| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہاں کے بچے، یہاں کے باشندے
میرا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین سے ہے۔ میں انیس سو ترانوے میں اوسلو آئی۔ یہاں ہر شخص بھاگ دوڑ میں مصروف تھا۔ پاکستان میں لگتا تھا کہ وقت ٹھہرا ہوا ہے۔ میرے اندر بھی کچھ کرنے کا عزم ابھر آیا۔ میں اوسلو میں سوشل آفس میں کام کرتی ہوں، لیکن آج کل بچوں کی دیکھ بھال کے لئے سال بھر کی چھٹی پر ہوں۔ سوشل آفس سے غریب لوگوں کو مالی امداد دی جاتی ہے۔ امداد حاصل کرنے والوں میں پاکستانی نژاد لوگ بھی شامل ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ بات شامل ہے کہ حکومت سے جو مل جائے لے لو، یہ رویہ اسلامی رو سے غلط ہے۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو کام بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی غریبوں کے لئے مخصوص مالی امداد بھی غیرقانونی طور پر لے لیتے ہیں۔ یہاں غیرقانونی تارکین وطن کا مسئلہ نہیں ہے۔ کیونکہ غیرقانونی طور پر یہاں رہنا آسان نہیں ہے اور اس طرح کا ہرشخص آسانی سے پکڑا جاتا ہے۔ بعض اوقات جعلی شادیاں کرکے بھی لوگ یہاں رہنا چاہتے ہیں۔ میرے والد یہاں پہلے سے ہی کام کرتے تھے۔ جب میں یہاں آئی سب سے پہلا مسئلہ زبان کا آیا، لیکن میری پھوپھی کی بیٹی یہاں کی نارویجین زبان بولتی تھی جس سے مجھے بھی حوصلہ ہوا اور والد کے کہنے پر ایک اسکول میں نارویجین سیکھنے کے لئے داخلہ لےلیا۔ بعد میں میں نے پرائیویٹ تعلیم کے ذریعے میٹرک پاس کیا جسے یہاں گرین اسکوڈا کہتے ہیں۔
میری زندگی اسکول اور کالج کے اردگرد گھومتی رہی۔ کالج کے آخری سال میں میری شادی ہوگئی۔ میں نے اور میرے والدین نے پاکستان میں شادی کرنا مناسب سمجھا کیونکہ یہاں جو میری عمر کی نسل ہے اس کے اقدار مختلف ہیں۔ یہاں رہنے والے لوگ، بالخصوص بچوں کے رویے مختلف ہیں۔ لڑکوں کو بےروز گاری کا مسئلہ نہیں ہے لیکن ان کی سوچ مختلف ہے۔ ناروے، سویڈن اور ڈنمارک میں آج کل اس موضوع پر بحث جاری ہے کہ پاکستانی نژاد لوگ اپنے بچوں کو شادی کے لئے پاکستان کیوں لے جاتے ہیں۔ بعض اوقات لوگ اپنے غریب رشتہ داروں کی مدد کے لئے اپنے بچوں کی شادی پاکستان میں کردیتے ہیں۔ اس طرح بچوں کی قربانی ٹھیک نہیں ہے۔ یہ بچے یہاں کے ماحول میں پیدا ہوئے ہیں اور یہیں پرورِش پائی ہے۔ میں پاکستان میں حجاب نہیں اوڑھتی تھی، پاکستانی معاشرے میں دوپٹہ اوڑھنا، بزرگوں کی عزت کرنا بھی ایک طرح کا پردہ ہے۔ لیکن یہاں لوگوں نے اپنے رویے سے احساس دلایا کہ میں مسلمان ہوں اور میں نے خود کو بہتر مسلمان بنانے کی کوشش کی اور میں نے حجاب اوڑھنا شروع کردیا۔ یہاں کے معاشرے نے مجھے دوبارہ اسلام سے روشناس کرایا۔ یہاں کے معاشرے میں مشکلات بھی پیدا ہوئیں۔گیارہ ستمبر کے بعد بعض لوگ ہمیں فنڈامنٹلِسٹ سمجھنے لگے۔ یہاں کے معاشرے میں بچوں کی پرورش، کھانے پینے کا مسئلہ، حرام حلال کا لحاظ جیسے مسائل پیش آئے۔ پھر بھی میں سمجھتی ہوں کہ زندگی یہاں بہتر ہے۔ میری خواہش ہوگی کہ میری بہو یا داماد پاکستانی ہوں، لیکن میں سمجھتی ہوں کہ اگر میرے بچے اپنی پسند کے شخص سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو مجھے ان کی بات ماننی چاہئے۔ یہ سب مستقبل کی باتیں ہیں۔ نوٹ: اگر آپ بھی اپنی زندگی کے شب و روز، اپنی روداد، اپنی آپ بیتی، اپنی کہانی ہمیں لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||