BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 October, 2003, 15:29 GMT 20:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی افریقہ کا پاکستان دورہ
کپتان انضمام الحق
کپتان انضمام الحق

پاکستان کی ٹیم جو شارجہ، سری لنکا اور انگلینڈ کے بیرونی دوروں اور بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز میں حالیہ دنوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی رہی، ایک روزہ سیریز میں جنوبی افریقہ سے دو کے مقابلے تین میچوں سے ہار گئی ہے۔

مبصرین کے مطابق جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں پاکستانی بلے بازوں کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ جہاں انضمام الحق نے کپتانی سنبھالی، وہیں وہ چھتیسویں بار رن آؤٹ ہوئے۔ اس سیریز میں شعیب اختر کی واپسی ہوئی، لیکن اس سے قبل راشد لطیف اور کرکٹ انتظامیہ کے درمیان چپقلش چلتی رہی۔ اس سیریز میں اوپننگ کا مسئلہ بھی ایک بار پھر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

آپ کی نظر میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کیسی رہی؟ پاکستانی کھلاڑیوں کی بیٹِنگ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اس سیریز میں کن کھلاڑیوں کی کارکردگی آپ کی نظر میں بہتر رہی؟

--------------یہ فورم اب بندہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں------------------------

احسان خان، پشاور

میرے خیال میں عامر سہیل تجربہ کار شخص کی طرح نہیں پیش آرہے ہیں۔ انہیں جلد سیلیکشن کمیٹی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹا دینا چاہئے، ورنہ عوام کرکٹ دیکھنا بند کردیں گے۔ ایک بار پھر انہوں نے یونس خان اور عمر گل جیسے بہتر کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل نہیں کیا ہے۔

نسیم عباس جعفری، قطر

پی سی بی کو چاہئے کہ کرکٹ ٹیم کے کپتان کو بدل دیں اور ان کی جگہ پر کسی دوسرے کھلاڑی کو کپتان بنایا جائے۔ مجھے انضمام الحق بہت سست نظر آتے ہیں۔

 میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ کرکٹ بورڈ کو چاہئے کہ سیلیکشن کمیٹی کے ارکان کو تبدیل کریں کیونکہ وہ اپنا کام صحیح نہیں کررہے ہیں، بالخصوص عامر سہیل۔

امجد محمود، کینیڈا

امجد محمود، کینیڈا

میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ کرکٹ بورڈ کو چاہئے کہ سیلیکشن کمیٹی کے ارکان کو تبدیل کریں کیونکہ وہ اپنا کام صحیح نہیں کررہے ہیں، بالخصوص عامر سہیل۔ میرے خیال میں ٹیم کے کپتان اور کوچ کو کھلاڑیوں کے انتخاب کا حق ہونا چاہئے۔ پہلے ٹیسٹ میچ کے لئے سیلیشن کمیٹی نے یونس خان کو ٹیم میں یک روزہ میچ میں خراب کارکردگی کی وجہ سے شامل نہیں کیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ٹیسٹ میچ کا کھلاڑی ہے۔

ذیشان حسن، اسلام آباد

میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی ٹیم کو حفیظ کی جگہ شاہد آفریدی کی خدمات حاصل کرنی چاہئے۔

کامران، پاکستان

میرے خیال میں انضمام الحق ایک اچھے کھلاڑی ہیں اور لکی کپتان ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انضمام اپنی صحت کے بارے میں توجہ نہیں دیتے ہیں۔

شعیب ایاز، اسلام آباد

میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی ٹیم نے بہتر کاکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن زخمی ہونے کی وجہ سے اور اوپننگ کے کچھ مسائل تھے۔ میرے خیال میں عمران نظیر اور یاسر حمید اوپننگ کے لئے اچھے جوڑے ثابت ہورہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ راشد ہی بہتر کپتان تھے۔

یاسر نقوی، برطانیہ

عمرگل اچھا باؤلر ہے، اسے مستقل طور پر موقع دیا جانا چاہئے۔ اور لگتا ہے کہ عامر سہیل حفیظ صاحب پر مہربان ہیں کیونکہ وہ ایک ہی کلب سے کھیلتے ہیں۔

عامر رفیق، لندن

سب سے پہلے تو اس شخص کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے جس نے عامر سہیل کو سیلیکشن کمیٹی کا سربراہ بنادیا ہے۔ رہی سیلیکشن کی بات، تو جنید ضیاء تو توقیر ضیاء کا بیٹا ہے اس لئے اسے ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ لیکن حفیظ کو مسلسل خراب کارکردگی کے باجود ٹیم میں کیوں شامل کیا گیا ہے؟

 پاکستان کی ناکامی کی وجہ ٹیم سیلیکشن بھی ہے۔ میرے خیال میں تیسرے باؤلر کو پانچ میچوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔

اوسامہ حنیف بھٹی، فیصل آباد

اوسامہ حنیف بھٹی، فیصل آباد

پاکستان کی ناکامی کی وجہ ٹیم سیلیکشن بھی ہے۔ میرے خیال میں تیسرے باؤلر کو پانچ میچوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔ پہلے میچ میں مشتاق، دوسرے میں ثقلین، تیسرے میں عمرگل، چوتھے میں شبیر اور پانچویں میچ میں کنیریا کو کھیلایا گیا۔ اس کی وجہ سے پاکستان کی مِڈل اننگ میں وکٹیں نہیں ملیں۔ عامر سہیل کو اب ریٹائر کردینا چاہئے۔

احمد نواز، کینیڈا

میرے خیال میں اس سب کے لئے عامر سہیل ذمہ دار ہے، اور پی سی بی کے چیئرمین بھی جنہوں نے عامر سہیل کا سیلیکشن کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے انتخاب کیا۔ ایک شخص جو اب بھی کرکٹ کھیلنا چاہتا ہے اور جس نے اپنے ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی نہیں کیا ہے، کیسے ٹیم کا صحیح انتخاب کرسکتا ہے؟ بعض کھلاڑیوں کے ساتھ اس کے تعلقات خراب رہے ہیں، اور عامر سہیل سمجھتا ہے کہ یہ اس کے گلی کوچوں کی ٹیم ہے جس کا وہ انتخاب کررہا ہے۔

سید فرہاج، ابوظہبی

سب سے پہلے تو ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ٹیم میں نیا خون چاہئے یا پرانا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم فیصلہ نہیں کرپارہے ہیں۔ مثال کے لئے انضمام، پہلے انہیں ٹیم میں شامل ہونا مشکل تھا اور اب وہ کپتان بن گئے ہیں۔ مشتاق؟ کوئی انہیں جانتا ہے؟ ثقلین؟ اگر یہ لوگوں کو ٹیم میں شامل ہونا ہے تو آفریدی اور وقار کیوں نہیں؟ ٹیم کا سیلیکشن اچھا نہیں ہے۔

ہار جیت کھیل کا حصہ

 نئے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے، ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتا ہے

نعیم سرور

خیام صغیر مغل، راولپنڈی، پاکستان

انضمام اچھے کپتان ہیں لیکن ٹیم کو تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر حفیظ کو بدلنے کی ضرورت ہے اور ان کی جگہ عمران نذیر زیادہ بہتر ہوں گے۔

نعیم سرور، سعودی عرب

میرے خیال میں کھلاڑیوں کی کارکردگی بہت اچھی رہی۔ زیادہ تر کھلاڑی نئے ہونے کے باوجود بہت اچھا کھیلے۔ یہ تو ابھی ابتدائی میچز ہیں۔ ٹیم کو مستحکم ہونے کے لئے وقت درکار ہے لہٰذا ابھی زیادہ توقعات وابستہ کرنے کے بجائے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتا ہے۔

عبدالرحیم احمد، واٹرلو، کینیڈا

جلد ہی ہم دیکھیں گے کہ جنید ضیاء کو دس برس کے لئے پاکستانی ٹیم کا کپتان نامزد کر دیا جائے گا۔ فوج نے بالکل یہی سلوک پاکستان کے ساتھ کیا ہے۔ پہلے سب پر سے لوگوں کا اعتماد ختم کر دیا جائے اور پھر خود کو واحد قابلِ قبول طاقت کے طور پر پیش کر دیا جائے۔

جنید ضیاء کپتان

 جلد ہی جنید ضیاء کو دس برس کے لئے پاکستانی ٹیم کا کپتان نامزد کر دیا جائے گا۔ فوج نے بالکل یہی سلوک پاکستان کے ساتھ کیا ہے

عبدالرحیم احمد

ہاشم رضا، ملتان، پاکستان

ایک روزہ میچوں میں یوسف یوحنا اور یاسر حمید نے اچھی بلے بازی اور شعیب اختر اور عمر گل نے اچھی بولنگ کی۔ اگر انضمام پوری طرح فِٹ نہیں تھے تو انہیں پانچویں ایک روزہ میں کھیلنا ہی نہیں چاہئے تھا بلکہ کسی فِٹ کھلاڑی کو موقعہ دینا چاہئے تھا۔

مدثر اسحاق، لاہور، پاکستان

پاکستانی ٹیم کا انتخاب درست نہیں ہے۔ بہت سارے اچھے کھلاڑیوں کو موقعہ ہی نہیں دیا جا رہا۔ اگر جاوید میانداد عمران نذیر کی تربیت کریں تو پاکستانی ٹیم ایک مضبوط ٹیم بن سکتی ہے۔ ہماری ٹیم اتنی بری نہیں ہے جتنا کہ کہا جا رہا ہے۔ بس اس میں جیت کا جذبہ ویسا نہیں رہا جیسا انیس سو بانوے کے عالمی مقابلوں میں تھا۔ اگر ہم پھر چیمپیئن بننا چاہتے ہیں تو ٹیم کو متحد ہو کر جاوید میاں داد کی کوچنگ میں کھیلنا ہوگا۔

جیت کا جذبہ

 ہماری ٹیم اتنی بری نہیں ہے بس اس میں جیت کا جذبہ نہیں رہا

مدثر اسحاق

طارق چوہدری، راولپنڈی، پاکستان

پاکستان کی کارکردگی بہت بری ہے۔ عمران فرحت کو موقعہ دینا چاہئے۔ انضمام اچھے کپتان نہیں ہیں۔ کوئی سلیکشن کمیٹی نہیں ہونی چاہئے۔ کپتان اور کوچ کو کھلاڑیوں کا انتخاب کرنا چاہئے اور شکست کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہئے۔

محمد مشتاق، کولون، ہانگ کانگ

انضمام کی کپتانی ٹھیک ہے مگر سلیکٹر اچھے نہیں۔ حفیظ کو نکال کر سعید انور اور وقار یونس کو واپس لایا جائے۔ ہماری ٹیم کیسے جیتے گی جب ایک بابرکت رات کو کھلاڑی ماڈلوں کے ساتھ عیاشی میں مصروف رہیں گے۔

محمد اقبال اعوان، قائدآباد، پاکستان

انضمام نے اپنی بہترین کوشش کی لیکن بد قسمتی ہے ان فٹ ہو گئے۔ یاسر اور یوحنا بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن باقی تمام بلے باز کسی کام کے نہیں، خاص طور پر حفیظ۔ راشد نے کوئی کوشش نہیں کی نہ تو بلے کے ساتھ اور نہ ہی کیپر کے طور پر۔ پاکستان اگر اپنی بلے بازی بہتر کر لے تو ابھی بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔

مگر پھر جنید ضیاء کا کیا بنے گا؟

 عامر سہیل یا تو خود مستعفی ہو جائیں یا توقیر ضیاء انہیں برطرف کر دیں۔ مگر پھر جنید ضیاء کا کیا بنے گا؟

عظمت صدیقی

عظمت صدیقی، مسی ساگا، کینیڈا

عامر سہیل کی جنرل توقیر کی خوشامد پسندی نے پاکستان کی سنبھلتی ہوئی ٹیم کو ایک بار پھر ڈبو دیا۔ راشد لطیف کے ساتھ پی سی بی کی پالیسی ایک بار پھر اربابِ اختیار کی کراچی دشمنی کا کھلا ثبوت ہے۔ جب تک پی سی بی اپنے اقدامات سے صرف اور صرف ایک مکمل پاکستانی ادارہ ہونے کا ثبوت نہیں دے گا اور میرٹ کو نہیں اپنائے گا ہماری کرکٹ ٹیم یا کسی اور ادارے کی کارکردگی میں تسلسل نہیں ہوگا۔ عامر سہیل سلیکٹر کے طور پر اپنی پرانی دشمنیاں نکال رہے ہیں۔ یقیناً ان کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں کھلی چھٹی دے دی جائے۔ وہ یا تو خود مستعفی ہو جائیں یا توقیر ضیاء انہیں برطرف کر دیں۔ مگر پھر جنید ضیاء کا کیا بنے گا؟

محمود قریشی، فرانس

انضمام اچھے کپتان ہیں لیکن کرکٹ بورڈ اور بلے باز اپنا کام نہیں کر رہے، خاص طور پر اوپنرز اور مڈل آرڈر۔

عدنان حیدر، نیویارک، امریکہ

پہلی بات تو یہ ہے کہ پی سی بی کو راشد کو استعفیٰ مسترد کردینا چاہئے۔ انضمام اچھے کھلاڑی ہیں لیکن اچھے کپتان نہیں ہیں۔ راشد کی کپتانی میں ہم ٹورنامنٹ اور اچھی ٹیموں سے جیتے ہیں اس لئے انہیں بطور کپتان واپس آنا چاہئے۔ پھر یونس کی بھی ابھی ٹیم کو کوئی ضرورت نہیں بلکہ ان کی جگہ عمران نذیر کو یاسر حمید کے ساتھ اوپنر کے طور پر آنا چاہئے۔

