BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 November, 2003, 18:45 GMT 23:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وہ خواب کیا ہوئے۔۔۔

ڈاکٹر اور مریض بچی
عارضی تقرریاں: امیدوں کیسے ٹوٹیں

میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے اور میں قبائلی علاقے کے ایک چھوٹے سے شہر پاڑا چنار میں پیدا ہوا جہاں اکیسویں صدی کے جدید عہد میں بھی بنیادی سہولیات کا تصور ناممکن ہے۔ میرے بڑے بھائی نے اپنی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش تین چھوٹے بھائیوں اور دو بہنوں کے لئے قربان کردی جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے دوسرے بھائی کے لئے بھی گریجوایشن کے بعد تعلیم جاری رکھنا ممکن نہ رہا۔

میرے بھائیوں کی خواہش تھی کہ میں کسی طرح ڈاکٹر بن جاؤں کیونکہ صرف اسی طرح گھر کے معاشی حالات بہتر ہو سکتے تھے۔ لیکن کیا ایسا ہوا؟ یہ وہ سوال ہے جو پچھلے کئی سالوں سے مجھے چبھتا ہے۔

میں اس دن کا شدت سے انتظار کرتا رہا ہوں جب ایم بی بی ایس کی ڈگری میرے ہاتھ میں ہوگی اور ہمارے حالات بدل جائیں گے اور تمام قربانیوں کا بدلہ ملے گا لیکن میری عمر اب چھتیس سال ہوگئی ہے، میری آدھی عمر گزر چکی ہے اور حالات بدلنے کی امید دم توڑ چکی ہے۔

میں نے اپنے خاندان کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے حد درجہ محنت کی۔پارا چنار سے میٹرک کرنے کے بعد ایڈورڈز کالج پشاور سے ایف ایس سی کیا اور اس کے بعد علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔

میری امیدوں کو پہلا دھچکہ اس دن لگا جب میرا میڈیکل افسر کے طور پر عارضی تقرر ہوا۔ اس وقت صوبائی حکومت کی ایک سلیکشن کمیٹی نے بارہ سو ڈاکٹروں کا ایڈہاک بنیادوں پر تقرر کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ انہیں ایک سال بعد مستقل کر دیا جائے گا۔

لیکن آج آٹھ سال گزرنے کے بعد بھی ہم اسی طرح عارضی نوکری پر ہیں جس میں نہ کوئی بینیفٹس ہیں، نہ کرایہ، نہ پینشن نہ چھٹیاں۔ ہم لوگوں سے سخت ترین کام لیا جاتا ہے، دور دراز علاقوں میں بھیجا جاتا ہے، ہمارے کوئی حقوق نہیں جبکہ لوگ ہمیں ڈاکٹر سمجھتے ہیں۔ ہم بیماروں کی زندگی تو بچا سکتے ہیں لیکن خود بیمار نہیں ہو سکتے۔

غریب لوگ
سااددد

میری پہلی تقرری بورکی کے بنیادی طبی مرکز میں ہوئی۔ یہ ایک دشوار گزار علاقہ ہے جہاں میں نے تین سال تک کام کیا۔ ان دنوں میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے پیڈریٹکس یونٹ میں کام کرتا ہوں۔ میں یہاں ہفتے کے ایک سو اڑسٹھ گھنٹوں میں سے ایک سو چار گھنٹے کام کرتا ہوں جس کا معاوضہ صرف آٹھ ہزار ہے اور ایک غیر یقینی مستقبل۔

میرے اوسط دن کی مثال کچھ یوں ہے۔ پچھلے ہفتے میں نے بچوں کے شعبے میں صبح آٹھ بجے کام شروع کیا۔ میں نے وارڈ میں داخل شدہ چھتیس مریضوں کا معائنہ کیا اور اس کی رپورٹ پروفیسر کو پیش کی۔

اس کے علاوہ میں نے ان مریضوں کے ٹیسٹ کے لئے خون اور پیشاب کے سیمپلز لئے، کئی دیگر مریضوں کے مختلف ٹیسٹ کئے تین دوسرے شعبوں میں چکر لگائے۔ اس کے بعد میں نے اپنی چوبیس گھنٹے کی ایمرجنسی ڈیوٹی کے دوران چالیس مریضوں کا معائنہ کیا جن میں سے بتیس کو ہسپتال میں داخل کیا۔

ان میں سے دو کی حالت انتہائی تشویشناک تھی جو رات کو دم توڑ گئے۔ ایک اور کو رات میں دل کا دورہ پڑا جسے میں نے ہسپتال کے انتہائی طبی نگہداشت کے شعبے میں داخل کرایا جہاں اس کی حالت بہتر ہوگئی اور وہ واپس وارڈ میں لے آیا گیا۔ میں دن رات وارڈ میں رہا اور اگلی صبح اپنے ایک اور ساتھی کو تمام تفصیلات سے آگاہ کرنے اور یہ ذمہ داری اسے سپرد کرنے کے بعد فارغ ہوا۔

مختصراً یہ کہ میں روزانہ تقریباً بارہ گھنٹے کام کرتا۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا کیا زندگی کے شب و روز یونہی گزر جائیں گے اور کھبی حقیقی خوشحالی کا خواب پورا ہو گا بھی کہ نہیں؟

پھر سوچتا ہوں کہ شاید یہ سب میرے تخیل اور تصورات کی پیداوار تھی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ میرے علاوہ اور بہت سے لوگ ہیں جو محنت اور ایمانداری سے اپنی روزی کمانا چاہتے تھے۔ پاکستان میں کئی حکومتیں آئیں اور کئی گئیں، کسی نے مذہب کا نعرہ لگایا تو کسی نے غربت دور کرنے کے خواب دکھائے لیکن حقیقت میں سب نے محنت کشوں کا استحصال کیا اور اپنے مفادات پورے کیے۔ یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ موجودہ حکومت بھی ماضی میں آنے والی حکومتوں سے مختلف نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد