BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 October, 2003, 16:16 GMT 21:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیل ڈائری: قیدی بچوں کی کہانیاں

قیدی بچوں کی کہانیاں
سینٹل جیل میں بچوں کا قید خانہ

پچھلے کئی سالوں سے کراچی سینٹرل جیل میں قید بچوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے مجھے اکثر ان بچوں کے حالات کے بارے میں دردناک واقعات سننے کا اتفاق ہوا۔ میں اس ٹاسک فورس کی رکن تھی جسے گورنر نے ان بچوں کے حالات بہتر کرنے کےلئے بنایا تھا۔

پورے سندھ میں بچوں کے لئے صرف ایک ہی جیل ہے۔ اس سے قبل یہ بچے کراچی لانڈھی جیل میں بالغ قیدیوں کے ساتھ رہتے تھے جہاں انہیں کسی قسم کی تربیت مہیا نہیں کی جاتی تھی اور چار سے چھ گھنٹوں تک صرف ان سے لیپا پوتی کا کام لیا جاتا۔ جب انہیں جیل کے اہلکاروں کے گھروں پر صفائی کیلئے بھیجا جاتا تو انہیں بیڑیاں پہنائی جاتی تھیں۔

اسلحہ کہاں سے آتا ہے؟

 سب سے بڑی تعداد ان لڑکوں کی تھی جن سے اسلحہ برآمد ہوا تھا۔ یہ اسلحہ انہیں مذہبی، سیاسی اور لسانی تنظیموں سے لے کر اسمگلروں اور ڈیلروں تک کی طرف سے فراہم کیا گیا تھا کیوں کہ ان بچوں کو زیادہ خطرناک کاموں پر آمادہ کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔

اگرچہ ان مختلف سالوں میں اعدادو شمار بدلتے رہے ہیں تاہم ستمبر انیس ستانوے میں جیل میں ساڑھے آٹھ سو لڑکے تھے جن میں سے پچانوے فیصد کے مقدمات زیرِ سماعت تھے اور جو مہینوں اور سالوں سے اپنے مقدمات کی سماعت کے منتظر تھے۔ نوّے فیصد انتہائی غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں اپنے حقوق کا کوئی علم نہ تھا۔ ان میں سے اکسٹھ فیصد کبھی سکول نہیں گئے تھے، اکتیس فیصد پرائمری سکول گئے تھے اور صرف چھ فیصد نے میٹرک تک تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔ پانچ سو تیرہ مقدمات میں سے صرف بائیس کو سزا ہو چکی تھی باقی ابھی تک فیصلے کے منتظر تھے۔

ان میں سے کئی بچے معصوم تھے اور کچھ کو مقدمات میں پھنسایا گیا تھا۔ سب سے بڑی تعداد ان لڑکوں کی تھی جن سے اسلحہ برآمد ہوا تھا۔ یہ اسلحہ انہیں مذہبی، سیاسی اور لسانی تنظیموں سے لے کر اسمگلروں اور ڈیلروں تک کی طرف سے فراہم کیا گیا تھا کیوں کہ ان بچوں کو زیادہ خطرناک کاموں پر آمادہ کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ان بچوں پر چوری، ڈکیتی، منشیات، زنا اور قتل کے مقدمات بھی چل رہے تھے۔

جتنا بچوں کے بارے میں سمجھا جاتا ہے اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ بچے زنا کے واقعات میں ملوث تھے۔ زنا کے واقعات زیادہ تر لڑکوں کے آپس کے تعلقعات پر مشتمل تھے لیکن ان میں ایسے واقعات بھی تھے جن میں تین یا چار سال کی بچیاں ان جرائم کا شکار ہوئیں۔ ایک لڑکے نے، جو قتل کے مقدمے میں جیل میں تھا، ماہرِ نفسیات کے سامنے اقرار کیا کہ اس نے اس بیکری کے مالک کو قتل کیا تھا جہاں وہ کام کرتا تھا لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے انہیں ایک بچی کے ساتھ زنا بالجبر کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ اس نے جب انہیں برا بھلا کہا تو انہوں نے اسے قتل کر دیا اور فرار ہو گئے لیکن کراچی سے باہر پکڑے گئے۔

ایک اور لڑکے پر قتل کا مقدمہ چل رہا تھا۔ اس کے والدین کی طلاق کے بعد اس کی ماں نے ایک اور شخص سے شادی کی جس کے پہلے سے تین بچے تھے۔ اس کا باپ اپنے بچوں کو زیادہ عزیز جانتا، اس سے برا سلوک کرتا اور اس کی ماں کو مار پیٹ بھی کرتا تھا۔ اسے اپنے باپ کے پاس واپس رہنے کےلئے بھیجا گیا لیکن اس کے باپ نے جلد ہی اسے رکھنے سے انکار کردیا۔ ایک دن گھر میں لڑائی کے بعد اس نے اپنے چار سالہ سوتیلے بھائئ کو مار دیا اور اپنی سوتیلی بہن کو زخمی کر دیا کیونکہ اسے یقین تھا کہ اس کے سوتیلے باپ کی اس سے نفرت کی وجہ وہی تھے۔ اس کے دل پر ندامت کا انتہائی بوجھ تھا اور وہ رات کو شدید برے خواب دیکھا کرتا۔ اس کی سکریننگ پر یہ بات سامنے آئی کہ اسے شدید ڈیپریشن ہو چکی تھی۔

قیدی بچوں کی کہانیاں
کئی بچے جیل ہی میں پیدا بھی ہوتے ہیں۔

اگرچہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے جنہوں نے سب سے پہلے اقوام متحدہ کی بچوں کے حقوق سے متعلق قرارداد پر دستخط کر دیئے تھے تاہم پاکستان کے سرکاری اداروں کے نزدیک یہ قرارداد درحقیقت صرف ایک کاغذ کی حیثیت ہی رکھتی ہے جس کا واضح اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ ہم نے سو بچوں سے انٹرویو کئے جن میں سے صرف انیس لڑکوں کی گرفتاری سے پہلے وارنٹ جاری کئے گئے تھے۔ پھر پاکستان کے اپنے قانون کے مطابق ان بچوں کو گرفتاری کے بعد چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر عدالت کے روبرو پیش کرنا لازمی ہے لیکن سو میں سے صرف بارہ کو چوبیس گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش کیا گیا اور پانچ کو دو ہفتوں تک حوالات میں رکھا گیا۔

حوالات میں تشدد عام ہے

 پاکستان میں گرفتاری کے بعد حوالات میں پولیس کے ہاتھوں تشدد عام ہے۔ سو میں سے اٹھہتر بچوں نے کہا کہ ان پر تشدد کیا گیا ہے۔ عام طور پر تشدد کے یہ چار طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ چھتر مارنا، ڈنڈوں سے پٹائی، الٹا لٹکانا اور ’چیرا‘ جسے سب سے زیادہ تکلیف دہ سمجھا جاتا ہے اور جس میں ٹانگوں سے چیرا جاتا ہے۔

پاکستان میں گرفتاری کے بعد حوالات میں پولیس کے ہاتھوں تشدد عام ہے۔ سو میں سے اٹھہتر بچوں نے کہا کہ ان پر تشدد کیا گیا ہے۔ عام طور پر تشدد کے یہ چار طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ چھتر مارنا، ڈنڈوں سے پٹائی، الٹا لٹکانا اور ’چیرا‘ جسے سب سے زیادہ تکلیف دہ سمجھا جاتا ہے اور جس میں ٹانگوں سے چیرا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سالوں تک بغیر مقدمہ چلائے یا فیصلہ کئے جیل میں رکھنا اور ان بچوں کو سزایافتہ مجرموں کے ساتھ رکھنا عام ہے جس کی قانون اجازت نہیں دیتا۔

اس دوران جمع کئے گئے اعداو شمار اور نتیجے میں سامنے آنے والی تحقیق پاکستان میں بچوں کے لئے موجود مسائل کے انبار کی صرف ایک ہلکی سی جھلک ہے۔ جب تک معاشرہ، ماں باپ، اساتذہ اور حکومت مل کر کچھ نہیں کریں گے ہم ان بچوں کے لئے اپنے گھروں، گلیوں، درس گاہوں اور پکڑے جانے کے بعد خاص طور پر جیلوں کو جرائم کی بہترین تربیت گاہوں میں بدلتے رہیں گے۔

نوٹ: اگر آپ بھی کبھی جیل گئے ہوں یا آپ کا کوئی جاننے والا اس طرح کے تجربات سے گزرا ہو، ہمیں اپنی کہانی کم سے کم الفاظ میں لکھ بھیجئے۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام ظاہر نہیں کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد