| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوج اور قانون: آپ کی رائے
لاہور میں ایک پولیس کانسٹیبل کو میجر جنرل کی گاڑی سے شیشے کالے کرنے والے کاغذ اتارنے کا مطالبہ کرنے پر اس کانسٹیبل کی گرفتاری اور ’پیٹی اور ٹوپی‘ اتروانے پر بی بی سی اردو آن لائن نے جو فورم کیا اس پر ہزارووں لوگوں نے اپنے ردِّ عمل کا اظہار کیا۔ ان میں سے چند نمائندہ اراء درج ذیل ہیں۔
وسیم سجاد، اٹلانٹا، امریکہ میں یہ خط بی بی سی اردو کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات اور اس پر قارئین کی طرف سے آنے والے ردِّ عمل کے جواب میں لکھ رہا ہوں۔ یہ واقعہ اس پرانے اور آزمودہ محاورے کا آئینہ دار ہے کہ ’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘ اور جس پر پاکستان میں ہمیشہ سے عمل کیا جاتا رہا ہے۔ اس دفعہ یہ فوج بمقابلہ پولیس کے ضمن میں ہے۔ دیگر وقتوں میں یہ پولیس بمقابلہ عام آدمی اور سیاستدان بمقابلہ عام آدمی وغیرہ کے طور پر سامنے آتا رہتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ آپ ایک ایسے ملک سے اور کیا توقع رکھتے ہیں جہاں ایک قانون ساز پارلیمان ہے جسے قانون سے کوئی غرض نہیں، جہاں جج صاحبان صرف کٹھ پتلیاں ہیں، جہاں پولیس عام آدمی کی زندگی کےلئے صرف خطرہ ہے اور جہاں عزتِ نفس اور سماجی انصاف جیسے تصورات کی کوئی گنجائش نہیں ہے؟ میں صرف یہی کہوں گا کہ پہلے ہمیں اپنے آپ کو دیکھنا ہوگا، یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم نے اپنے ملک کےلئے کیا کیا ہے اور مزید کیا کر سکتے ہیں۔ جی ہاں، ہمیں تبدیلی کی ضرورت ہے لیکن صرف اس ویب سائٹ پر اپنا غصہ اتار کر ہم اپنے ملک کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔ اس کےلئے قربانیوں اور خود کو وقف کرنا ہوگا۔ مجھے ان سب سے جو یہ پڑھیں گے پوچھنے دیجئے کہ کیا ہم اس کیلئے تیار ہیں؟
باسط خان، اسلام آباد، پاکستان فوج ایک مقدس گائے ہے جس کی پوجا ہرپاکستانی پر فرض کردی گئی ہے۔ (فرمانِ فوج)۔ صرف یہی کہوں گا کہ فوج کا ایک اعلیٰ افسر ہونے کے باوجود میں اس بات پر سخت شرمندہ ہوں کہ ہر افسر کے ذہن میں یہی خناس بھر جاتا ہے کہ وہ کییڑے مکوڑوں سے بر تر ہے۔ خدارا اگر پاکستان کو بچانا ہے تو فوج کی تربیت کا انداز تبدیل کرنا ہوگا۔
محمد عزیز، امریکہ اس طرح کا واقعہ پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے۔ میرے بہت سے عزیز و اقارب فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور مجھے پتہ ہے کہ پاکستان میں یہ ایک عام رواج ہے۔ ایک مرتبہ کوئٹہ میں ایک کپتان کو ایک اے ایس آئی نے روک کر اس کی موٹر سائیکل کے کاغذات اور ڈرائیونگ لائسینس مانگے تھے جو اس کے پاس نہیں تھے چنانچہ اے ایس آئی نے اس کا چالان کر دیا۔ کپتان اپنے یونٹ جا کر دو ٹرکوں میں جوان بھر لایا اور اے ایس آئی اور تین دوسرے پولیس اہلکاروں کو اٹھا لایا۔ جہاں ان پر تشدد کیا گیا۔ دو دن بعد جب آئی جی پولیس نے جا کر کمانڈر سے معافی مانگی تب انہیں رہا کیا گیا۔ یہ ہزاروں میں سے ایک واقعہ ہے۔ میں اس واقعے پر شدید احتجاج کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی کی جائے۔
عمر جنجوعہ، لاہور، پاکستان ایک پولیس کے فرد کا ایک حاضر نوکری فوجی میجر جنرل کی گاڑی کے شیشوں سے کالے کاغذ اتارنے کی کوشش کو الیکٹرانک میڈیا نے بری طرح استعمال کیا ہے خصوصاً بی بی سی نے۔ ملک بھر میں ایسے ہزاروں واقعات روز ہورہے ہوں گے جہاں پر پولیس کوئی مضبوط ادارہ نہیں ہے۔ لیکن اس واقعے کو جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ برائے مہربانی مجھے بتائیے کہ اگر یہی پولیس والا عدلیہ کے کسی اعلی عہدیدار کی گاڑی روک کر یہی کرتا تو کیا اس کے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا۔ ایسا کیوں ہے کہ یہ اچھی طرح جانتے ہوئے کہ یہ ایک فوجی کار ہے اس نے جان بوجھ کر اسے روکا اور اس کے اندر بیٹھے ہوئے افراد کی بے عزتی کرنے کی غرض سے اس نے اس کے شیشوں سے کاغذ اتارنے کا مطالبہ کیا۔ یہ یاد رکھئے کہ جہاں تک میں نے دیکھا ہے لاہور کا ٹریفک کا نظام بدترین ہے۔ زیادہ تر ٹریفک کی لائٹس کام نہیں کرتیں اور جو کام کرتی ہیں انہیں دس بجے شام ہی بند کردیا جاتا ہے جب ٹریفک کا رش سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس طرح کی صورتِ حال میں ٹریفک پولیس کے افراد جو اپنے فرائض بالکل انجام نہیں دے رہے ہوتے باآسانی کسی کو بھی روک کر اس کی بےعزتی کے لئے ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||