| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتانامو بے: کیا حراست جائز ہے؟
عالمی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے امریکی اڈے گوانتانامو بے میں القاعدہ اور طالبان کے مبینہ ارکان کو حراست میں رکھنے پر امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کرسٹوفر گیروڈ نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ ان چھ سو قیدیوں کو بغیر کسی قانونی جواز کے غیر معینہ مدت کے لئے زیر حراست رکھنا ناقابلِ قبول ہے۔ کرسٹوفر گیروڈ کی تنقید اس پس منظر میں بھی اہم ہے کہ امریکہ میں سابق ججوں، سفارت کاروں اور فوجی افسروں کے ایک گروہ نے امریکی سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ غیر ملکی باشندوں پر کوئی جرم عائد کئے، عدالتی کاروائی اور وکلاء کے حصول کے بغیر دو برس تک قید میں رکھنے کا قانونی جائزہ لے۔ آپ کے خیال میں کیا انہیں اس طرح قید رکھنا ضروری ہے؟ کیا اس کی وجہ سے دنیا محفوظ جگہ بنی ہوئی ہے؟ --------------یہ فورم اب بندہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں------------------------ منصور حیدر، فیصل آباد، پاکستان انتہائی غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر محمد ایچ صدیقی، ریاض، سعودی عرب یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اب دنیا کو پتہ چل گیا ہے کہ یو این او اصل میں یو ایس اے ہے۔ شاہد سروہی، دوبئی دنیا میں صرف ایک سپر پاور ہے اور وہ خدا ہے۔ امریکہ کو ان لوگوں کے ساتھ یہ سلوک کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ لیکن ہم امریکہ سے کیا توقع کر سکتے ہیں۔ اس نے کبھی قانون کا احترام نہیں کیا۔ اس نے افغانستان اور عراق دنوں پر بغیر ثبوت کے حملہ کیا۔ عاکف غنی، فرانس بغیر مقدمہ چلائے اور ثبوت فراہم کئے ان کو حراست میں رکھنا کہاں کا انصاف ہے۔ خود کو مہذب کہنے والوں کے لئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔
سید زیدی، اونٹاریو، کینیڈا ہمارا خیال تھا کہ اگلی دو صدیوں تک امریکہ سب سے بڑی طاقت ثابت ہوگا لیکن وہ جو کچھ کر رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ شاید دو ہزار دس تک بھی اس کی موجودہ حیثیت برقرار نہ رہ سکے۔ وہ براہِ راست یا دوسروں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو مار اپنے دشمن پیدا کر رہے ہیں۔ احمد، لندن، برطانیہ ’کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا‘۔ فوزیہ علی، کینیڈا یہ نا انصافی ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ شیبران، پشاور، پاکستان ناجائز ہے۔ انہیں فوراً رہا کیا جائے۔ محمد شفیق، شیخوپورہ، پاکستان مغرب کا انسانی حقوق کے بارے میں دوہرا معیار ہے۔ اور یہ مسلمانوں کے خلاف ان کی جنگ کا حصہ ہے۔
عامر شاہ، ملتان، پاکستان یہ عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے لیکن امریکہ سپر پاور ہے اس لئے کوئی آواز نہیں اٹھا سکتا۔ محسن تنولی، جناح کالونی ، پاکستان امریکی مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے وہ کر رہے ہیں جو انہیں کرنا ہے۔ انشاءاللہ ہم انہیں سبق پڑھائیں گے۔ محمد الطاف، اٹک، پاکستان یہ سراسر انصاف اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف اسرائیلی پالیسی اپنانے کی وجہ سے امریکیوں کے خلاف اسلامی دنیا میں نفرت بڑھ رہی ہے۔ جاوید بٹ، کراچی، پاکستان اصل دہشت گرد بش انتظامیہ ہے، امریکہ نہیں اور بش نے اپنی قوم سے افغانستان اور عراق کی جنگوں کے متعلق غلط بیانی کی ہے۔ یہ لوگ جنگی قیدی ہیں اور ان پر عالمی اداروں کی موجودگی میں عالمی قوانین کے مطابق مقدمے چلائے جائیں۔
عامر بیگ، آسٹریلیا یہ انسانیت کی تذلیل ہے۔ اس سے سفید فام لوگوں کے سفید خون اور دوہرے معیار کا پتہ چلتا ہے۔ محمد رضوان، حیدرآباد، سندھ یہ بالکل غلط ہے۔ امریکہ مسلمانوں کا دشمن ہے اور انہیں حتم کرنا چاہتا ہے۔ ایم زیارت، پاکستان ہاں، وہ ٹھیک کر رہے ہیں۔ خرم شہزاد، فرینکفرٹ، جرمنی امریکہ خود انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث ہے۔ اگر کسی امریکی شہری کے ساتھ برا سلوک ہو تو اسے انسانی حقوق یاد آجاتے ہیں۔ عراق پر حملہ اور ہزاروں افراد کا قتل تو جرم نہیں لیکن اگر امریکی فوجیوں کی لاشیں ٹی وی پر دکھا دی جائیں تو اسے جنیوا کنوینشن یاد آجاتا ہے۔ یہی صورتِ حال گوانتانامو بے کے قیدیوں کی ہے۔ یہی سلوک اگر کوئی غریب ملک کسی بھی ملک کے باشندوں کے ساتھ کرتا تو امریکہ کو انسانی حقوق اور جنیوا کنوینشن یاد آجاتے۔
