BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زخموں کو چھیڑ دیا۔۔۔

دربدر غیر قانونی تارکینِ وطن
دربدر غیر قانونی تارکینِ وطن

قسمت میں ٹھڈّے، دھکّے اور خواری لکھی ہو تو بندہ کیا کر سکتا ہے، بس یہی ہے میری کہانی۔

میں نے بی کام کیا ہوا تھا اور کمپیوٹر پروگرامنگ کے بھی کچھ کورس کر رکھے تھے لیکن باہر جانے کی خواہش دم نہیں لینے دیتی تھی۔ میں اور میرا ایک دوست جون انیس سو ننانوے میں قانونی ویزے پر یہاں سے سنگاپور پہنچے۔ سنگا پور میں اس وقت ’اینٹری‘ کا نظام تھا اور وہاں ہم نے داخلہ لے لیا جس پر چھ مہینے اور مل جاتے ہیں۔

لیکن پھر چھ مہینے ختم ہوگئے۔ وہ بہت سخت وقت تھا۔ رہائش کا مسئلہ تھا، نوکری کا مسئلہ تھا جو لوگ آسانی سے نہیں دیتے تھے اور پکڑے جانے کا ڈر۔ کئی مرتبہ پولیس نے پکڑا اور پوچھا کہ پاسپورٹ اور ویزا کہاں ہے۔ ہم کہتے تھے کہ پاسپورٹ گھر پر ہے، گھر دور ہے، وغیرہ وغیرہ۔ وہ ذراتے دھمکاتے بھی تھے لیکن پھر چھوڑ دیتے۔ کام زیادہ تر پاکستانی ہی دیتے اور اگر کوئی اور دیتا تو صرف اس لئے کہ جہاں اسے دس ڈالر فی گھنٹہ دینے ہوتے ہمیں صرف تین یا چار ڈالر ہی دیتا۔ تقریباً دو سال یوں گزر گئے۔

دو نبمر پاسپورٹ

 میں سنگا پور سے ملیشیا گیا اور تقریباً پچپن ہزار پاکستانی روپوں میں پاسپورٹ خرید کر دوبارہ سنگا پور میں کینیڈین شہری کے طور پر داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

مسعود

اسی دوران ہمیں پتہ چلا کہ ملیشیا میں ایک آدمی ہے جو کینیڈا کا دو نبمر پاسپورٹ بنا کر دیتا ہے۔ میں سنگا پور سے ملیشیا گیا اور تقریباً پچپن ہزار پاکستانی روپوں میں پاسپورٹ خرید کر دوبارہ سنگا پور میں کینیڈین شہری کے طور پر داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اگرچہ سنگا پور میں داخلے کے وقت مجھ سے سخت پوچھ گچھ کی گئی لیکن چونکہ ان کے پاس کینیڈین شہریوں کا ریکارڈ نہیں ہوتا اس لئے اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ میں سنگا پور میں کینیڈین شہری کے طور پر داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

اس کے بعد میں نے اس بنیاد پر کینیڈا کی ٹکٹ خریدی کہ میں اپنے ملک واپس جا رہا ہوں اور کینیڈا کے جہاز پر بیٹھ کر وہاں پہنچ گیا لیکن یہاں حکام نے مجھے جہاز پر ہی روک لیا۔ ایک کینیڈین امیگریشن افسر آئی اور مجھ سے پوچھ گچھ شروع کر دی۔ میں نے اپنے طور پر کینیڈا کے بارے میں تھوڑی بہت تیاری تو کی ہی ہوئی تھی لیکن وہ ناکافی تھی۔ جب اسنے مجھ سے ایک مٹھائی کے بارے میں پوچھا جو دنیا بھر میں مشہور ہے لیکن صرف کینیڈا ہی میں بنتی ہے تو مجھے اس کا نام معلوم نہیں تھا۔

تیس دن بغیر آسمان کے

 ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں تیس کے قریب لوگ ایک وقت میں قید ہوتے تھے۔ دن رات اسی کمرے میں گزرتے اور کوئی تفریح کا تصور تک نہ تھا۔ تیس دن تک میں نے آسمان نہیں دیکھا۔

مسعود

انہوں نے وہیں سے جہاز تبدیل کیا اور مجھے واپس سنگاپور بھیج دیا۔ سنگاپور میں مجھے ایک مہینے کےلئے جیل میں ڈال دیا گیا۔ قید کا یہ وقت اتنا سخت تھا کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں تیس کے قریب لوگ ایک وقت میں قید ہوتے تھے۔ زیادہ تر جرائم پیشہ چینی تھے جنہیں انگریزی نہیں آتی تھی۔ دو تین بھارتی اور ایک آدھ پاکستانی بھی تھے۔ دن رات اسی کمرے میں گزرتے تھے اور کوئی تفریح کا تصور تک نہ تھا۔ تیس دن تک میں نے آسمان نہیں دیکھا۔ جولائی دوہزار ایک میں سنگاپور سے مجھے واپس پاکستان بھیج دیا گیا اور یوں اب میں یہاں ہوں۔ جو تھوڑا بہت کمایا تھا وہ سب ٹکٹوں اور دو نمبر پاسپورٹ پر خرچ ہوگیا۔

پچھتاوا یہ ہے کہ میں کینیڈا میں داخل نہ ہوسکا اور یہ سمجھ میں آیا کہ پاکستان میں بہت کچھ ہے اگر محنت کی جائے تو۔ اگر اب کبھی باہر گیا بھی تو قانونی کاغذات پر جاؤں گا اور طالبِعلم کے طور پر جاؤں گا کیوں کہ’غیر قانونی‘ پر جب گزرتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ آدمی کتنا اکیلا ہے۔

نوٹ: اس آپ بیتی کے راقم پاکستان کے شہر سرگودھا سے تعلق رکھتے ہیں اور اب وہیں قیام پذیر ہیں۔ ان کی اپنی خواہش پر ان کا نام تبدیل کردیا گیا ہے۔ اگر آپ بھی وطن سے دور دربدری کی زندگی گزار رہے ہیں یا اس سے کبھی گزرے ہیں تو ہمیں اپنی کہانی کم سے کم الفاظ میں لکھکر بھیجئے۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام نہیں شائع کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد