| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چاند دیکھنا ضروری ہے؟
آج کے دور میں سائنس دانوں کی مدد سے برسوں پہلے اس بات کا تعین کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کے کس خطے میں نیا چاند کس دن دیکھا جاسکتا ہے۔ پھر بھی مسلمانوں کی مختلف جماعتوں اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے علماء اس بات پر بضد ہیں کہ چاند کا دیکھا جانا لازمی ہے۔ کوئی مرکزی نظام نہ ہونے کی وجہ سے علماء کے مختلف مکاتب فکر رمضان، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی مختلف تاریخیں مقرر کرتے ہیں جس کے باعث اکثر اوقات ایک ہی علاقے میں لوگ ایک وقت میں عید نہیں مناتے۔ آپ کی رائے میں موجودہ صورتحال ٹھیک ہے؟ کیا سائنس دانوں کی بات مان لینی چاہئے؟ علماء کا یہ کہنا کہ چاند کا دیکھا جانا لازمی ہے کہاں تک صحیح ہے؟ کیا آپ چاہیں گے کہ مسلمان کوئی ایسا نظام وضع کریں جس کے تحت کم از کم ایک ملک میں تو سبھی قمر تاریخوں پر متفق ہوں؟ --------------یہ فورم اب بندہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں------------------------ کبیر احمد، بیلجیئم اگر ہم مسلم ہیں تو پھر چاند دیکھنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے، صرف کسی ایک ملک میں چاند نظر آجائے تو پوری دنیا کے مسلمانوں کو اسے مان لینا چاہئے۔ اسلم محمد، میکسیکو اسلام سائنسی مذہب ہے اس لئے اس میں جغرافیہ، جنیات اور ریاضی جیسے تمام مضامین کا مطالعہ موجود ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ کئی وجوہات سے چاند ملک کے سبھی علاقوں میں دکھائی دے۔ حضرت محمد (ص) نے کہا تھا کہ لوگوں کا وہ گروہ جو چاند دیکھتا ہے روزہ رکھے اور جو چاند نہیں دیکھ پاتا ہے اس پر ضروری نہیں ہے کہ وہ اسی دن سے روزہ رکھے۔ عرفان مغل، پاکستان اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس میں زندگی کے تمام رموز کو جانچا اور پرکھا گیا ہے۔ ٹھیک ہے موجودہ علماء غلط ہوسکتے ہیں لیکن اسلام کا طریقہ تو غلط نہیں ہوسکتا۔ اسلامی تہوار منانے کا جو طریقہ اسلام نے وضع کیا ہے اس پر عمل درآمد ضروری ہے۔
عمران، ٹیکساس، امریکہ حدیث پاک ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو۔ جہاں تک علماء پر اعتراض ہے کہ قرآن پڑھ کر سمجھتے ہیں کہ عالم ہو گئے تو بھائی آپ تو بغیر قرآن سیکھے ہی مفتی بن جاتے ہو۔ جو لوگ علماء کو منافقانہ سوچ رکھنے کا الزام دے رہے ہیں ان کو بھی سوچنا چاہئے کہ ان کا نکاح اور دوسری اسلامی ضروریات یہی مولوی لوگ پوری کرتے ہیں۔ اسلم چوہدری، پاکستان نہیں یہ ضروری نہیں ہے۔ خالد محمود، جرمنی چاند دیکھنا لازمی ہے کیوں کہ یہ قدرت کا ایک قدرتی امر ہے۔ احمد، لاہور، پاکستان تمام مولویوں کو تعلیم دی جائے کیونکہ ان سب میں تعلیم کی کمی ہے اور یہ اسلام کے خلاف ہے۔
قیصر حنیف، لاہور، پاکستان اگر چاند صرف آنکھ سے ہی دیکھا جانا چاہئے تو علماء ٹیلی سکوپ کا استعمال کیوں کرتے ہیں۔ پھر اگر بادل آجائیں تو کیا نیا ماہ شروع نہیں ہوگا؟ تب بھی تو ہم چاند دیکھنے کی بجائے سائنس اور عقل کا استعمال کرتے ہیں۔ ارشد عثمان، اوٹاوہ، کینیڈا پہلے ہمیں اجتہاد کی ضرورت کو سمجھنا چاہئے اور دوسرے طریقہ کار کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب قرآن اور سنت کی روشنی میں کوئی واضح ہدایت موجود نہ ہو۔ یہ غلط ہے کہ علماء میں اس پر اتفاقِ رائے مموجود نہیں اور تمام علماء یہی کہتے ہیں کہ چاند کو دیکھنا ضروری ہے۔ بحث کا وقت تب آتا ہے جب چاند دکھائی نہ دے یا ایک خطے میں دکھائی دے اور دوسرے میں نہ نظر آئے۔ اس صورت میں بھی اس پر اتفاقِ رائے ہے کہ مقامی حساب سے ہی چاند دیکھ کر عید منائی جائے اور اس مقصد کے لئے ایشیا، یورپ، عرب اور شمالی امریکہ میں تنظیمیں موجود ہیں۔ پھر اس سے مسلمانوں کے اتحاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اگر مسلمان مختلف علاقوں میں مختلف دنوں پر عید منائیں۔ قمر منیر، امریکہ اسلام کی رو سے چاند دیکھنا لازمی ہے۔ محمد ندیم اکرام، برطانیہ یہ ایک مضحکہ خیز بحث ہے۔
حسین نقوی، پاکستان اسلام اتنا اکھڑ مذہب نہیں ہے جتنا کہ ملاؤں نے بنا دیا ہے۔ اسلام کے اصل عالم روشن خیال ہیں اور وہ اپنی رائے سائنسی بنیادوں پر بناتے ہیں۔ لہٰذا چاند کے سلسلے میں بھی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ عبیدالرحمان آصف، پاکستان علماء ٹھیک کہتے ہیں۔ محمد عتیق، فیصل آباد، پاکستان اب وقت آچکا ہے کہ مسلمان بھی سائنس کا استعمال شروع کر دیں۔ محمد احمد، کراچی، پاکستان اسلام دینِ فطرت ہے اس لئے چاند کو دیکھنا ضروری ہے اور یہ اصول ہر جگہ کے لئے ضروری ہے البتہ چاند کی پیدائش اور سمت کے تعین کے لئے سائنس سے مدد لینا اور دور بین کا استعمال کر نا منع نہیں ہے۔ شاہد ساگر، گھوٹکی، پاکستان علماٌ کی رائے درست ہے۔
مسز کلیم احمد، کیلگری، کینیڈا میرے خیال میں ہمیں سائنس کے علم کے مطابق دن طے کر لینا چاہئے۔ یہ ملا حضرات کی منافقانہ سوچ ہے کہ ایک طرف تو خود جدید ایجادات سے مستفید ہوتے ہیں جیسے کہ کاریں، موبائل فون اور بچوں کو باہر اعلیٰ تعلیم دلوانا مگر عوام کو اس قسم کے مسائل میں الجھا کر بےوقوف بنائے رکھتے ہیں۔ اب تو ویسے بھی پاکستان میں متحدہ مجلسِ عمل بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، دیکھتے ہیں دن پر کتنا اتفاق ہوتا ہے۔ فاروق رشید، کراچی، پاکستان اللہ ان لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے جن کے دلوں میں اپنے علماء کی کہی ہوئی بات کی عزت نہیں ہے لیکن ان لوگوں کی بات، جو اپنے پادری کو فادر کہہ کر عزت دیتے ہیں، قابلِ قبول ہے۔ احمد عبدالرحیم، واٹرلو ، کینیڈا حیرت ہے کہ جو لوگ عالم اور قرآن کا تلفظ بھی صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتے وہ اپنے علماء، محدثین اور حافظِ قرآن پر اس طرح کے سطحی اعتراضات اٹھا رہے ہیں۔ اگر وہ آج کے علماء کی پس ماندگی کے بارے میں اتنے ہی حساس ہیں تو اپنے بچوں کو پی ایچ ڈی اور ایم ڈی کروانے کے بجائے مدرسوں میں کیوں نہیں بھیجتے۔