کھلے کان اور کھلا دماغ

 سلیکشن کمیٹی اور پاکستانی ٹیم کو کھلے کان اور کھلے دماغ کی ضرورت ہے

احمد مجید

احمد مجید، سکار برو، کینیڈا

سلیکشن کمیٹی اور پاکستانی ٹیم کو کھلے کان اور کھلے دماغ کی ضرورت ہے کہ وہ دنیا کے بہترین کوچ جاوید میانداد کی بات سمجھیں، اس ’مردِ بحران‘ کے تجربے سے سیکھیں اور ان کے فطری جارحانہ مزاج کو اپنائیں۔

عمار ملک، پاکستان

انضمام نے کپتان کے طور پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ باوجود اس کے کہ یہ ایک دشوار اور دباؤ میں کھیلی جانے والی ہوم سیریز تھی، انہوں نے میچیور انداز میں ٹیم کو کھلایا۔ پی سی بی کو انہیں وقت دینا چاہئے تاکہ وہ ایک اچھے کپتان کے طور پر ابھر سکیں۔

ذہین اور خوش اخلاق آدمی

 عامر سہیل کو ہٹا کر کسی ذہین اور خوش اخلاق آدمی کو یہ ذمہ داری سونپنی چاہئے

امجد محمود

امجد محمود، وینکوور، کینیڈا

انضمام کی کپتانی میں پاکستانی کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن اصل مسئلہ اوپننگ کا ہے۔ سعید انور کے بعد پاکستان کو اچھے اوپنر نہیں مل سکے۔ پھر سلیکشن کمیٹی کے سربراہ کی کارکردگی بھی خراب ہے۔ بورڈ کے سربراہ کو عامر سہیل کو ہٹا کر کسی ذہین اور خوش اخلاق آدمی کو یہ ذمہ داری سونپنی چاہئے۔ اگر پاکستان کو ٹیسٹ سیریز جیتنی ہے تو اسے مشتاق احمد اور اظہر محمود کو واپس لانا ہوگا۔ دوسرا، ہر سیریز کے بعد کپتان بدلنا ٹیم کے لئے مسئلہ بن جاتا ہے۔

ظاہر محمود، میرپور، پاکستان

ٹیم میں تبدیلیاں کی جائیں۔ یونس خان کو نکال دیا جائے اور حفیظ کو بولر کے طور پر رکھا جائے۔

ناصر محمود، راولپنڈی

اس سیریز میں شکست کے باوجود نئے کھلاڑی داد کے لائق ہیں اور مستقبل میں انشاء اللہ وہ پاکستان کو ٹاپ ٹیم بنا دیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے نوجوان کھلاڑیوں کو کم از کم تین میچ کھیلاکر ان کے ٹیلنٹ کو پرکھنے کا موقع دیا جائے۔ اس سے نئے کھلاڑی اعتماد کے ساتھ کھیلیں گے اور بہتر طور پر اپنی صلاحیتیں دکھاسکیں گے۔ ساتھ ہی تجربہ کار کھلاڑیوں کو بالکل نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ دنیا کی بہترین ٹیمیں بتدریج نئے کھلاڑی شامل کرتی ہیں۔

حمید آفریدی، پشاور

وقار کو لایا جائے۔

اوپننگ کا سوال

 جہاں تک اوپننگ کا سوال ہے، یاسر حمید اچھا کررہے ہیں۔ اسے دوسرے اوپنِنگ پارٹنر سے مدد کی ضرورت ہے۔

عدنان خالق، کشمیر، پاکستان

عدنان خالق، کشمیر، پاکستان

میں سمجھتا ہوں کہ انضی کی کپتانی ٹھیک تھی۔ جہاں تک اوپننگ کا سوال ہے، یاسر حمید اچھا کررہا ہے۔ اسے دوسرے اوپنِنگ پارٹنر سے مدد کی ضرورت ہے۔ حفیظ کی وجہ سے پوری ٹیم کو پریشانی ہورہی ہے۔ اس کی جگہ پر عمران نظیر یا توفیق عمر یا عمران فرحت کو لانا چاہئے۔ آج کل یونس خان نہیں چل رہے ہیں۔ باؤلِنگ کے لئے محمد زاہد کو موقع دیا جانا چاہئے۔

