BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 October, 2003, 03:15 GMT 08:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: ہزاروں بچے سزا کے بنا قید
قیدی بچے
بچوں کو بھی ہتھکڑیاں پہنائی جاتی ہیں

حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تقریباً ساڑھے چار ہزار بچے مختلف جیلوں میں قید ہیں جبکہ ان میں سے دو تہائی سے زیادہ تعداد ان بچوں کی ہے جنہیں ابھی تک کسی عدالت سے سزا نہیں سنائی گئی ہے۔

تنظیم نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ زیادہ تر بچوں کو اس لئے جیل میں رہنا پڑتا ہے کہ ان کے والدین غربت کی وجہ سے ان کی ضمانت کا بندوبست نہیں کر سکتے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے جب ان بچوں کو عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو صرف پندرہ فی صد بچے ہی سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔

برطانیہ میں تنظیم کی رابطہ افسر لیزلی وارنر نے کہا ہے کہ پاکستان میں قیدی بچوں کے حقوق کی حفاظت میں وہاں کا نظام عدل بری طرح ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے وکلاء، حتی کہ ججوں کو بھی قیدی بچوں کے حقوق سے متعلق قوانین سے مکمل واقفیت نہیں ہے۔

ایمنسٹی کی اس رپورٹ کی بنیاد مختلف مطالعوں پر ہے۔ ایک سٹڈی میں ایک تیرہ سالہ بچے کا ذکر ہے جو گزشتہ چار سال سے اس لئے جیل میں ہے کہ اس کی فائل گم ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام طور پر زر ضمانت پچاس ہزار روپے ہوتی ہے جس کا انتظام عام آدمی کے بس سے باہر ہوتا ہے۔

جیلوں میں بھی بچوں کو رکھنے کے انتظامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بچوں کو بڑی عمر کے قیدیوں کے ساتھ رکھا جاتا ہے جو ملکی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں پر تو نظام عدل برائے اطفال کے صدارتی حکم کا اطلاق تک نہیں ہوتا حالانکہ پاکستان بچوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے عالمی معاہدے کی توثیق کر چکا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد