BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 October, 2003, 17:41 GMT 22:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میں رات رات بھر روتی رہتی تھی

نواز شریف کے دنوں میں کراچی کے حالات
نواز شریف کے دنوں میں کراچی کے حالات

میں کراچی کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئی۔ میں نے کراچی گرامر سکول سے پڑھا تھا اور اس کے بعد کراچی میں سینٹ جوزف کالج میں پڑھ رہی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایم کیو ایم سندھ میں ایک طاقتور جماعت کے طور پر ابھری تھی اور میرے والد ایم کیو ایم کے وزیر تھے اور زندگی ہنسی خوشی گزر رہی تھی۔

لیکن ایک دن یہ سب بدل گیا۔ انیس سو بانوے میں ایم کیو ایم کے خلاف جیسے ہی آپریشن شروع ہوا ہمارا گھرانہ زیرِ عتاب آگیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ فوراً غائب ہو جائیں۔ میرے والد سال بھر تک چھپے رہے۔ تین مہینے تک میں بھی چھپی رہی۔ ۔ میرے والدین کو سب سے زیادہ ڈر میرا اور میرے چھوٹے بھائی کا تھا۔ مجھ سے بڑے ایک بھائی اور ایک بہن بھی تھے لیکن لوگ انہیں زیادہ نہیں پہچانتے تھے۔ ہمارا آپس میں رابطہ بہت مشکل سے ہوتا اور ہفتوں ایک دوسرے سے بات نہ ہو پاتی۔ اسی میں میری امی انگلینڈ چلی گئیں اور تین ماہ بعد میں کینیڈا آگئی کیونکہ مجھے ویزہ مل گیا تھا۔

آپس میں رابطہ بمشکل ہوتا

 میرے والد سال بھر تک چھپے رہے۔ تین مہینے تک میں بھی چھپی رہی۔ ہمارا آپس میں رابطہ بہت مشکل سے ہوتا اور ہفتوں ایک دوسرے سے بات نہ ہو پاتی۔

میں یہاں کچھ عرصے کےلئے آئی تھی، اس وقت خیال تھا کہ حالات بہتر ہوں گے تو واپس لوٹ جاؤں گی۔ حالت بہت خراب تھی، تین چار جوڑوں کے ساتھ پہنچی تھی اور عجیب بے سرو سامانی کا عالم تھا۔ پیسے نہیں تھے، کسی نے ٹکٹ خرید کر دیا تو کسی نے ویزے کے پیسے دیئے۔

یہاں میری خالہ تھیں جنہوں نے بہت ساتھ دیا اور کوئی تکلیف نہ ہونے دی لیکن پیچھے حالات بہت خراب تھے، لوگوں کو پکڑا جارہا تھا، دوست احباب تھے، خاندان تھا اور ڈر لگتا تھا کہ سب خطرے میں ہیں، نہ جانے کب کیا ہو جائے۔ میں ساری ساری رات روتی۔

وقت گزرتا گیا یہاں تک کہ میرا ویزہ ختم ہونے پر آگیا۔ میرے لئے اب واحد حل یہی تھا کہ میں سیاسی پناہ گزیں کے طور اپنے ویزے کی مدت بڑھا لوں۔ چونکہ اس زمانے میں ہمارے گھروں پر پولیس کے چھاپے اور گرفتاریوں کی خبریں روز اخبارات میں آرہی تھیں، اس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں شور مچا رہی تھیں اور خوش قسمتی سے میرا وکیل بھی بہت اچھا تھا اس لئے مجھے سیاسی پناہ گزیں کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ مجھے اس طرح کی کسی تکلیف سے نہیں گزرنا پڑا جس کے قصے ہم آئے دن سیاسی پناہ کی درخواست دینے والوں کے بارے میں سنتے رہتے ہیں۔

میں نے یونیورسٹی آف ویسٹرن اونٹاریو میں ویمن سٹڈیز میں داخلہ لے لیا اور یہاں سے انڈر گریجوایٹ کرنے کے بعد شوشل سروس سیکٹر میں کام کرنے لگی۔ یہاں میں پناہ گزیں اور ہجرت کرکے آنے والی عورتوں کے ساتھ کام کرتی ہوں۔ اب اگرچہ وہ وقت گزر چکا اور پاکستان میں حالات بدل چکے ہیں لیکن اس عرصے میں میری شادی بھی ہو چکی ہے اور مسی ساگا میں ہم نے ایک اپنا گھر بنا لیا ہے جسے چھوڑ کر ابھی نہیں جایا جا سکتا۔ میرے شوہر کمپیوٹر اینالیسٹ ہیں اور پاکستانی ہیں۔ لیکن یہ میرے لئے زیادہ اہم بات نہیں تھی کیوں کہ جن حالات سے میں گزر چکی تھے اس کے بعد اگر کوئی دوسرا ہوتا خواہ وہ یہودی، ہندو یا مسلمان ہوتا تو بھی کوئی خاص فرق نہ پڑتا۔

عورتوں کا ایک ادارہ

 میں چاہتی ہوں کہ واپس جاکر عورتوں کا ایک ادارہ بناؤں۔ کم از کم اس کی بنیاد ہی ڈال سکوں۔

تاہم میں پاکستان واپس جانا چاہتی ہوں۔ چونکہ ابھی ہمارے بچے نہیں ہیں اس لئے یہ نسبتاً آسان ہوگا۔ میں چاہتی ہوں کہ واپس جاکر عورتوں کا ایک ادارہ بناؤں۔ کم از کم اس کی بنیاد ہی ڈال سکوں۔ مجھے لگتا ہے کہ پاکستان کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو واپس جا کر کچھ فرق ڈال سکیں۔ اگرچہ پاکستان کے بارے میں کوئی بھی کچھ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ کب کیا حالات ہوجائیں لیکن اب ہمارا خاندان اتنے مسائل اور مصائب سے گزر چکا ہے کہ مجھے بھی عادت پڑچکی ہے کیونکہ مجھے پتہ ہے کے کچھ دن اچھے ہوں گے تو بہت اچھے ہوں گے اور خراب ہوں گے تو بہت خراب ہوں گے۔

نوٹ: اگر آپ کی زندگی میں بھی کچھ ایسا ہوا ہے تو ہمیں لکھیں۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام شائع نہیں کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد