| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
واپس جانا چاہتاہوں
میری عمر اڑتیس سال ہے۔ میرے گردے بےکار ہوگئے ہیں جس کا علاج کرانے کے لئے میں چار سال قبل لندن آیا تھا۔ میں روزانہ تین، چار گھنٹے سفر کرکے ہسپتال جاتا ہوں، وہاں مجھے گردوں کی مشین کے لئے دو تین گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے، پھر ڈائلاسِس کے دوران چار گھنٹے لگتے ہیں، اور پھر واپسی میں مجھے ٹرین کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ لیکن مجھے ہسپتال آنے کے لئے گاڑی نہیں ملتی، جبکہ دوسرے مریضوں کو گاڑی مہیا ہوتی ہے۔ سال بھر پہلے مجھے برطانوی حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ سیاسی پناہ کے لئے میری درخواست مسترد کی جارہی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مجھے گاڑی مہیا نہیں ہوسکتی کیونکہ ان کے پاس فنڈ نہیں ہے جبکہ ایسے مریضوں کے علاج کے لئے اقوام متحدہ اور (برطانیہ کا صحت عامہ کا محکمہ) این ایچ ایس نے اس کے لئے فنڈ مخصوص کیے ہیں۔ میں ہیپاٹائٹِس۔سی کا بھی مریض ہوں جس کا علاج نہیں ہورہا ہے۔ میں کام کرنے کے قابل نہیں ہوں، مجھے سرکاری طور پر جو اڑتیس پاؤنڈ چھبیس پینس ہر ہفتے ملتے تھے وہ بھی کبھی کبھی بند کردیے جاتے ہیں۔ جب باضابطہ طور پر پناہ کی میری درخواست بند کردی جائے گی تو یہ پیسہ بھی ملنا بند ہوجائے گا۔
مجھے بتایا گیا کہ پناہ کے لئے میری درخواست اس لئے مسترد کی جارہی ہے کیونکہ میں افغان نہیں ہوں۔ میں پاکستان سے آیا تھا کیونکہ طالبان کے دور میں لڑائی سے پریشان تھا اور اس وقت افغانستان کی طالبان حکومت سے ویزہ اور پاسپورٹ نہیں مل سکتا تھا جس کی وجہ سے میں پہلے پاکستان آیا اور وہاں میں نے ایک ایجنٹ کو دس ہزار پاؤنڈ دیکر پاکستانی پاسپورٹ اور برطانوی ویزہ حاصل کیا۔ میں لندن علاج کیلئے آیا تھا۔ میرے دو بھائی پشاور میں ہیں۔ ہمارا تعلق افغانستان کے پغمان صوبے سے ہے۔ طالبان نے ہماری دکان جلادی تھی اور کھیتوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ سال بھر سے ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ میرا ہیپاٹائٹِس۔سی کا علاج نہیں ہوسکتا۔ اور یہ کہ میری بیماریاں ایسی ہیں جن کے باعث پوری عمر علاج کی ضرورت پڑے گی۔ میری حالت ایسی ہے کہ اگر حکومت مجھے علاج کے لئے کچھ پیسے دیدے تو میں واپس افغانستان چلاجاؤں گا۔ نوٹ: اس آپ بیتی کے راقم لندن میں ایک پناہ گزیں ہیں اور ان کا نام تبدیل کردیا گیا ہے۔ اگر آپ بھی وطن سے دور دربدری کی زندگی گزار رہے ہیں، تو ہمیں اپنی کہانی کم سے کم الفاظ میں لکھکر بھیجئے۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام نہیں شائع کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||