ناصر ملک، پاکستان

پاکستان کی اس شکست میں سب سے نمایاں ہاتھ سیلیکٹرز کا ہے۔ پہلے دو میچ جیتنے کے بعد سیلیکٹرز نے فاتح ٹیم کو برقرار رکھنے کے بجائے تبدیلیاں کیں۔ سیریز کے دوران سمیع کی عمدہ کارکردگی کے باوجود اسے تیسرے میچ میں باہر کردیا گیا۔ اس کے علاوہ بلا وجہ ہر میچ میں تین تبدیلیاں کی گئیں۔ نوجوان کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے کے بجائے ان پر مزید دباؤ بڑھا دیا گیا۔

اشرف خان، لاہور

میرے خیال میں انضمام الحق اچھے کپتان ہیں لیکن بدقسمتی سے ٹیم کا انتخاب اچھا نہیں رہا۔ میں سمجھتا ہوں کہ سیلیکٹرز آفریدی اور معین خان کو ٹیم میں شامل کریں۔

شاہ زیر خان، اسلام آباد

میں سمجھتا ہوں کہ یوسف یوحنا تمام میچوں میں پاکستان کے لئے بہتر کھیل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ دو میچوں میں انہوں نے اچھا نہیں کھیلا۔ زخمی ہونے کی وجہ سے انضمام بھی پریشان رہے۔ محمد سمیع اور سہیل ملِک جیسے نوجوان کھلاڑی اچھا کھیل رہے ہیں۔

قیصر مجید غازی بابا، گجرانوالہ

میرے خیال میں پاکستانی ٹیم یہی کرتی رہی ہے: ’لگ گیا تو تیر، نہ لگا تو تکا۔‘

کرکٹ میں سیاست

 انضمام کی کپتانی میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جو مسئلہ ہے وہ پاکستانی کرکٹ میں سیاست کا ہے۔

رحیم علی، ابوظہبی

رحیم علی، ابوظہبی

انضمام کی کپتانی میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جو مسئلہ ہے وہ پاکستانی کرکٹ میں سیاست کا ہے۔ ہرشخص اپنے لوگوں کو ٹیم میں شامل کرنا چاہتا ہے، مثال کے طور پر جنید ضیاء، فیصل اقبال اور محمد حفیظ کی شمولیت۔ ہماری ٹیم میں میرِٹ کے لئے جگہ نہیں ہے۔

عاصم علی خان، لاہور

میں کہنا چاہوں گا کہ ہماری امیدوں کے مقابلے میں پاکستانی ٹیم نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن مجھے ابھی بھی یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ حفیظ کو ٹیم میں کیوں رکھا گیا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ انضمام الحق کی کپتانی میں کوئی مسئلہ ہے۔ جبکہ میرے خیال میں یوسف یوحنا راشد لطیف کے مشورے سے فیصلے کرتے ہیں۔

باسط خان، لاہور

یہ سب کچھ غلط ٹیم سیلیکشن کی وجہ سے ہوا ہے۔ عامر سہیل ٹیم کے مفاد میں نہیں سوچتے ہیں۔ ہمیں سمجھنا چاہئے کہ محمد حفیظ کا انتخاب اچھا نہیں ہے۔ عمران نظیر کو کھیلنے کا موقع دیا جائے۔

سلیم شاہد، امریکہ

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس سیریز میں ٹیم کی کوشش اچھی تھی۔ کپتان کی حیثیت سے انضمام ٹھیک ہے۔ یونس خان اور حفیظ کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔

آج حالت مختلف ہوتی

 اگر سیلیکشن کمیٹی انصاف پسندانہ رویہ اختیار کرتی اور راشد لطیف کے ساتھ اختلافات نہ ہوتے تو آج حالت مختلف ہوتی۔

غالب، ایڈمنٹن، کینیڈا

غالب، ایڈمنٹن، کینیڈا

راشد لطیف کے استعفی دینے کے فیصلے کے بعد جیسی کہ امید تھی، پاکستان کی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز ہار گئی۔ اگر سیلیکشن کمیٹی انصاف پسندانہ رویہ اختیار کرتی اور راشد لطیف کے ساتھ اختلافات نہ ہوتے تو آج حالت مختلف ہوتی۔ پاکستانی ٹیم ایک بار پھر بہتر بیٹِنگ کا مظاہرہ نہ کرسکی جس کی وجہ سے باؤلنگ بھی متاثر رہی۔ یوسف یوحنا نے اچھی بیٹِنگ کی لیکن اچھی کپتانی کا مظاہرہ نہ کرسکے۔ محمد سمیع نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ ایک بہتر ور قابل اعتماد باؤلر ہے۔ جبکہ یونس خان، انضمام الحق اور فیصل اقبال کی کارکردگی مایوس کن رہی۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد