BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 October, 2003, 11:08 GMT 16:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میری رائے: قربانیاں دونوں طرف

یہودی خاندان اپنے پیاروں کو روتے ہوئے
یہودی خاندان اپنے پیاروں کو روتے ہوئے

زیادہ تر فلسطینی اور اسرائیلی پرامن ، آبرومندانہ اور معمول کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اسرائیلیوں کیلئے اس کا مطلب تشدد اور خوف سے اور فلسطینیوں کیلئے بھوک اور غربت سے آزاد زندگی ہے۔ یہ ممکن ہے لیکن اس کےلئے دونوں اطراف کو قربانیاں دینی ہوں گی۔ فلسطینیوں کو مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ جغرافیائی اور سیاسی موحول کا ادراک کرنا ہوگا جہاں زیادہ تر عربوں پر بادشاہ اور آمر حکمران ہیں جو انتہائی بدعنوان اور نااہل ہیں۔ ان کا مقصد اپنے لوگوں کی توجہ اپنی بدعنوانیوں اور نااہلی سے ’دشمن‘ کی طرف مبذول کرانا ہے۔ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کا بنیادی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ آمر اور بادشاہ ہیں۔

اسرائئل یہ نہیں مان سکتا

 اسرائیل کی موجودہ آبادی ساٹھ لاکھ ہے جس میں سے دس لاکھ عرب ہیں۔ اگر تیس لاکھ فلسطینی واپس لوٹ آتے ہیں تو ان کے ہاں شرح پیدائش بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے چند ہی سالوں میں اسرائیل کا وجود ایک یہودی ریاست کے طور پر ختم ہو جائے گا۔

ابنِ اقبال

فلسطینیوں کو اپنے مطالبات پر ازسرنو غور کرنا ہوگا خاص طور پر فلسطینی پناہ گزینوں کی اسرائیل واپسی اور پورے یروشلم کا مطالبہ۔ یہ دونوں ناممکن مطالبات ہیں اور کوئی بھی اسرائیلی حکومت خواہ سخت گیر ہو یا نرم خو، اسے نہیں مانے گی۔ پہلے مطالبے کا کچھ اخلاقی جواز ہے لیکن یہ خطے میں آبادی کے تناسب کی حقیقت سے بالکل متضاد ہے۔ اسرائیل کی موجودہ آبادی ساٹھ لاکھ ہے جس میں سے دس لاکھ عرب ہیں۔ اگر تیس لاکھ فلسطینی واپس لوٹ آتے ہیں تو ان کے ہاں شرح پیدائش بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے چند ہی سالوں میں اسرائیل کا وجود ایک یہودی ریاست کے طور پر ختم ہو جائے گا۔

جہاں تک یروشلم کے مسئلے کا تعلق ہے تو وہ مسلمان عربوں کے لئے اس طرح کا مذہبی مسئلہ نہیں ہے جیسا کہ اسے بنا دیا گیا ہے۔ دوسری طرف یہودی اسلام اور حضرت محمد کے آنے سے بھی پہلے یروشلم میں رہتے رہے ہیں، وہاں سے نکالے گئے اور وہاں لوٹ کر آئے۔ فلسطینیوں کو صرف مشرقی یروشلم سے زیادہ کا مطالبہ نہیں کرنا چاہئے۔ دوسری طرف اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں میں ہر قسم کی آبادکاری کا مکمل طور پر خاتمہ کرکے امن کا عمل شروع کرنا چاہئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد