| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاترمحمد ریٹائر: آپ کی رائے
اکتوبر کا آخری دن ملیشیا کے وزیراعظم مہاتر محمد کے بائیس سالہ اقتدار کا آخری دن تھا۔ وہ اسلامی دنیا میں ایک جمہوری انتخابات کے ذریعے منتخب ہو کر آنے والے حکمراں کے طور پر جنوب مشرقی ایشیا میں سب سے زیادہ دیر تک اقتدار میں رہے۔ مہاتر محمد نے اپنے دورِ اقتدار میں جہاں ملیشیا کو اسلامی دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور دنیا کے چند امیر ترین ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا وہاں ان پر ملک کے اندر اظہارِ رائے کی آزادی سلب کرنے کا الزام بھی ہے۔ وہ جہاں اسلامی دنیا میں ایک روشن خیال اور جدت پسند رہنما تصور کئے جاتے ہیں وہاں ان کے دوسرے مذاہب اور ہم جنس پرستوں کے بارے میں نظریات کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ کیا مہاتر محمد کے دورِاقتدار نےایک مثالی اور جدید اسلامی ریاست کی نشو نما کی؟ ایسا کیوں ہے کہ زیادہ تر اسلامی ممالک کے حکمران خواہ وہ منتخب ہو کر آئیں یا تختہ الٹا کر، زیادہ سے زیادہ دیر تک اقتدار میں رہنے کی کوشش کرتے ہیں؟ مہاتر محمد کا ایک مسلم رہنما کے طور پر کیا مستقبل ہے؟ ----------------- یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں------------------
فواد احمد، پشاور، پاکستان ان کی کامیابیوں کو یقیناً نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمان رہنماؤں کی اکثریت ان سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہے۔ ان کا طویل اقتدار بدعنوانی، دھوکہ دہی اور بےقاعدگی کا نتیجہ ہے تاہم یہ جلد ہی بدلنے والا ہے کیونکہ نئی نسل اسے برداشت نہیں کرے گی۔ نواز فتح بلوچ، کیچ، پاکستان مہاتر محمد ایک عظیم رہنما تھے۔ ڈاکٹر ممتاز رسول ملک، سمندری، پاکستان اسلامی تاریخ میں ایسا انتہائی شاذونادر ہی ہوا ہے کہ کوئی حکمران اپنی مرضی سے اقتدار چھوڑ دے۔ عبدالعزیز انصاری، دبئی مہاتر ایک مخلص اور مضبوط شخصیت کے مالک تھے جس کے باعث وہ بدعنوانیوں سے بچے رہے اور مغربی ممالک اور مفاد پرست سیاستدانوں کے آگے کمزور نہیں پڑے۔ اگر انہیں اسلامی ممالک کی تنظیم او۔آئی۔سی میں کسی اہم عہدے کی پیشکش کی جاتی ہے تو یہ تمام ام مسلمہ کے لیے سود مند ہو گا۔ امید ہے کہ مہاتر اس تنظیم میں نئی روح پھونک سکیں گے۔ میری دعا ہے کہ خدا اسلامی ممالک کو مہاتر جیسے رہنما عطا کرے۔
شہزاد رضا، اسلام آباد، پاکستان مہاتر محمد بلاشک و شبہ ایک عظیم مدبر ہیں جنہوں نے متعدد مسائل سے دوچار ملیشیا کو جنوبی ایشیاء کا اقتصادی ٹائیگر بنا دیا۔ ان کا دور حکومت یقینی طور پر ملیشیا کے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھا لیکن انہوں نے سیاستدانوں کو اقتدار میں آگے بڑھنے سے روکا۔ ان کے دور میں اقربا پروری کا زور رہا اور ان کے بیٹوں اور خاندان والوں نے خوب فائدے بھی اٹھائے۔ ان کے دور حکومت میں آزادی اظہار اور پریس پر پابندی قابل ذکر ہیں۔ اس کے باوجود پاکستانی سیاستدان ان کی شخصیت سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ سجاد اختر سواتی، مانسہرہ، پاکستان میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ مہاتر محمد نے ملیشیا کے لیے بہت قربانیاں دیں اور اسے ایک مثالی اور جدید اسلامی ریاست بنایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کا زیادہ سے زیادہ دیر تک اقتدار میں رہنا ان کی ہوس ہے اور میرے خیال میں مہاتر محمد کا مستقبل روشن ہو گا۔ طارق عثمان، پاکستان مہاتر محمد ایک زبردست حکمران رہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں شاید ہی کوئی ان جیسا مسلمان حکمران ہو گا۔ مہاتر جیسے حکمران کبھی کبھار پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے ان جیسا کوئی لیڈر ہمیں بھی ملے۔
خرم شہزاد شیخ، فرینکفرٹ، جرمنی مہاتر محمد جیسا حکمران کسی بھی ملک و قوم کو ہزار سال میں نصیب ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم میں وہ جذبہ پیدا کیا جس نے اسے ایک پسماندہ قوم سے ایشیئن ٹائیگر بنا دیا۔ بیشتر مسلمان حکمران اقتدار چھوڑنا گوارا نہیں کرتے کیونکہ زیادہ تر سربراہ بدعنوان ہوتے ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ آئندہ آنے والے ان کی بدعنوانیوں کو بےنقاب کریں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک کے زیادہ تر حکمرانوں کو دھکے دے کر اقتدار سے نکالنا پڑتا ہے۔
مہاتر محمد تمام مسلم رہنماؤں میں سب سے ممتاز ہیں اور ملا عمر اور اسامہ کے بعد مہاتر ہی سب سے بہتر آدمی ہیں۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں، جسے اسلامی دور سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، اپنی قوم کو ایک نظریہ پیش کیا۔ نسیم خان، کراچی، پاکستان مہاتر محمد نے یہودیوں کے بارے میں ایسی دو ٹوک بیانات دیے ہیں جو کوئی مغربی ملک نہیں دے سکتا۔ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ امریکہ یہودیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہی دنیا پر خاص طرز سے اپنا رسوخ جما رہا ہے۔ امریکہ نے محض اسرائیل کی خاطر تمام مسلم دنیا کو اپنا دشمن بنا لیا ہے۔
طارق عزیز، پاکستان مہاتر محمد ایک عظیم شخصیت ہیں اور میرے خیال میں ان کی اپنے عہدے سے علیحدگی امریکی منصوبے کا نتیجہ ہے کیونکہ انہوں نے اسلامی ممالک کی تنظیم او۔آئی۔سی میں خطاب کے دوران امریکہ کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ انوار محمد خان، پاکستان مہاتر محمد روشن خیال اور ذہین سربراہ کا نمونہ ہیں جسے مغربی نوآبادکار ٹھگوں کے ساتھ چالاکی سے نمٹنا خوب آتا ہے۔
محمد خالد محمود، شارجہ مہاتر محمد کے دورِ حکومت میں ملیشیا کو جو مقام حاصل ہوا وہ ماضی میں کبھی حاصل نہ تھا۔ وہ مسلم دنیا کے ایک بہادر نمائندے تھے۔ مہاتر نے عالم اسلام کے لیے مفید ہر بات ہمیشہ دو ٹوک الفاظ میں کہی۔ جہاں تک مسلم رہنماؤں کا دیر تک اقتدار میں رہنے کا سوال ہے تو میرے خیال میں ہر مسلمان سربراہ کی دلی خواہش یہی ہوتی ہے خواہ وہ ذوالفقار علی بھٹو ہوں، ضیاءالحق ہوں، یاسر عرفات، پرویز مشرف ہو یا پھر مہاتر محمد ہوں۔
محمد عارف چیچی، سیالکوٹ، پاکستان مہاتر محمد نے ملیشیا کو وہ مقام دیا جو پورے عالم اسلام میں کوئی لیڈر اپنے ملک کے لیے حاصل نہ کر سکا۔ دعا ہے کہ اللہ پاکستان کو بھی ایسا ہی حکمران عطا کرے۔ مہاتر اسلام کے ہیرو نمبر ون ہیں۔
جاوید اقبال انجم، پاکستان میرے خیال میں مہاتر محمد نے ہر موقع پر مسلمانوں کو بیدار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا، مہاتر نے مسلمانوں کا ساتھ دیا۔
عامر میاں، پاکستان مہاتر محمد آج کی دنیا میں بہترین مسلمان رہنما تھے۔ وہ بااصول شخصیت کے مالک تھے۔ مسلمانوں کو متحد کرنے کے سلسلے میں ان کی کوششوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اسلام میں اعتدال پسندی پر یقین رکھتے تھے اور انہوں نے اپنے ملک میں ایسے متعدد قوانین بھی متعارف کرائے۔ طلحہ مجید، لاہور پاکستان مہاتر محمد ملیشیا اور مسلم دنیا کے عظیم لیڈر ہیں۔ اگر پورے عالم اسلام کو مہاتر کی سی قیادت حاصل ہو جائے تو میرے خیال میں مغربی ممالک کبھی بھی مسلمانوں پر حاوی نہیں ہو سکیں گے۔
علینا علی، برطانیہ دنیا کے تمام مسلم ممالک کو مہاتر محمد جیسے وزیراعظم کی ضرورت ہے۔ وہ سب کے لیے ایک ماڈل رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے ملک کی بےانتہا خدمت کی ہے۔ وہ ایک بہادر اور نڈر انسان ہیں۔ دنیا میں اسلام کے حوالے سے انہیں ہمیشہ اچھے نام سے یاد کیا جائے گا۔
فدا ایچ زاہد، کراچی، پاکستان مہاتر محمد کا دورِ حکومت معاشی اعتبار سے بہترین رہا۔ ان کی اختیار کردہ پالیسیوں کی بدولت ملیشیا ایک اقتصادی قوت بن چکا ہے۔ لیکن جہاں تک جدید اسلام کا تعلق ہے تو اسلام میں کیا جدیدیت ہے۔ وہی نماز جو چودہ سو برس پہلے تھی، وہی قرآنی تعلیمات ہیں جو چودہ سو برس قبل تھیں۔ اسلامی ریاست صرف اسلامی ریاست ہوتی ہے جو کہ اس وقت پور دنیا میں کوئی نہیں ہے، یہ جدید ہو سکتی ہے نہ ہی قدیم۔
عبدالصمد، اوسلو، ناروے مہاتر ایک نہایت نفیس اور جرات مند مسلم رہنما ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ حق کا ساتھ دیا ہے اور ہمیشہ مغربی سامراجیت کی بھرپور مذمت کی ہے، بغیر کسی مصلحت کے۔ اگر میں ان کے دور حکومت کو عمر بن خطاب کے دور حکومت سے تشبیہ تو غلط نہیں ہو گا۔ اگر بہت سے لوگ انہیں بنیاد پرست کہتے ہیں تو ملیشیا اس قدر ترقی یافتہ ملک نہ ہوتا۔
نعیم اکرم، کراچی، پاکستان میں ایسے عظیم رہنما کو سلام پیش کرتا ہوں۔ اور سلام ہے ایسے عوام پر جس نے اپنے رہبر کا ساتھ دیا اور اس کا نتیجہ ایک عظیم ملیشیا کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ خدا ہمیں بھی کوئی ایسا حکمران دے جو پسی ہوئی قوم کو دوسروں کی غلامی سے نجات دے۔ میرے خیال میں مہاتر محمد تمام مسلم دنیا کے بھی رہبر ہیں۔
رفیع الدین صدیقی، نیویارک، امریکہ مہاتر محمد عالم اسلام کی ایک عظیم شخصیت ہیں۔ انہیں اسلامی ممالک کی تنظیم او۔آئی۔سی کا سربراہ ہونا چاہیے کیونکہ فی الوقت یہ تنظیم مؤثر نہیں ہے۔ مہاتر اس تنظیم کے لیے خاصے مفید ثابت ہوں گے۔
محمود رانا، فیصل آباد، پاکستان ملیشیا ایسا ملک ہے جہاں کوئی قانون نہیں ہے۔ ملیشیا کے لوگ صرف ایک ہی قانون جانتے ہیں، وہ ہے پیسہ۔ انہیں انسانی حقوق کا کوئی پاس نہیں۔ یہ بات میں اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر کہہ رہا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ان کا لوگوں کے ساتھ برتاؤ کیسا ہے۔
ندیم انصاری، آرلینڈو، امریکہ مہاتر محمد کا شمار دنیا کے عظیم ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ دنیا کے تمام رہنماؤں میں مہاتر واحد شخص ہیں جو سچ بولنے کی جرات رکھتے ہیں۔ دنیا اس عظیم رہنما کی کمی محسوس کرے گی خصوصاً ملیشیا کے عوام۔ جاوید سرور، سعودی عرب میں پاکستانی ہوں اور سعودی عرب میں ملازمت کرتا ہوں۔ کاش پاکستان میں مہاتر جیسا لیڈر ہوتا۔ پاکستانی سیاستدانوں نے ملکی وسائل کو تباہ کیا جبکہ مہاتر کے اقتدار میں ملیشیا نے ترقی کی۔ بلاشبہ ان کے عہدے پر رہ کر سب کو خوش نہیں کیا جا سکتا لیکن مجموعی طور پر مہاتر کا دورِ اقتدار ملیشیا کے لیے سب سے بہتر رہا۔
اظہر افغان، پاکستان مہاتر محمد امِ مسلمہ کے واحد اور صحیح معنوں میں عظیم رہنما ہیں۔ وہ جنگ اور دہشت گردی کو ناپسند کرتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں سے محبت کرتے ہیں۔ اگر ہم ان کی کہی ہوئی باتوں پر عمل کریں تو دنیا میں سب سے آگے بڑھ سکتے ہیں اور دنیا کو ایک جنت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اسلام کا صحیح تصور پیش کیا۔ حامد عباسی، نیوزی لینڈ میرے خیال میں مہاتر محمد کی شخصیت مسلم رہنماؤں کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ملکی خوشحالی کے علاوہ امریکہ اور یہودیوں سے متعلق ان کی پالیسیاں بھی قابلِ ستائش ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||