BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بھائی سےملاقات کب ہوگی‘

اے کریم موتن ایک گجراتی کتاب پڑھتے ہوئے
اے کریم موتن ایک گجراتی کتاب پڑھتے ہوئے جس کا اردو میں نام ہے ’بیتی ہوئی باتیں‘

ایک دن صبح معمول کے مطابق ساڑھے چار بجے اٹھا تو پتہ چلا پاکستان بن گیا ہے۔ میں بمبئی میں رہتا تھا، وہاں جھگڑے اور قتل وغارت گری ہورہی تھی، میرے پاس چند روپے تھے۔ اپنے گاؤں دھار امریلی (کاٹھیاواڑ) جانے کا سوچا جہاں میرے بوڑھے والدین دوجوان بہنیں اور دو بھائیوں سمیت دس افراد تھے ۔ اپنے گاؤں پہنچا تو پتہ چلا وہاں بھی دہشت گردی ہورہی ہے۔ گھر میں سونےکا ہار تھا جوہم نے اونے پونے داموں ہندو بنئیے کوبیچا، پھرخاندان کے تمام افراد کو جمع کرکے ویراول کے لئے بس میں روانہ ہوئے، کیونکہ وہاں سے ہمیں پانی کے جہاز میں پاکستان کے لئے روانہ ہونا تھا۔

بس کےسفر کے دوران تمام لوگ ڈرے ڈرے اورسہمے ہوئےتھے، کیونکہ فسادات اور پھر ہمارے ساتھ دو جوان بہنوں کاساتھ۔ ویراول پہنچے تو معلوم ہوا کراچی کے لئے جہاز روانہ ہوچکا ہے۔پھرہم نے وہاں چھ دن گزارے بڑی مشکل سے، اب ہمارے پاس پیسے ختم ہوتے جارہے تھے۔مگر یہاں پھر بھی مسلمان بہت تھے اس لئے ڈرخوف کچھ کم تھا۔ بتیس روپے فی ٹکٹ کے حساب سے گیارہ ٹکٹ خریدے اُن پیسوں سے جو ہار بیچ کر حاصل کئے تھے۔

بارہ اکتوبر انیس سو سیتالیس کو ہم جہاز میں پور بندر (ویراول) روانہ ہوئے اور جہاز دوارکا میں رکتا تھا جہاں ہندو اپنی مذہبی رسومات پوری کرنے آتے اور زیادہ تر مذہبی لوگ رہتے تھے۔ ہمارے جہاز کے پارسی کیپٹن نے وہاں موجود لوگوں کے ہاتھ جوڑکر بلوائیوں سے ان کے مقدس لوگوں کے نام لیکر چھٹکارا حاصل کیا اور کہا کہ جہاز میں کوئی جوان نہیں ہے صرف بچے، بوڑھے اور عورتیں ہیں۔ وہاں عام طور پر چھ گھنٹے جہاز رکتا تھا اس دن چار گھنٹےرکا۔

راستے بھر خوف، گاؤں کے مناظر، جہاز میں مسافروں کی حالت، کیونکہ پندرہ سو مسافروں والے جہاز میں بائیس سو افراد تھے۔ جہاز میں بچوں کے رونے کی آوازیں بھوک سے چیخ و پکار، ہمارے پاس کھانے پینے کی چیزیں تھیں اور نہ ہی جہاز میں کچھ۔ ذہنوں میں جوان دوستوں ساتھیوں کا خیال آتا جن کو بےگوروکفن چھوڑ آئے تھے، آنکھوں سے آنسو نہ چاہتے ہوئے نکلتے چھوٹی بہنیں تو ہمیں دیکھ کر حوصلہ باندھی ہوئیں تھیں۔ انہی بہنوں کو کس کس طرح بچاکرلائے، مگر اس جہاز میں ایک لڑکی اورتھی جس کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی۔ وہ اور اس کا خاندان پورے جہاز میں لوگوں سے منہ چھپاتے تمام راستے روتا رہا، اور سب سے اپنے آپ کو چھپاتا رہا۔

 سکھر پہنچنے کے تیسرے روز میری بہن کا انتقال ہوگیا جو بھارت سے صحیح اور تندرست آئی تھی اور دس دن کے بعد میری بھابھی کا بھی انتقال ہوگیا۔ میرے بڑے بھائی، بہن اور بھابھی کی موت کا صدمہ برداشت نہیں کرسکے اور وہ واپس بھارت اپنے گاؤں چلے گئے۔

اے کریم موتن، کراچی

سفر کے دوران کئی لوگوں کو ہیضہ ہوگیا تھا۔ بہت سے لوگ الٹیاں اور دست کرنے لگے لیکن اسی میں بہت سے لوگ بیٹھے رہے۔ کھانا پینا میسر نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ تمام لوگ اپنی مشکلات چھپاکر انسانی ہمدردی کے تحت دلاسہ دیتے اور صبر کی تلقین کرتے، لوگوں کے ذہن میں اپنے آبائی گاؤں کی باتیں تھیں اور اِدھر شیرخوار بچوں کے رونے کی آوازیں، مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلاتی رہیں نہ جانے وہ خود کب سے بھوکی ہونگی کیونکہ جہاز میں کھانے پینے کو کچھ نہیں تھا۔

چھتیس گھنٹے کے کٹھن سفر کے بعد کراچی پہنچے، سوچتے تھے نہ جانے ہم کہاں جائیں گے، کہاں سے کھانا پینا ملے گا، کس چھت کے نیچے سرچھپائیں گے، بس اس جگہ پہنچ تو گئے تھے جہاں کے بارےمیں سنا تھا۔

ہندوؤں کے بنائے ہوئے بڑے بڑے اسکول تھے (دھرم شالائیں) جہاں یتیموں اور بیواؤں کے لئے جگہ بنائی گی تھیں، وہاں ہم نے لوگوں سے اپنے گاؤں والوں کے بارے میں دریافت کیا پتہ چلا وہ سکھر گئے۔ ہم بھی اپنے خاندان کے ساتھ سکھر چلےگئے۔

ہیضے کی وجہ سےمیری بہن اور بھابھی کی طبیعت کافی خراب ہو تی جارہی تھی، علاج کرواتے تو کہاں سے، کیونکہ جگہوں سے ناواقف تھے۔ سکھر پہنچنے کے تیسرے روز میری بہن کا انتقال ہوگیا جو بھارت سے صحیح اور تندرست آئی تھی اور دس دن کے بعد میری بھابھی کا بھی انتقال ہوگیا۔

میرے بڑے بھائی، بہن اور بھابھی کی موت کا صدمہ برداشت نہیں کرسکے اور وہ واپس بھارت اپنے گاؤں چلے گئے۔ بہت روکا پر نہیں رکے۔ سکھر میں رشتہ داروں نےدوکان دلوادی۔ ایک روپے دوپیسے کا تین کلو آٹا بیچنا شروع کیا۔ جہاں میری بہن اور بھابھی کا انتقال ہوا وہاں میرا اور میرے والدین کا بھی دل نہیں لگا اور ہم کراچی آگئے۔ بمبئی میں ہم لوگ قیمتی پتھروں کا کام کیا کرتے تھے، آج بھی مہارت سے پرکھ لیتا ہوں۔

بھائی سے آخری ملاقات تیس سال پہلے ہوئی جب وہ پاکستان آئے۔ وہ دن آج کا دن ان سے ملاقات نہیں ہوئی اورنہ ہی دیکھا۔

والدین یہ با ت کہتے چلے گئے کہ اپنے بچوں کی شادیاں آپس میں کرنا خاندان سے باہر نہ کرنا جو عام طور پر ہمارے خاندان کا رواج تھا۔ مگر ایسا نہ ہوسکا بھائی نے بھارت جاکر شادی تو کی، مگر آج تک ان کے بچے نہیں دیکھے ان سے اپنے بچوں کی شادی کرنا تو دور کی بات ہے۔

نوٹ: اے کریم موتن نے یہ گفتگو کراچی میں ہمارے نمائندے محمد ارسلان سے کی۔ آپ بھی اپنی آپ بیتی ہمیں لکھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد