BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 October, 2003, 15:28 GMT 20:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیرہ سال کی مشقت

برطانیہ میں جنوبی ایشیائی پناہ گزیں
برطانیہ میں جنوبی ایشیائی پناہ گزیں

میرا تعلق پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے ہے۔ میں پاکستان میں ایک ہفتہ وار رسالے کا مدیر تھا۔ ایک مقامی رکن صوبائی اسمبلی کی بدعنوانیوں کے بارے میں میں نے ایک مضمون لکھا جس کے بعد مجھے احساس ہوا کہ کیا ہوگیا ہے، سرکاری ایجنسیاں میرے پیچھے پڑگئیں۔

میں بھاگ کر انیس سو نوے میں لندن آگیا۔ آج کل برطانیہ آنے والوں کے لئے کافی پریشانی ہوتی ہے، لیکن اس زمانے میں اتنی مشکل نہیں تھی۔ لیکن مجھے یہاں حکومت سے پریشانیوں کا سامنا رہا، کیونکہ برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات اچھے تھے، پاکستان میں ایک جمہوری حکومت تھی اس لئے میں نے سیاسی پناہ کے لئے جو درخواست دی اس کی سنوائی میں کافی تاخیر کی جاتی رہی کیونکہ یہاں کی حکومت پاکستان کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔

میں نے بچپن سے لندن کے بارے میں سنا تھا ، اور یہ بھی سنا تھا کہ یہاں امان مل جاتی ہے، اور برطانیہ آنے کے بارے میں میں نے اس لئے بھی سوچا کہ یہاں زبان کا مسئلہ نہیں تھا۔ یہاں آنے پر مجھے ساؤتھ آل کے ایک گردوارے میں پناہ ملی۔ پھر کچھ دوست بن گئے۔

لیکن یہاں پاکستانی برادری کے لوگوں میں مجھے مقبولیت نہیں ملی، کیونکہ وہ سیاسی پناہ گزینوں سے دور رہنا چاہتے تھے۔ میں بھی کسی پاکستانی نژاد شخص کو یہ بتانے میں ہچکچاتا تھا کہ میں ایک پناہ گزیں ہوں۔

اس دوران میرے والد فوت ہوگئے، میرا بھائی چل بسا، تب مجھے احساس ہوا کہ یہ غیرملک ہے، اپنے لوگ اپنے ہوتے ہیں۔

پاکستانی پناہ گزین، لندن

میری پناہ کی درخواست میں پیش رفت اس وقت ہوئی جب انیس سو ستانوے میں لیبر پارٹی اقتدار میں آئی۔ ٹوری پارٹی کی حکومت نے میری درخواست ان تیس ہزار درخواستوں میں معطل رکھی تھی جن پر فیصلہ نہیں کیا جارہا تھا۔ مجھے تیرہ سال کی کوششوں کے بعد اسی سال مئی میں مستقل قیام کا حق ملا ہے۔

ان تیرہ برسوں کے دوران مجھے چھوٹے موٹے کام کرنے پڑتے تھے۔ میں نے دکانوں میں کام کیا، بعد میں سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے ساتھ کام کرنے لگا۔ اس دوران میرے والد فوت ہوگئے، میرا بھائی چل بسا، تب مجھے احساس ہوا کہ یہ غیرملک ہے، اپنے لوگ اپنے ہوتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں کو اس طرح کا احساس نہ ہو جن کو آسانی سے پاکستان سفر کرنے کا حق ہے۔

اب میں سرکاری اداروں کے لئے بطور مترجم کام کرتا ہوں۔ اس وقت میرے لئے کوئی بڑی پریشانیاں نہیں ہیں، لیکن پھر بھی میں اپنی شناخت نہیں ظاہر کرنا چاہوں گا کیونکہ اس کی وجہ سے پاکستان میں حکومتی ایجنسیوں کی جانب سے میرے رشتہ داروں کو پریشانی ہوسکتی ہے۔

نوٹ: اس آپ بیتی کے راقم لندن میں ایک پناہ گزیں ہیں اور ان کا نام تبدیل کردیا گیا ہے۔ اگر آپ بھی وطن سے دور دربدری کی زندگی گزار رہے ہیں، تو ہمیں اپنی کہانی کم سے کم الفاظ میں لکھکر بھیجئے۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام نہیں شائع کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد