| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
صومالیہ سے نکلنا مشکل تھا۔۔۔
میرا گھر صومالیہ کے دارالحکومت موگادیشو کے پاس مرکا نامی ایک گاؤں میں ہے۔ انیس سو چھیانوے میں میں یمن گیا اور پھر وہاں سے لندن آیا۔ صومالیہ میں حالت بری تھی۔ میرے والد ایک بزنسمین تھے جو اٹلی سے کھانے پینے کی اشیاء لاکر موگادیشو میں فروخت کرتے تھے۔ لیکن باغیوں نے ان پر الزام لگایا کہ وہ حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ میرے والد گھر چھوڑ کر چلے گئے۔ میرے چچا مجھے یمن لے گئے جہاں میں نے چار ماہ گزارے۔ میرے چچا نے میرے لئے ایک پاسپورٹ کا انتظام کیا اور مجھے ایک ہوائی جہاز پر بٹھا دیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ پاسپورٹ کس کا تھا۔ اس زمانے میں صومالیہ سے یمن آنا آسان تھا۔ یمن کی سرحد پر کوئی پاسپورٹ کے بارے میں نہیں پوچھتا تھا۔ لیکن اب حالات پہلے کی طرح نہیں ہیں۔ میں ہوائی جہاز سے یورپ پہنچا، میرے خیال میں فرانس کا کوئی شہر تھا، ہوسکتا ہے پیرس رہا ہو۔ وہاں سے میں بس کے ذریعے برطانیہ کی بندرگاہ ڈوور پر پہنچا جہاں برطانوی حکام نے میرا پاسپورٹ رکھ لیا۔ مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔
لیکن صومالیہ سے باہر نکلنا اتنا آسان نہیں تھا۔ وہاں اچھا ہوائی اڈہ نہیں ہے۔ لاقانونیت ہے۔ ہوائی اڈہ پر بہت سے گروہ آپ سے پیسہ مانگتے ہیں، اور پیسہ نہ ہونے پر ہوسکتا ہے کہ قتل بھی کردیں۔ برطانیہ میں ہوم آفس نے مجھے آغاز میں ایک سال کے لئے پناہ گزین کی حیثیت سے رہنے کا حق دیا۔ چونکہ میرا بھائی لندن میں پہلے سے موجود تھا اور میرا خرچ سنبھالنے کے لئے تیار ہوگیا، اس لئے ہوم آفس نے مجھے میرے بھائی کے ساتھ جانے دیا۔ بعد میں مجھے ایک مستقل رفیوجی کی حیثیت مل گئی۔ میں جب گھر سے چلا تھا اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔ برطانیہ آکر میں نے اسکول میں پڑھائی شروع کی اور بعد میں مجھے مستقل قیام کا حق مل گیا۔ ابھی تک مجھے حکومت کی جانب سے بیالیس پاؤنڈ ہرہفتے مل رہا ہے۔ لیکن آئی ٹی کی تربیت حاصل کرنے کے بعد میں کام کرنا شروع کردوں گا۔ والد سے بھی آج کل بات ہوجاتی ہے۔ وہ یمن میں ایک پناہ گزیں کی حیثیت سے رہ رہے ہیں۔ لندن میں میری شادی ہوگئی ہے اور میری بیوی بھی اسکول میں پڑھتی ہے۔ میری آٹھ ماہ کی ایک بیٹی بھی ہے۔ میرے لئے صومالیہ سے نکلنا مشکل تھا، لیکن یہاں پہنچنے پر آسانی سے رہنے کا حق مل گیا۔ نوٹ: اس آپ بیتی کے راقم لندن میں ایک پناہ گزیں ہیں اور ان کا نام تبدیل کردیا گیا ہے۔ اگر آپ بھی وطن سے دور دربدری کی زندگی گزار رہے ہیں، تو ہمیں اپنی کہانی کم سے کم الفاظ میں لکھکر بھیجئے۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام نہیں شائع کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||