| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی ٹیم کی کمزوریاں
جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان میں کھیلی جانے والے ایک روزہ کرکٹ سیریز میں کھلاڑیوں خصوصاً بلّے بازوں کی ایک اور مایوس کن کارکردگی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو ہزیمت سے دوچار کردیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ٹیم جو دو صفر کی برتری کے ساتھ سیریز جیتنے کے قابل ہوچکی تھی لگاتار تین میچ ہارکر سیریز بھی گنوابیٹھی۔ اٹھارہ ہزار تماش بینوں کی گنجائش کے حامل راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں موجود پرجوش تماشائیوں کے لئے فیصلہ کن میچ میں پاکستانی ٹیم کا محض ایک سو بانوے رن کے سکور پر ڈھیر ہوجانا تکلیف دہ منظر تھا جس کے بعد مہمان ٹیم نے صرف تین وکٹ کے نقصان پر بازی جیت لی۔ جنوبی افریقہ کے کھیل میں ڈیپینار کے چوہتر رن کا عمل دخل نمایاں تھا جنہوں نے لاہور کے دونوں ایک روزہ مقابلوں میں بھی عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے سنچری اور نصف سنچری سکور کی تھی۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کو فیصلہ کن میچ میں کپتان انضمام الحق کی خدمات بھی حاصل ہوگئی تھیں جو ہمسٹرنگ انجری کے سبب تیسرا اور چوتھا ایک روزہ میچ نہیں کھیل سکے تھے لیکن ان کی موجودگی بھی پاکستانی کھلاڑیوں کو تقویت نہ پہنچاسکی۔ اگرچہ انضمام دو سو اٹھانوے ایک روزہ مقابلوں میں شریک رہے ہیں مگر وہ اس بار چھتیسویں مرتبہ رن آؤٹ ہوئے۔ دوسری طرف یوسف یوحنا کا بھی صفر پر آؤٹ ہوجانا ٹیم کے لئے کسی صدمے سے کم نہ تھا۔ اوپننگ کا مسئلہ بھی ان تمام مقابلوں میں کھل کر سامنے آیا۔ محمد حفیظ وہ واحد کھلاڑی ہیں جو ورلڈ کپ کے بعد ٹیم کی تشکیل نو کے عمل میں کسی بھی میچ میں باہر نہیں ہوئے لیکن ان بائیس مقابلوں میں وہ محض تین نصف سنچری سکور کرپائے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے خلاف پانچ مقابلوں میں وہ صرف تینتیس رن بنا سکے۔ کوئی قابل ذکر سکور نہ کرنے کے اس تواتر کے باوجود بھی وہ ٹیم میں ہیں اور اس کی وجہ ان کی باؤلنگ ہے۔ اگرچہ باؤلنگ تو اچھی کرتے رہے ہیں لیکن اپنی پہلی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے میں وہ بری طرح ناکام رہے ہیں۔ پانچویں میچ میں جب ان سے ایک بڑی اننگز کی توقع کی جارہی تھی وہ صفر پر آؤٹ ہوگئے۔ اسی طرح دوسرے اوپنر یاسر حمید کو بھی مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تجربہ کار کھلاڑی یونس خان کا آؤٹ آف فارم ہونا بھی پاکستان ٹیم کے لئے باعث تشویش ہے جو آخری نو اننگز میں کسی نصف سنچری کے بغیر صرف دو سو ایک رن بناسکے ہیں۔ پہلے ایک روزہ مقابلے کے بعد شعیب ملک بھی ناکامی کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئے ہیں۔ جنوبی افریقہ کو اگرچہ فیصلہ کن میچ میں کپتان گریم اسمتھ اور آل راؤنڈر اینڈریو ہال کی خدمات حاصل نہیں تھیں جو دوسرے میچ میں یوسف یوحنا کے ساتھ تلخ کلامی کی پاداش میں پابندی کی زد میں ہیں، لیکن قائم مقام کپتان مارک باؤچر اپنے باؤلرز کو درست انداز میں استعمال کرتے ہوئے پاکستان ٹیم کی بساط آسانی سے لپیٹنے میں کامیاب رہے۔ شان پولاک نے ہر میچ میں پہلا اسپیل مؤثر انداز میں کیا انہوں نے پانچ مقابلوں میں سات وکٹ حاصل کیں۔ مکھایا نتینی پہلے میچ میں پاکستانی بلّے بازوں کی جارحیت کا شکار ہونے کے بعد بقیہ مقابلوں میں تواتر کے ساتھ وکٹ حاصل کرتے رہے اور سیریز میں بارہ وکٹ حاصل کر کے نمایاں رہے۔ ایک روزہ مقابلوں کی سیریز میں پاکستان کی برتری ختم کرکے خود برتری حاصل کرنے والی جنو بی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ سیریز میں نفسیاتی برتری حاصل ہوگئی ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق ٹیسٹ سیریز میں اسپنرز کے ذریعے جنوبی افریقہ کے بلّے بازوں کو قابو کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں لیکن پہلے ایک روزہ مقابلے میں مشتاق احمد اور تیسرے ایک روزہ مقابلے میں ثقلین مشتاق کی کارکردگی متاثر کن نہ تھی۔ تاہم ٹیسٹ کرکٹ کے تقاضے محدود اوورز کی کرکٹ سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کسی نوجوان باؤلر کو اعتماد دینے کے بجائے اس کے اعتماد کو کب تک متزلزل کیا جاتا رہے گا۔ دانش کنیریا کو بنگلہ دیش کے خلاف ملتان ٹیسٹ میں تیز باؤلر یاسر علی کے مقابلے میں نظرانداز کیاگیا اور پھر جنوبی افریقہ کے دورے کے موقع پر کاؤنٹی کرکٹ میں عمدہ باؤلنگ کرنے والے مشتاق احمد کو ڈھائی سال بعد دوبارہ یاد کیا گیا لیکن پہلے میچ میں ان کے بری طرح ناکام ہونے پر انہیں یہ کہہ کر ڈراپ کیا گیا کہ وہ فٹ نہیں ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مشتاق احمد فٹ ہیں اور انہیں بقیہ میچوں سے اس لئے دور رکھا گیا کہ مزید ناکامی کے بعد ٹیسٹ سیریز میں ان کی شمولیت پر شدید ردعمل سامنے نہ آئے۔ یہ صورتحال نوجوان لیگ اسپنر دانش کنیریا کے لئے حوصلہ شکن ہے جنہیں مشتاق احمد کے ان فٹ ہونے کے بعد ٹیم میں رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں غیر یقینی کیفیت سے دوچار رکھا گیا۔ بالآخر پانچویں ایک روزہ مقابلے میں انہیں موقع دیا گیا جس میں انہوں نےدس اوورز میں صرف سینتیس رن دے کر ہرشل گبز کی قیمتی وکٹ حاصل کی۔ ٹیسٹ سیریز میں وکٹ کیپر راشد لطیف کا نہ ہونا بھی پاکستان ٹیم کے نقطۂ نظر سے مایوس کن ہے جنہوں نے بظاہر گھریلو مصروفیات کے سبب دونوں ٹیسٹ میں نہ کھیلنے سے معذوری ظاہر کی ہے لیکن اس کے پس پردہ محرکات میں وہ ناانصافی نمایاں ہے جو راشد لطیف کے استعفیٰ کی شکل میں سامنے آئی تھی۔ بظاہر راشد لطیف نے یہ استعفی خود دیا ہے لیکن یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ان کے لئے ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ جن میں کسی بھی کپتان کے لئے کسی مداخلت کے بغیر ذمہ داری نبھانا مشکل ہوجاتا ہے۔ جب ورلڈ کپ کے بعد ٹیم کو صحیح سمت میں گامزن کرنے کا مسئلہ درپیش تھاتو اس مشکل گھڑی میں راشد لطیف ہی نے اپنی ریٹائرمنٹ ختم کرکے پاکستان کرکٹ بورڈ کی مشکل آسان کی تھی۔ کرکٹ کے حلقے حیران پریشان ہیں کہ شارجہ سری لنکا اور انگلینڈ کے بیرونی دوروں اور بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز میں عمدہ کارکردگی دکھانے والی ٹیم اچانک کیسے بکھر گئی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کپتان اور کوچ کے درمیان کھلاڑیوں کے انتخاب پر اختلاف رائے رہتا ہے۔ چیف سلیکٹر عامر سہیل جو ٹیم سلیکشن کے ساتھ ساتھ ٹی وی کمنٹری کی اضافی ذمہ داری بخوبی نبھانے میں مصروف ہیں اخبارات کے ذریعے کوچ جاوید میانداد پر بلا واسطہ تنقید کرچکے ہیں جبکہ جاوید میانداد کو اس بات کا گلہ ہے کہ ان کے وسیع تجربے کے باوجود ٹیم سلیکشن میں ان کی رائے نہیں لی جاتی لیکن اس سوال کا جواب ان کے پاس نہیں ہے کہ تیسری مرتبہ کوچ بنتے وقت انہوں نے معاہدے پر دستخط سوچ سمجھ کر کئے ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت انہوں نے ٹیم سلیکشن میں حصہ دار بننے کی شرط کیوں نہیں منوائی اور اگر ایسا نہیں کیا تو اب گلے شکوے کیوں؟ اس سوال کا جواب بھی کوئی دینے کے لئے تیار نہیں کہ یوسف یوحنا کے زبردست فارم میں ہوتے ہوئے چوتھے ایک روزہ مقابلے میں ون ڈاؤن کی پوزیشن پر فیصل اقبال کو کیوں کھلایا گیا؟ جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم ناقابل شکست نہیں لیکن پیشہ ورانہ تقاضوں سے بخوبی آشنا ہے جسے زیر کرنے کے لئے پاکستان ٹیم کو آف دی فیلڈ مسائل پر قابو پانا ہوگا۔ اہم کھلاڑیوں کا اعتماد بکھیر کر جیت کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||