BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرق وسطیٰ: تشدد کا خاتمہ کیسے؟
غزہ میں اسرائیلی حملہ
غزہ میں اسرائیلی حملہ

گزشتہ چند دنوں میں مشرق وسطیٰ میں تشدد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ پیر کو اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے غزہ شہر میں ایک چلتی ہوئی کار کو نشانہ بنایا جس میں حماس کے دو کارکن سمیت تین فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس سے قبل اتوار کو غرب اردن کے شہر رملہ میں ایک حملے میں تین اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ الاقصیٰ بریگیڈ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے حملوں میں یہ ہلاکتیں معمول بنتی جارہی ہیں۔ چند روز قبل ایک حملے میں امریکی سفارتخانے کے تین اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

دریں اثناء قیام امن کے اس نقشۂ راہ پر بھی عمل درآمد رک گیا ہے جو امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ نے طے کیا تھا۔ کیا فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے مابین نصف صدی سے جاری یہ تنازعہ ختم ہوسکتا ہے؟ آپ کی نظر میں اس مسئلے کا حل کیا ہوسکتا ہے؟

--------------یہ فورم اب بندہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں------------------------

امریکہ پر یہودیوں کا اثرورسوخ

 اسرائیل اس وقت تک وہاں رہے گا جب تک امریکی یہودیوں کے پاس امریکی حکومت کو بلیک میل کرنے کا اثرورسوخ موجود ہے۔

علی کاظمی

علی کاظمی، ونڈسر، کینیڈا

اسرائیل کی موجودگی غیرقانونی ہے۔ اسرائیل اس وقت تک وہاں رہے گا جب تک امریکی یہودیوں کے پاس امریکی حکومت کو بلیک میل کرنے کا اثرورسوخ موجود ہے۔ مہاتر محمد نے بجا طور پر اس کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ اس وقت تک امن ناممکن ہے جب تک امریکی اسرائیل کو بچانا بند نہیں کرتے۔ یہ ہوگیا تو نہ دہشت گردی رہے گی اور نہ ہی اسرائیل۔

شاہد خان، سٹاک ہوم، سویڈن

اسرائیل کو قبضہ ختم کرنا چاہئے۔

مختار نقوی، فلوریڈا، امریکہ

تشدد ایک ہی صورت میں ختم ہو سکتا ہے اگر خطے کے لوگ جارحیت کرنے والے ملک جو کہ اسرائیل کے خلاف ہتھیار اٹھالیں۔ ان ممالک کو اعلان کردینا چاہئے کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں اور فلسطینی اتھارٹی کو اس کی قانونی حکومت مانتے ہیں۔ اس معاہدے کے ارکان کو اپنی فوجیں مقبوضہ عرب علاقوں کی طرف بھیجنی چاہئیں۔ اسرائیل کو چونکہ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوگا اسی لئے وہ قابو سے باہر ہوگیا ہے۔ عربوں کے جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہی اسرائیل وہ سب کچھ کرنا بند کردے گا جو وہ پچھلی پانچ دہائیوں سے کر رہا ہے۔

خودکش حملہ آور ان میں بھی

اگر نا انصافی یہودیوں سے ہوئی تو پھر اسی طرح خودکش حملہ آور ان میں بھی پیدا ہوں گے اور امن کا قیام ناممکن رہے گا۔

طارق محمود خان

طارق محمود خان، تریپولی

جب تک انصاف قائم نہیں کیا جائے گا امن قائم نہیں ہو سکتا، انصاف یہودیوں سے بھی اور مسلمانوں سے بھی۔ اگر نا انصافی یہودیوں سے ہوئی تو پھر اسی طرح خودکش حملہ آور ان میں بھی پیدا ہوں گے اور امن کا قیام ناممکن رہے گا۔

اوب خان، کراچی، پاکستان

اسرائیل کو ان شہریوں پر جن کے پاس پستول اور گولیاں تک نہیں ہیں، جدید ترین جنگی جہاز اور ہتھیار استعمال کرنے بند کرنے چاہئیں یا پھر امریکہ کو وہی ہتھیار فلسطینیوں کو بھی مہیا کرنے چاہئیں تاکہ وہ بزدل اسرائیلیوں سے لڑ سکیں۔

شیر اکبر، کویت

امریکہ ہر جگہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتجاج کرتا ہے ، اس پر خاموش کیوں ہے۔

عبدالغفار، راولپنڈی، پاکستان

امن صرف مظلوم فلسطینیوں کو ان کا حق دینے اور انصاف کرنے سے ہی قائم ہو سکتا ہے۔

اب یا۔۔۔۔

 یہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں پر منحصر ہے کہ وہ کب اس طرح کے معاہدے تک پہنچیں گے، اب یا ہزار ہا مزید جانیں گنوا کر۔

ابرار

ابرار، بالٹی مور، امریکہ

دونوں اطراف کو اس حقیقت کا احساس کرنا پڑے گا کہ بہت خون بہایا جا چکا ہے۔ تاریخ میں ہر بڑی جنگ اور خونریزی کے بعد حل افہام و تفہیم کے ذریعے کئے جانے والے معاہدے ہی ہیں۔ سو اب یہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں پر منحصر ہے کہ وہ کب اس طرح کے معاہدے تک پہنچیں گے، اب یا ہزار ہا مزید جانیں گنوا کر۔

اطہر پرویز، پونا، بھارت

جب تک فلسطین کی زمین اس کے اصل مالکوں یعنی فلسطینیوں کو نہیں لوٹائی جائے گی اس وقت تک امن ممکن نہیں۔ مغرب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انصاف امن کا ناگزیر عنصر ہے اور اس کا مطلب خاموشی نہیں ہے۔

انصاف امن کا ناگزیر عنصر

 انصاف امن کا ناگزیر عنصر ہے اور اس کا مطلب خاموشی نہیں ہے۔

اطہر پرویز

محمد ثاقب احمد، شیخ پورہ، بہار، بھارت

مشرقِ وسطیٰ میں تشدد کا خاتمہ طاقت کا استعمال ایمانداری سے کرنے سے ہوگا۔ یہ موجودہ عہد میں ناممکن ہے کیونکہ نہ تو خطے میں بلکہ پوری امت مسلمہ میں جرات مند سربراہ موجود ہیں اور نہ کسی کے پاس طاقت ہے۔

فرحان خان، کراچی، پاکستان

بات صرف مشرقِ وسطیٰ کی نہیں۔ اگر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے آزاد کرا دیئے جائیں تو مسئلہ ہی ختم ہو جائے۔

محمد زبیر مظہر، ملتان، پاکستان

یہودیوں کو ختم کر دینے سے دنیا میں سو فیصد امن ہو جائے گا۔

وقار اعوان، ٹورنٹو، کینیڈا

انصاف نہیں تو امن نہیں۔

دہشت گردی کا خاتمہ

 جب بھی فلسطین، کشمیر اور مشرقِ وسطیٰ میں دوسری جگہوں سے اس ناانصافی کا خاتمہ ہوگا، دہشت گردی خود بخود ختم ہو جائے گی۔ حیرت ہے کہ یہ بات ایک عام آدمی کو معلوم ہے لیکن امریکہ اور مغرب کے دوسرے ممالک کی انتظامیہ کی سمجھ میں نہیں آتی۔

محمد نذیر خان

محمد نذیر خان، اومان

یہ ایسے ہی ہے کہ کسی کے گھر میں ڈاکو گھس آئیں اور پھر وہ گھر کے مالکوں کو دہشت گرد قرار دیں۔ فلسطین کے ساتھ یہی ہورہا ہے اور مغرب اور امریکہ ڈاکو کے ساتھ ہیں۔ جب بھی فلسطین، کشمیر اور مشرقِ وسطیٰ میں دوسری جگہوں سے اس ناانصافی کا خاتمہ ہوگا، دہشت گردی خود بخود ختم ہو جائے گی۔ حیرت ہے کہ یہ بات ایک عام آدمی کو معلوم ہے لیکن امریکہ اور مغرب کے دوسرے ممالک کی انتظامیہ کی سمجھ میں نہیں آتی۔

منظور حسین چوپان، کوئٹہ، پاکستان

امریکہ اور اسرائیل کا پیدا کیا ہوا یہ مسئلہ اسی دن حل ہوگا جب مسلمان متحد ہو جائیں گے اور اسرائیل کے لئے امریکی حمایت ختم ہوجائے گی۔

محمد فدا، ٹورنٹو، کینیڈا

وہ جو یہودیت اور صیہونیت سے آزاد فلسطین چاہتے ہیں غلطی پر ہیں۔ انہیں یہودیوں کے ساتھ پرامن طور پر رہنا سیکھنا ہوگا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان تو یہ مختلف فرقے کے مسلمان کے ساتھ نہیں کر سکتے تو وہ ایسا یہودیوں، عیسائیوں یا ہندوؤں کے ساتھ کیسے کر سکتے ہیں۔ واحد حل ہے کہ ان کے انسانی ، حکومت بنانے اور ریاست قائم کرنے کے حقوق ختم کر دیئے جائیں اور ان سے آماد کیا گیا تمام تر علاقہ اقوامِ متحدہ کے حوالے کر دیا جایا جہاں دن اور رات انہیں تعلیم دی جائے۔ اس کی ایک مثال انڈونیشیا میں میں موجوود ہے جہاں لوگوں کو دماغی بحالی کے کیمپوں میں بھیج دیا گیا تھا۔ اس کا اور کوئی حل نہیں ہے۔

مہذب دنیا

 جو لوگ اپنے مذہب میں بھی عالمگیریت رکھتے ہیں وہ تو دہشت گرد ہیں اور جو کسی دوسرے کا وجود برداشت کرنے کو تیار نہیں وہ امن پسند قوم ہیں۔ واہ رے مہذب دنیا کے باسیو۔

محمد الطاف

محمد الطاف، اٹک، پاکستان

مسئلہ فلسطین اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک تمام مسلمان ممالک متحد نہیں ہوتے اور امریکہ کو اپنا آقا ماننے سے انکار نہیں کرتے اور میرے خیال میں وہ ایسا وقت ہوگا کہ تیسری عالمی جنگ ہو چکی ہوگی۔ ہماراا یقین ہے کہ اس وقت تک دنیا میں ایک بھی یہودی نہیں بچے گا جو عالمی امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ لہٰذا یہ سب باتیں ہیں کہ اس مسئلے کو حل ہوناچاہئے۔ جو لوگ اپنے مذہب میں بھی عالمگیریت رکھتے ہیں وہ تو دہشت گرد ہیں اور جو کسی دوسرے کا وجود برداشت کرنے کو تیار نہیں وہ امن پسند قوم ہیں۔ واہ رے مہذب دنیا کے باسیو۔

یوسف خان، مینگورہ، پاکستان

جب تک فلسطین، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، افغانستان اور عراق کے مسائل موجود ہے دنیا میں امن ہونا ناممکن ہے۔

علینہ علی، ہملٹن، برطانیہ

تمام ممالک اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خودکش حملے بند کئے جائیں گے لیکن وہ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ کن حالات میں یہ خودکش حملے کئے جا رہے ہیں۔ ان لوگوں کو اپنی زندگیوں سے پیار کیوں نہیں۔ امریکہ کبھی بھی اس مسئلے کا حل نہیں چاہے گا ورنہ وہ اسرائیل کے خلاف ہر قرارداد کو ویٹو نہ کرتا۔ اگر دنیا یہودیوں کا مرنا بند کرنا چاہتی ہے تو اسے فلسطینیوں کو آزادی دلانی ہوگی۔

تیسری عالمی جنگ کا خطرہ

 یہ ذمہ داری تمام مسلمان ممالک اور مغربی دنیا پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اسے سنجیدگی سے لیں اور بھرپور کوشش کر کے فلسطینی عوام کو ان کا حق دلوائیں۔ ورنہ ہو سکتا ہے کہ یہی مسئلہ کسی دن خدانخواستہ تیسری عالمی جنگ کا روپ نہ دھار لے۔

خرم شہزاد شیخ

خرم شہزاد شیخ، فرینکفرٹ، جرمنی

فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ اس وقت دنیا میں اہم ترین ہے۔ فلسطینیوں کی جدوجہد کو تقریباً پچاس سال ہونے کو ہیں لیکن اسرائیل فلسطینیوں کو ان کا حق دینے کو تیار نہیں بلکہ تشدد اور طاقت کے ذریعے انہیں دبانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ مغربی دنیا اسے کچھ کہنے کے بجائے حمایت پر آمادہ ہے بلکہ مسلمان ممالک بھی صرف باتیں کرنے اور قراردادیں منظور کرنے میں مصروف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی عوام نے خود ہی اسرائیل کو جواب دینا شروع کر دیا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ مسئلہ صرف جنگ اور طاقت کے ذریعے حل ہونا مشکل ہے اور یہ ذمہ داری تمام مسلمان ممالک اور مغربی دنیا پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اسے سنجیدگی سے لیں اور بھرپور کوشش کر کے فلسطینی عوام کو ان کا حق دلوائیں۔ ورنہ ہو سکتا ہے کہ یہی مسئلہ کسی دن خدانخواستہ تیسری عالمی جنگ کا روپ نہ دھار لے۔

جیمز، امریکہ

اسرائیل نے ماضی میں عراق، ایران، شام اور لبنان پر حملے کیے ہیں۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان ممالک کو حق مل گیا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملہ کریں، بالخصوص کیونکہ اسرائیل کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اسرائیل ان کا استعمال مستقبل میں بھی کرے؟ ممکنہ خطرات کے پیش نظر پہلے حملہ کرنے کا حق ان ممالک کو بھی ہے، یا صرف طاقتور ملکوں کو؟

شواہد کو منظرعام پر لانا

 اگر امریکہ، اسرائیل اور ’دہشت گردی مخالف عالمی مہم‘ میں شامل دیگر طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ دنیا ان کے موقف کی حمایت کرے تو انہیں اپنے دشمنوں کے خلاف شواہد کو منظرعام پر لانا ہوگا۔

جیسن

جیسن، امریکہ

اگر امریکہ، اسرائیل اور ’دہشت گردی مخالف عالمی مہم‘ میں شامل دیگر طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ دنیا ان کے موقف کی حمایت کرے تو انہیں اپنے دشمنوں کے خلاف شواہد کو منظرعام پر لانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی ضرورت بھی ہے کہ امریکہ دنیا سے اس بات کا مطالبہ کرنا بند کرے کہ وہ اس کی دہشت گردی مخالف مہم کی حمایت کرے، بالخصوص ایک ایسے وقت جب وہ اسرائیل پر اس کی ایسی ہی اپنی مہم چلانے کے لئے تنقید کررہا ہے۔ اسرائیل اپنے وجود کے لئے لڑرہا ہے اور اس کے دشمن صرف زمین کے لئے ہی نہیں لڑرہے ہیں بلکہ وہ اس وقت تک دم نہیں لیں گے جب تک اسرائیل کا وجود ختم نہیں ہوجاتا۔

منصور حکیمی، کینیا

وہ لوگ جو اسرائیل کی حمایت کرتے رہے ہیں، انہیں پہلے فلسطینی علاقوں کا دورہ کرنا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ کس وجہ سے لوگ خود کو بم سے اڑانے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے ہوئے اور اپنے کمپیوٹروں کے ذریعے حالات پر فیصلہ نہ کریں۔ ان لوگوں سے ملیں جن کے پاس امید کی کوئی کرن نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد