BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 October, 2003, 15:36 GMT 20:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کاہے کو بیاہی بدیس

کاہے کو بیاہی بدیس۔۔۔۔
رانا انور اپنی شادی کے موقعے پر

چھ اکتوبر پیر کے روز کی بات ہے میرا دل بہت گھبرا رہا تھا میں نے سوچا پتہ نہیں کیا ہوگا کیونکہ میں کراچی میں رہتی ہوں اور میرا تمام خاندان بھارت میں۔ میرے والد کی طبعیت خراب رہنے لگی تھی۔ مجھ پر بہت بے چینی اور پریشانی کی کیفیت تھی۔ میں نے اپنے والد کو بھارت فون کرنے کی کوشش کی مگر نہیں ملا۔ بہت کوشش کی نہ جانے وہاں کچھ ٹیلیفون لائن میں مسئلہ تھا یا یہاں، خیر رات کو بارہ بجے فون ملا میں نے بات کئے بنا رکھ دیا اور سوچا کہ رات کو بات کرونگی تو کہیں وہ لوگ پریشان نہ ہوجائیں کہ کراچی میں خیریت تو ہے۔

منگل کی صبح مجھے میرے چھوٹے بھائی کا فون آیا کہ والد کا انتقال ہوگیا میں یہاں اکیلی تھی دو بچے اور کچھ سسرالی رشتہ دار اور میرے خاوند۔ بس اس دن احساس ہوا وطن سے دوری کا ویسے تو ہر وقت رہتا تھا۔ شادی ہوکر یہاں آئی مگر پتہ نہیں پندرہ سال سے مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں کسی اور کے گھر میں رہ رہی ہوں۔

ہمارے یہاں کہا جاتا ہے کہ عورت کا گھر اس کا سسرال ہوتا ہے مگر میرا سسرال پاکستان میں اور گھر بھارت میں اسی وجہ سے آج تک ذہنی طور پر قبول نہیں کرسکی ہوں جبکہ یہاں کوئی تکلیف نہیں ہے، بس تکلیف ہے تو ایک کہ اپنے گھر والوں سے دور ہوں۔

اپنا گھر

 شادی ہوکر یہاں آئی مگر پتہ نہیں پندرہ سال سے مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں کسی اور کے گھر میں رہ رہی ہوں۔

چوبیس فروری انیس سو اٹھہتر کومیری شادی ہوئی جب میں تئیس سال کی تھی۔ میری پھوپھی کے گھر سے رشتہ آیا تھا جو پاکستان میں رہتی تھیں میرے ماں باپ نے قبول کرلیا۔

جس دن گھر سے رخصت ہوکرسسرال آئی اُس دن تومیرے تمام گھر والوں کی حالت بری تھی اس لئے بھی کہ عام طور پر رخصت ہوکر لوگ دوسرے گھر میں جاتے ہیں مگر مجھے دوسرے ملک جانا تھا۔ لوگوں کی ایک دفعہ رخصتی ہوتی ہے میری دودفعہ ہوئی ایک جب گھر سے سسرال، ایک بھارت میں ریلوے اسٹیشن پر، میرے تمام رشتہ دار، محلے کے لوگ اور جن ہندوؤں کے گھروں سے اچھی دوستیاں تھیں ان کے بھی پورے کے پورے گھر مجھے چھوڑنے آئے ہوئے تھے۔ تمام لوگ دھاڑیں مارکر رورہے تھے جیسے رخصتی کے وقت رو رہے تھے۔

میرا ولیمہ ہوا مگر گھر کاکوئی فرد اس میں نہیں تھا، کیونکہ ان سب کو تو میں بھارت چھوڑ آئی تھی۔ بھارت میں بھی میری خوشگوار زندگی تھی، جو چاہا وہ ہوا، جو مانگا وہ ملا، اور پاکستان میں بھی ایسی ہے مگر میں نہ جانے ہر وقت کس غم میں رہتی ہوں پندرہ سال میں کچھ تبدیل نہیں ہوا گھر والوں کی اس طرح یاد آتی ہے جیسے پہلے دن آتی تھی۔

کاہے کو بیاہی بدیس۔۔۔۔
کاہے کو بیاہی بدیس۔۔۔۔

پاکستان سے میرا رشتہ انیس سو اُناسی میں گیا اسی میں بات پکی ہوگئی تھی اور انیس سو اٹھاسی میں شادی ہوئی تمام لوگ عزیزواقارب اس عرصے میں یہ ہی کہتے رہے کہ رشتہ توڑدو مگر میرے والدین نے رشتہ نہں تھوڑا۔ شادی کے بعد میں جب پہلی دفعہ پاکستان میں ویزا آفس گئی تو بس ایک ہی بات کہتے سنا ’نہ جانے مسلمان اپنی معصوم سی خوبصورت بچیوں کو پاکستان کیوں بھیجتے ہیں‘ اور اکثر تو یہاں تک کہہ دیتے کہ ’مسلمانوں کا تو دماغ خراب ہوتا ہے جو چاند سی بچی کو اتنا دور بھیج دیتے ہں‘۔

ائیرپورٹ پر بھی میرے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے میں تین مرتبہ جاچکی ہوں۔ بچوں اور سامان کو دیکھ کر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ’بٹیا ماں باپ سے ملنے جارہی ہو‘ میں کہتی ہوں ہاں تو سر پر ہاتھ رکھ کر مجھے کہتے ہیں کہ ’نہ جانے مسلمانوں کو کب عقل آئیگی جب وہ اپنی چاند سی بیٹیوں کو اپنے سے اتنا دور بھیجنا ختم کریں گے‘۔

لوگ کہتے ہیں

 نہ جانے مسلمان اپنی معصوم سی خوبصورت بچیوں کو پاکستان کیوں بھیجتے ہیں۔

والد کی آخری مرتبہ شکل نہیں دیکھ سکی، اور نہ ہی اپنے چھوٹے بہن، بھائیوں اورماں کو دلاسہ دے سکی حالانکہ میں اپنے گھر میں چار بہنوں اور تین بھائیوں کی بڑی بہن ہوں۔

میں بے قراری سےمنتظر ہوں کہ مارچ تک حالات صحیح ہوجائیں تو میں بھارت اپنی ماں کے پاس چلی جاؤں مگر جب تک تو ان کی عدّت بھی ختم ہوجائیگی۔

نوٹ: رانا انور نے یہ گفتگو کراچی میں ہمارے نمائندے محمد ارسلان سے کی۔ اگر آپ کے خاندان کے افراد بھی تقسیم کے دوران بچھڑ گئے ہیں تو آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمیں لکھ بھیجئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد