہو کہ وہ جنرل صاحب کے ساتھ جو چاہے سلوک کرے۔
مختار احمد، پشاور، پاکستان جو فوجی پورے آئین کو ٹھوکر مار سکتے ہیں ان کےلئے ایک غریب پولیس اہلکار پر زیادتی کیا مشکل ہے۔ میں کینیڈا کے نور خان کی اس رائے سے متفق ہوں کہ پاکستانی فوج کا ماٹو ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ ہے۔ یہ فوج اپنے حقیقی مقاصد کو فراموش کر کے دفاعی بجٹ کے بہانے ملک و قوم کا خون چوس کر عیاشی میں مصروف ہے۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ اس وقت پاکستانی فوج کے سربراہ ایک انتہائی بزدل جنرل ہیں جو امریکہ کے اشارے پر کٹھ پتلی کی طرح ناچ رہے ہیں اور انہیں ملکی مفاد کا خیال ہی نہیں آتا۔
محمد وقاس، میلبورن، آسٹریلیا جنرل پرویز مشرف فرماتے ہیں کہ غریب کو انصاف ملے گا۔ کیایہ انصاف ہے کہ ایک قانون بنایا جائے اور فوجی افسران اس سے بالاتر ہوں، فوجی قیادت اگر انصاف کرنے میں مخلص ہو تو کسی نے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ نہیں رکھے۔ طاقت کا نشہ برا ہوتا ہے۔ ضیاء الحق کے دور میں لوگ فوج کی عزت کر لیتے تھے کیونکہ اسلام اور فوج کو ایک سمجھا جاتا تھا مگر جنرل مشرف کا لبرل اسلام اور وہ بھی ایسا کہ کور کمانڈر اور جنرل حضرات قانون کی دھجیاں بکھیرنے میں مصروف ہوں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ پولیس کا رویہ عموماً خراب ہوتا ہے لیکن پولیس کانسٹیبل نے کوئی غلط مطالبہ نہیں کیا۔ اگر وہ کوئی ناجائز مطالبہ کرتا تو اس کے خلاف کارروای جائز تھی مگر ڈرائیور کے بتانے کے باوجود کہ یہ ایک جنرل کی گاڑی ہے اس کا اصرار کرنا فرض کی تکمیل ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک خواتین کا سوال ہے اسلام کا حکم بالکل واضح ہے کہ پردہ کریں۔ کالا شیشہ پردے کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔
قیصر مجید غازی بابا، پاکستان میرے خیال میں فوج کو قانون سے بالاتر بنانے کے ذمہ دار ملک کے سیاستدان ہیں۔ حالیہ واقعہ میں پولیس اہلکار کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ غالباً یہ اہلکار سفارش کے بغیر بھرتی ہوا ہو گا اسی لیے اسے قانون کا پاس تھا ورنہ اگر پاکستان میں لاقانونیت کا ریکارڈ جمع کیا جائے تو پہلا نمبر قانون کے انہی محافظوں کا ہو گا۔ اس اہلکار کو پتہ نہیں تھا کہ قانون صرف غریب اور بےبس لوگوں کے لیے ہوتا ہے اور سرکار کے لوگ اس سے مستثنٰی ہوتے ہیں۔ ایک سیانے نے کہا تھا کہ اگر آپ پاکستان میں عزت سے زندہ رہنا چاہتے ہیں تو آپ فوج یا پولیس میں نوکری کر لیں یا صحافی بن جائیں، تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔
محمد بھٹی، سعودی عرب بدقسمتی سے ہماری فوج خود کو ملک و قوم کا حاکم سمجھتی ہے اور یوں برتاؤ کرتی ہے جیسے وہ قانون سے بالاتر ہے۔ میں نہیں جانتا کہ فوج کو قانون کے احترام پر رضامند کرنے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہو گی البتہ بظاہر یہ کام ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ ان کے بڑے بڑے عہدے یہ تاثر دیتے ہیں کہ کوئی بھی شخص فوج کے خلاف لب کشائی کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے خود اپنے حلف اور آئین کی خلاف ورزی کی اور انہی میں سے ایک جنرل نے ملک بھی توڑا تھا۔ اس لیے ہم برہمی کا اظہار کرتے رہیں گے۔ آفتاب شیخ، سعودی عرب میرے خیال میں فوج کو ضرورت سے زیادہ اختیارات دے دیے گئے ہیں جس کے باعث ملک میں اندرونی منافرت میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملک داخلی اعتبار سے کمزور ہو رہا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں آپ پاکستان میں کہیں بھی چلے جائیں، فوج بدتمیزی کے اصول پر کاربند ہے کیونکہ زیادہ تر فوجی یہی تربیت حاصل کر کے آگے آتے ہیں کہ عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی سے بات کرو۔
سمیر خان، آسٹریلیا میرے خیال میں پولیس اہلکار کے خلاف کیا گیا اقدام بالکل درست ہے جبکہ ہر کوئی فوج کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے۔ پولیس اہلکار خصوصاً اے۔ایس۔آئی کے عہدے کے اہلکاروں کا لوگوں سے رویہ انتہائی تضحیک آمیز ہوتا ہے۔ چونکہ جنرل صاحب کی گاڑی سرکاری تھی اور اس میں جنرل صاحب کے اہل خانہ بھی سوار تھے اس لیے پولیس اہلکار کو شائستگی سے پیش آنا چاہیے تھا۔ اگر یہ گاڑی کسی عام آدمی کی ہوتی تو کسی کو اس واقعہ کی کانوں کان خبر نہیں ہونی تھی۔ پریس کو پولیس کے کرتوتوں پر بھی توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہی اگر کسی آئی۔جی یا ڈی۔آئی۔جی پولیس کی گاڑی ہوتی تو نام نہاد قانون کی بات کوئی نہ کرتا۔ شازیہ ذوالفقار حبیب، جاپان پولیس والے کا برتاؤ صحیح تھا یا غلط لیکن اہم سوال یہ ہے کہ میجر جنرل صاحب کے ڈرائیور نے گاڑی کے شیشے پر کالا کاغذ کیوں چسپاں کر رکھا تھا اور پولیس اہلکار کے کہنے کے باوجود کاغذ اتارنے سے انکار کیوں کیا؟ یہ بات جنرل صاحب کے لیے بھی باعث شرم ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
شاہد علی، ٹورانٹو، کینیڈا پاکستان میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ فوج نے غریب عوام کے خلاف اپنے اختیارات استعمال کیے ہیں۔ دراصل فوج میں اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کا دم نہیں ہے۔ جرنیلوں اور دیگر فوجی افسران ملک و قوم کے ملازم ہیں اور وہ یہ بات یاد رکھیں کہ انہیں عوام سے منہ زوری کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہیں خدا کے قہر سے ڈرنا چاہیے۔
نوید احمد، دبئی اصل قصور کس کا ہے اس کا فیصلہ عوام کے سامنے ہونا چاہیے۔ پولیس اہلکار اور جنرل صاحب کو جج کے سامنے اپنا موقف پیش کرنا چاہیے اور قصوروار کو سزا دی جائے۔ لیکن یہ بات اس لیے ممکن نہیں کہ ایسا کرنا ’وسیع تر قومی مفاد کے منافی ہو گا۔ کیا ہم انصاف کو ہمیشہ وسیع تر مفاد کی بھینٹ چڑھاتے رہیں گے؟ میں بی بی سی کے رپورٹرز کی جرات کو سلام کرتا ہوں۔ ہر سچی بات کو ملک دشمنی قرار دینا بہت خطرناک رجحان ہے۔
شیراز شوکت میاں، سیالکوٹ، پاکستان پاکستانی فوج آئین سے بالاتر ہے اور ملک میں سب کچھ کر سکتی ہے۔ لیکن فوجی افسران ملک کی سلامتی اور تحفظ سے بےبہرہ ہیں جو کہ انتہائی شرمناک بات ہے۔ حالیہ واقعہ میں بھی ایک فوجی افسر نے اپنے اختیارات کا فائدہ اٹھایا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ معاملے کی چھان بین کی جائے اور قصور وار کو بلا امتیاز سزا دی جائے۔
مقبول چنا، انگلینڈ پاکستان میں ہر کام فوج کرتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہو یا مرتضیٰ بھٹو کا قتل اگر چھوٹی بات ہیں تو پولیس اہلکار کیا ہے۔ آرمی راج کی وجہ سے پاکستان ترقی نہیں کرتا۔ لوگ گھر بار چھوڑ کر ڈاکو بن رہے ہیں۔ القاعدہ بنانے میں بھی فوج کا ہاتھ ہے۔ پاکستانی فوج ملک کے کم آمدن والے طبقے کو اپنے ظلم سے کچل رہی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ بھارت کے نام پر تعلی اور صحت کا بجٹ ہڑپ کر رہی ہے۔ سمیر سرفراز، امریکہ فوج سِول سرونٹ ہے اور اسےاپنی حدود میں رہنا چاہیے۔ ملک کا قانون ہر شئے سے بالا ہے اور سب سے ایک سا سلوک ہونا چاہیے۔ میرے خیال میں پولیس اہلکار نے صحیح قدم اٹھایا۔ محمد اسلم خان، ہانگ کانگ پولیس اہلکار نے صحیح کام کیا لیکن بالکل غلط طریقے سے۔ اگر جنرل صاحب کے ڈرائیور نے پولیس اہلکار کی بات ماننے سے انکار کیا تھا تو اس کی شکایت اعلیٰ پولیس افسران تک پہنچائی جانی چاہیے تھی اور خود کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے تھا۔ چونکہ جنرل کی اہلیہ گاڑی میں سوار تھیں اس لیے ڈرائیور پولیس والے پر سیخ پا ہوا۔ پولیس والے ہمیشہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں۔
نور خان، اوناٹاریو، کینیڈا پاک فوج کوئی فرشتہ صفت بھی نہیں ہے۔ گزشتہ چھپن برس سے فوج بجٹ کا بیشتر حصہ ہڑپ کرتی آئی ہے اور ملک میں چُن چُن کر لوگوں کو ہلاک کرنے میں ملوث رہی ہے۔ ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ فوج کا موٹو ہے۔ فوج کسی کو جواب دہ نہیں ہے اور ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کے تحت لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہے لیکن انسانی ہمدردی اور تہذیب کے ضابطوں کے اعتبار سے غیر اخلاقی کارروائیوں میں ملوث ہے۔
محمد ثاقب احمد، بِہار، بھارت پاکستان میں ووٹر فوج ہے، حکمران فوج ہے، انتظامیہ فوج ہے، الیکشن کمیشن فوج ہے، پریس فوج ہے اور پاکستانیوں اور پاکستان کی کتابِ تقدیر فوج ہے۔ پھر یہ سرپھرے پولیس والے اپنی روزی روٹی پر لات کیوں مارتے ہیں؟ پاکستان میں فوج یقیناً قانون سے بالاتر ہے۔ چونکہ فوج کسی کے آگے جواب دہ نہیں تو کم از کم پولیس اہلکاروں کو تو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ آقا، مولا، سالارِ اعلیٰ، حاکمِ اعلیٰ ناراض نہ ہوں ورنہ حال خراب نذیر کا ہی ہو گا۔ نذیر کو بھلا کیا پڑی تھی بے نظیر بننے کی؟
عثمان فاروق، اسلام آباد، پاکستان میرے خیال میں فوج ہرگز قانون سے بالاتر نہیں۔ ماضی میں بھی پولیس اور فوج میں چپقلش کی خبریں سننے میں آتی رہی ہیں لیکن کیا کبھی کسی نہ پولیس والوں کے برتاؤ پر بھی توجہ دینےکی کوشش کی ہے؟ پولیس بات کا آغاز ہی گالی اور تھپڑ سے کرتی ہے اور جب وہ کسی عام شخص سے بدتمیزی سے پیش آتی ہے تو اس کی باز پرس بھی ممکن نہیں ہوتی۔ حالیہ واقعہ میں پولیس اہلکار نے ایک فوجی جنرل کی گاڑی روکی اور بدتمیزی سے پیش آیا۔ گاڑی میں جنرل صاحب کے اہلِ خانہ بھی سوار تھے۔ کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ کہانی کا دوسرا رخ کیا ہے۔ ہم صرف اپنی فوج پر انگلیاں اٹھانے کےعادی ہو گئے ہیں خصوصاً بی بی سی کے چند رپورٹر۔ میرے خیال میں یہ لوگ بھارت اور امریکہ کے ایجنٹ ہیں اور بی بی سی کو چاہیے کہ وہ ایسے رپورٹروں کو فوری طور پر نوکری سے نکال دے۔