محمد عارف کامران بلوچ، ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان حکومت کو کوئی ایسا طریقہ وضع کرنا چاہئے کہ ایک ملک میں ایک ہی دن رمضان کا آغاز ہواور عید منائی جائے۔ اسلام کی رو سے چاند دیکھنا ضروری ہے۔ باقی سائینس کے نتائج تو بدلتے رہتے ہیں۔ شاکر خان، کراچی، پاکستان ملاؤں کی وجہ سے ہی تو مسلمان ہر جگہ بدنام ہو رہے ہیں۔ ان میں آپس میں ہی اتفاق نہیں تو دوسروں کو کیا متفق کر سکیں گے۔ آصف علی چوہدری، ایمسٹر ڈیم، نیدرلینڈ سائنس دانوں کی بات مان لینی چاہئے۔ اظفر خان، ٹورنٹو، کینیڈا میرا تو خیال ہے کہ دنیا بھر میں ایک ہی دن عیدین منائی جانی چاہئیں۔ ہمیں سعودی عرب کی تقلید کرنی چاہئے جہاں سے اسلام کا ظہور ہوا۔ ہمیں اس سے ایک امہ ہونے کا احساس بھی ہوگا۔ اظہر اقبال بٹ، شارجہ جب علماء نے کہہ دیا کہ چاند دیکھنا ضروری ہے تو پھر سوال نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ان کا ہر لفظ اٹل ہے کیونکہ وہ دین کے اور اسلام کے وارث ہیں بھئی۔
محمد امین، فِلےڈیلفیا، امریکہ میرے خیال میں مولوی حضرات کو سوچنا چاہیے کہ انسان اب بہت ترقی کر چکا ہے۔ بہت سے علماء تو اس بات سے بھی اتفاق نہیں کرتے کہ انسان نے چاند پر قدم رکھا ہے۔ میری رائے میں تمام علماء پر سائنسی تعلیم حاصل کرنا لازمی ہونا چاہیے تاکہ ہمارا ملک بھی کچھ ترقی کر لے اور ہم ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ مل جائیں۔ آج کے دور میں تمام مسلمان باقی دنیا سے پیچھے ہیں اور کوئی ہمیں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ عمران محمد، قطر حدیث میں قیامت کی نشانیوں میں ایک یہ ہے کہ لوگ علماء کو برا بھلا کہیں گے اور آجکل ایسا ہی دیکھنے میں آنے لگا ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ اپنے پیشواؤں کا احترام کرتے ہیں۔ اسلامی مہینوں کا آغاز چاند دیکھ کر ہی کیا جاتا ہے اس لیے چاند دیکھنا لازم ہے اور سنت بھی اور یہی وجہ ہے کہ کچھ مہینے انتیس روز کے اور کچھ تیس روز کے ہوتے ہیں البتہ اس سلسلے میں سائنسی طریقوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے اور کیا جاتا ہے۔ سعید احمد، سعودی عرب مسلمانوں کو مذہبی امور میں سائنسی تعلیمات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ میرے خیال میں اسلامی کیلینڈر کے آغاز کے لیے یہ بات ضروری نہیں ہے کہ ہر انسان چاند دیکھے۔ علما کرام کو چاہیے کہ وہ سائنسی معلومات پر عمل کرتے ہوئے ملک میں ایک ہی دن عید منائیں۔
بہادر خان، اوسلو، ناروے میرے خیال میں علماء کو اس مسئلے کا حل تلاش کر لینا چاہیے۔ دنیا بھر کے ممتاز علماء کو اس ضمن میں ایک کانفرنس منعقد کرنی چاہیے تاکہ اس مسئلے کو ختم کیا جا سکے۔ میرے خیال میں چاند سے متعلق سائنسدانوں کا مشورہ مان کر مہینے کے آغاز اور اختتام کا فیصلہ کرنا چاہیے۔
صبح صادق، پاکستان میرے خیال میں سائنس سے ہر صورت استفادہ کرنا چاہیے لیکن ہمارے علماء چاند اور دیگر امور پر الجھے رہتے ہیں اس لیے سب کو ایک نکتہ پر مطمئن کرنا خاصا دشوار ہے۔ یہ لوگ مل بیٹھ کر کبھی اپنے تضادات ختم نہیں کریں گے۔ یہ لوگ دوسروں کو بےچین رکھنا چاہتے ہیں۔
سید ابوزر، لاہور، پاکستان اب وقت آن پہنچا ہے کہ ہم سائنسی معلومات اور اعداد و شمار کو اپنانا شروع کر دیں اور پرانے طور طریقوں کو چھوڑ دیں۔ اسلام دراصل تخلیق اور کشادہ نظری کا مذہب ہے اس لیے ہمیں بھی جدید طریقوں کو اپنانا چاہیے۔ آصف عباس، کراچی، پاکستان ہمیں چاہیے کہ جس طرح ہم دیگر امور میں سائنس پر انحصار کرتے ہیں اسی طرح قمری مہینے کے معاملے میں بھی سائنس سے مدد لینی چاہیے۔
خالد نظیر، ہائی وائیکومب، برطانیہ میرے خیال میں ہمیں سائنسدانوں کی بات ماننی چاہیے۔ وائیکومب میں ہر برس دو عیدیں منائی جاتی ہیں جس کی بنیادی وجہ قدامت پسند ملا حضرات کے باہمی تضادات ہیں۔ اسی وجہ سے مسلمان دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔
شباب علی، پشاور، پاکستان میرے خیال میں سائنسی ترقی سے استفادہ کرنا چاہیے اور بلا شبہ اسلام بھی اس کی اجازت دیتا ہے۔ اسلام زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کا درس دیتا ہے لیکن بدقسمتی سے بعض ملا حضرات، جو صرف نام کے عالم ہیں، اجتہاد پر یقین نہیں رکھتے۔ میرے خیال میں اگر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس معاملے میں علماء کرام سے بات چیت کی جائے تو وہ یقیناً اس بات پر رضامند ہو جائیں گے کہ علماء کے نمائندوں کو شامل کرنے کے بعد یہ کام سائنسدانوں کو ہی سونپ دینا چاہیے۔
محمد عمران آصف، ایتھنز، یونان ہمارے ملک میں جو شخص بھی قرآن حفظ کرتا ہے وہ خود کو عالم کہلوانا شروع کر دیتا ہے بھلے اسے عربی کا مطلب ہی نہ آتا ہو۔ میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ علماء کے لیے سائنسی تعلیم لازمی قرار دینی چاہیے تا کہ اس طرح کے مسائل میں فرقہ واریت ختم ہو سکے۔ شیخ، امریکہ میری رائے میں اس مسئلے کا حل آسان نہیں ہے۔ پہلے ہمیں اس بات کی تحقیق کرنی چاہیے کہ بعض علماء کیونکر اعتراض کرتے ہیں۔ ہمارا مذہب اب تک اس لیے محفوظ رہا ہے کہ دیگر مذاہب کی طرح اس میں تبدیلیاں نہیں کی گئیں۔ اگر یہ فورم غور و خوض کے لیے مفید ہے تو ساتھ ہی نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر میں غلطی پر نہیں تو آج دنیا کے بیشتر مسلمان اسلام اور فقہ کے بارے میں بہت سطحی علم رکھتے ہیں اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ بہت محتاط رہیں۔ ویسے بھی مذہبی امور پر بات کرنے سے پہلے اسلامی تعلیمات کا بغور مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ وسیم بھٹی، آئسنبرگ، جرمنی اسلام دینِ فطرت ہے۔ علماء نے دین کو ہمیشہ ایک مسئلہ ہی بنایا ہے جس کی وجہ سے آج تک غیروں سے مات کھا رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل جب لاؤڈ سپیکر کا استعمال شروع ہوا تو ایسے ہی ملا حضرات نے کفر کے فتوے عائد کیے تھے لیکن اب یہی لوگ لاؤڈ سپیکر کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں۔ میری رائے میں نوے فیصد مسلمان یہی چاہیں گے کہ عید کو قومی تہوار کے طور پر ایک ہی روز منایا جائے اور یہ اسی صورت ممکن ہے اگر جدید سائنسی طریقوں کو بروئے کار لا کر چاند کی تاریخوں کا اعلان کیا جائے۔ علی جعفری، کراچی، پاکستان کھلی آنکھ سے چاند دیکھنا بہت ضروری ہے۔ فقہِ جعفریہ کے مطابق ہر اسلامی مہینے کا چاند دیکھنا واجب ہے۔ شاہد راؤ، لاہور، پاکستان یہ ایک نامعقول سوال ہے کیوبکہ بات بالکل سیدھی، سادہ، واضح اور قدرتی ہے کہ مہینے کا آغاز چاند دیکھ کر ہی ہوتا ہے۔ اس میں بھی مضائقہ نہیں کہ ایک بہت بڑے ملک میں عید منانے کی دو مختلف تاریخیں ہوں۔ سید احمد علی بخاری، کیلیفورنیا، امریکہ بعض علماء اسلام کے مطابق رویت حلال کمیٹی میں ماہرین فکلیات کی رائے کو قبول کیا جا سکتا ہے۔ ان میں ایران، لبنان اور سعودی عرب کے چند علماء بھی شامل ہیں۔
ابرار، بالٹیمور، امریکہ میری رائے میں چاند سے متعلق سائنسی اعداد و شمار سے استفادہ کرتے ہوئے ایک نیا قابلِ عمل نظام مرتب کرنا چاہیے۔ وہ تمام علماء جو اس موقف سے اتفاق نہیں کرتے انہیں چاہیے کہ وہ گاڑی، موبائل فون اور دیگر جدید سہولیات کا استعمال ترک کر دیں کیونکہ پیغمبر اسلام ان سے بھی کبھی مستفید نہیں ہوئے تھے۔ یہ علماء کرام اسلام کو ایک جامد مذہب بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں اور جدید دریافتوں سے ہم آہنگی پیدا کرنے سے گریزاں ہیں جو کہ اسلام کی روح کے منافی ہے۔ محمد قمرالدین، بالٹیمور، امریکہ بلاشبہ اس ضمن میں مذہبی علماء کی ایک کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے، ہر کسی کو اس کمیٹی کے فیصلوں کا پابند ہونا چاہیے اور ایک ہی امت کے طرز عمل کا پابند ہونا چاہیے۔
ہارون احمد کھوکھر، لیڈز، برطانیہ قرآن میں خدا نے کہا ہے کہ انسان کائنات پر غالب آ جائے گا اور ہمیں اس بات کے بےشمار شواہد بھی ملتے ہیں۔ اس اعتبار سے سائنس کی مدد سے حاصل کردہ قمری معلومات کو قبول کرنا چاہیے اور چاند کو کھلی آنکھ سے ہی دیکھ لینا ضروری نہیں ہے۔
راشد فراز، کینیڈا میرے خیال میں اس مسئلے کے حل کے لیے علماء اور سائنسدانوں کو باہمی افہام و تفہیم سے کام لینا چاہیے۔ علماء کو اکیسویں صدی کے تقاضوں کو سمجھنا چاہیے اور عملیت پسند ہونا چاہیے۔
اشرف صدیقی، ملواکی، امریکہ قرآن، حدیث اور اجماع اسلامی شریعہ کی بنیاد ہیں اور شریعت ایک خاص ڈھنگ سے اسلام پر عمل درامد کا طریقہ بیان کرتی ہے۔ اس کے برعکس سائنس، اسلام اور مذہبی پہلوؤں کی وضاحت کرنے سے قاصر ہے۔ قمری کیلنڈر کے آغاز اور چاند کے وجود میں آنے کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد چاند کے بدلتے خدوخال دیکھ کر ہی ڈالی گئی۔ چند برس قبل شمالی امریکہ کی اسلامک سوسائٹی نے ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا اور دنیا کے مختلف علماء کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ کانفرنس کے اختتام پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسلامی کیلینڈر کا صحیح آغاز، مقامی سطح پر چاند دیکھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ عبدالصمد، اوسلو، ناروے قرآن کی ہر چوتھی آیت میں مسلمانوں کو فکر کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور اس اعتبار سے ہمیں ماہرین فلکیات کی بات مان لینی چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||