طاہر جنجوعہ، ٹورانٹو، لینیڈا پاکستانی وزراء جب مغربی ممالک کا دورہ کرتے ہیں تو وہاں کے ضابطوں کا مکمل خیال رکھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نہ کسی قانون کی خلاف ورزی کی تو انہیں جواب دہ ہونا پڑے گا کیونکہ ان ممالک میں ان کے عہدوں کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ان سے مرعوب ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں بشمول فوج، ہر کوئی اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے۔ ان لوگوں کو یہ بات سیکھنے کی ضرورت ہے کہ قوانین عمل درآمد کے لیے بنائے جاتے ہیں نہ کہ پامال کرنے کے لیے۔ اگر کوئی شخص ایماداری سے اپنا فرض پورا کر رہا ہے تو اس کی بےعزتی کرنے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔
سفاد محمد، جرمنی ایسے فوجی ملازم کو فوری طور پر نوکری سے نکال کر فارغ کر دینا چاہیے۔ پاکستان میں ایسے غدار فوجیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ آجکل فوج خود کو خدا سمجھ بیٹھی ہے اور ہر جگہ ان کا راج ہے۔ خدا کے لیے پاکستان میں اس پولیس والے کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے جو اس ملک کا وفادار ہے۔ فوجیوں کو چاہیے کہ وہ رات کے وقت لاہور کی سیر کے لیے اپنی ذاتی گاڑیاں استعمال کریں نہ کہ سرکاری۔ فوج میں بھرتی ایک شخص ہوتا ہے لیکن اس کا پورا خاندان ناجائز فائدے اٹھا رہا ہے۔ جب یہی فوجی یورپ کے کسی دوسرے ملک جاتے ہیں تو ان کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے اور وہ اپنے اہلِ خانہ کو پریشان نہ ہونے کی تسلی دیتے رہتے ہیں۔ کیا پاکستان کا قانون صرف غریبوں کے لیے ہے؟ کیا یہ قانون فوجیوں کے لیے نہیں جو دوسرے ممالک میں جامہ تلاشی تک دیتے ہیں لیکن اپنے ملک میں گاڑی کے شیشے سے کاغذ اتارنے پر اس قدر بےعزتی محسوس کرتے ہیں۔ عالم خوشنود، ٹورانٹو، کینیڈا فوج قانون سے بالاتر نہیں ہے اور قانون سب کے لیے یکساں ہے۔ میرے خیال میں پولیس کو بہتر طریقہ اپنانا چاہیے۔ اگر گاڑی میں خواتین ہوں تو پولیس کو نہیں چاہیے کہ اس طرح سے ان کو ہراساں کرے بلکہ وہ جرمانہ کر سکتی ہے اور اگر اس کی ادائیگی نہ کی جائے تو پولیس اہلکار اعلیٰ افسران سے بھی شکایت کر سکتے ہیں نہ کہ کسی کو سڑک پر مجبور کریں کہ یہ کرو اور وہ کرو۔
ڈاکٹر امیر حمزہ، یوکرائن فوج کا کام ملکی سرحدوں کی حفاظت ہے اور اگر اسے کسی وجہ سے ملک کے اندر طلب کیا گیا ہے تو امنِ عامہ کے فرائض پورے کرنا ہی فوجی کی ذمہ داری ہے نہ کہ غنڈہ گردی کرنا۔ اگر حالات ایسے ہی رہے تو وہ وقت دور نہیں جب عوام غنڈوں اور بدمعاشوں سے زیادہ فوج سے خوفزدہ ہونے لگیں گے۔
ظفر ملک، دبئی کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں۔ ملک میں جاری بدعنوانیوں کے باعث دو بڑے گروہ بن گئے ہیں۔ ایک وہ جو بہت امیر لوگ ہیں اور دوسرے بہت غریب۔ امیر گروہ میں فوجی اور جج حضرات شامل ہیں۔ اس صورت حال سے سختی سے نمٹنا ہو گا اور ذمہ دار افراد کو سخت سزائیں دینا ہوں گی۔ پولیس کانسٹیبل کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے اور چھینا گیا وقار اسے واپس کیا جائے۔ مدیحہ صدیقی، راولپنڈی، پاکستان بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ انیس سو سینتالیس سے اب تک پاکستان کو کوئی بھی مخلص لیڈر نصیب نہیں ہوا۔ ہماری آرمی ملک سے مخلص ہے نہ عوام کے ساتھ۔ یہی میجر جنرل جب امریکہ جاتے ہیں تو ان کی انگلیوں کے نشانات تک لیے جاتے ہیں اور جوتے اتروا کر تلاشی لی جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||