دلاور شاہ، پاکستان کون کہتا ہے کہ طالبان دہشت گرد ہیں۔ تاریخ ثابت کرے گی کہ امریکہ ہی بدی کا نمائندہ ہے اور بش، بلئیر اور مشرف بدی کا محور ہیں۔ ولی محمد نذیر، لاڑکانہ، پاکستان نہیں یہ سراسر غلط ہے۔ افتخار علی خان، سوابی، پاکستان یہ سراسر غلط ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور امریکہ جیسے ملک کے لئے شرمناک ہے۔
اویس خان، کراچی، پاکستان امریکہ خود سب سے بڑا دہشت گرد ہے۔ جو طالبان اور القاعدہ نے کیا اس کی وجہ امریکہ کی اسلامی دنیا کے خلاف زیادتیاں ہیں۔ القاعدہ کے جو ارکان قید میں ہیں ان کو ان کے ممالک کے حوالے کیا جائے ورنہ اسرائیلی دہشت گردوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جائے۔ ایک بات ثابت ہوچکی ہے کہ امریکہ مسلمانوں کو دوست نہیں۔ ابرار بیگ، برمنگھم، لندن تمام قیدیوں پر مقدمہ چلایا جائے۔ اگر جرم ثابت ہوجائے تو سزا دی جائے ورنہ ازاد کر دیا جائے۔ سب سے پہلے تو ان کا دماغی معائنہ کروایا جائے کیونکہ اتنی لمبی قیدِ تنہائی کسی کو بھی پاگل کر سکتی ہے۔ اگر یہ نہ کیا گیا تو دنیا بھر میں امریکہ کے خلاف اور بھی اشتعال بڑھے گا۔ ویسے بھی ہر عروج کو زوال تو ہے ہی۔ عامر رفیق، لندن، برطانیہ اگر کوئی امریکی مرتا ہے تو دہشت گردی ہوتی ہے اور اگر امریکی معصوم شہریوں پر بم پھوڑتے رہتے ہیں تو وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔ اتنی اذیت تو کوئی جانوروں کو بھی نہیں دیتا۔ احمد رضا، اٹلی سیدھی سی بات ہے کہ کیا طالبان نے امریکہ پر حملہ کیا تھا یا امریکہ نے طالبان پر۔ تو پھر دہشت گرد کون ہے۔
محمد فدا، ٹورنٹو، کینیڈا دنیا بدل رہی ہے اور ہم ایک نئے عہد سے گزر رہے ہیں۔ ریاستوں کی برابری، قوموں کی خودمختاری اور طاقت کے استعمال کے لئے قانونی جواز کے زمانے گئے۔ نیا عالمی نظام قانون کی حکمرانی کے عمل درآمد پر مبنی ہے۔ جرائم کی ایک عالمی عدالت وجود میں آچکی ہے۔ یہ وہ تمام تبدیلیاں ہیں جو ہمارے طالبان جیسے طالبِ علموں کی سمجھ سے باہر ہیں۔ انہوں نے انیسویں صدی کا علم زبانی یاد کیا ہوا ہے اور اسے انسان کی تخلیق قرار دیتے ہوئے اللہ کے بنائے ہوئے نظام کو لانا چاہتے ہیں جو دراصل ساتویں سے بارہویں صدی کا نظام ہے۔ کیا ایسے فلسفیوں، سیاسی مفکروں اور کارکنوں کو دماغی صحت کی بحالی کے ایسے مراکز میں بھیجنے کی ضرورت نہیں جیسا امریکہ نے گوانتانامو بے میں قائم کیا ہے؟ میرا خیال ہے کہ وہ تمام لوگ جو انسانی ترقی اور کامیابیوں کو دہشت گردی کے ذریعے اور عمارتوں سے جہاز ٹکرا کرتباہ کر دینا چاہتے ہیں انہیں دماغی بحالی کی ضرورت ہے اور یہی کام امریکہ کر رہا ہے۔ امید ہے کہ میری بات سے کسی کو دکھ پہنچنے کی بجائے ان کی دلیلوں میں وزن آنا شروع ہوگا۔ ابو محسن، سرگودھا، پاکستان اگر افغانستان پر حملہ جائز ہے تو پھر سب کچھ جائز ہے۔ اگر ہزاروں معصوم افغانیوں کا قتل جائز ہے تو یہ بھی جائز ہے۔ بش نے امریکی قوم کے نام پر ایک سوالیہ نشان ڈال دیا ہے۔ دنیا بھر میں امریکی مارے جارہے ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بش نے امریکی قوم کو خود کش حملوں کا سامنا کرنے کےلئے ’بش (جھاڑی)‘ میں گھسا دیا ہے۔
ظہور خان، ریاض، سعودی عرب ساری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ اس وقت جو کچھ کر رہا ہے وہ سراسر غیر قانونی اور ناجائز ہے لیکن بلی کی گردن میں گھنٹی کون ڈالے؟ اگر دو جارج بش اور پیدا ہوگئے تو امریکہ دنیا سے بالکل کٹ جائے گا اور شاید اسی میں دنیا کا فائدہ ہو۔ جیسے روس اندر سے کھوکھلا ہو گیا تھا بالکل اسی طرح امریکہ کے ساتھ بھی ہونے والا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ کام کوئی اور نہیں خود امریکی کریں گے اور اس کا آغاز بش کر چکے ہیں۔ مجاہد چوہدری، متحدہ عرب امارات یہ انسانیت کی سب سے بڑی تذلیل ہے کہ آپ کسی باریش بزرگ کو بغیر کسی جواز کے قید رکھیں۔ یہ واضح ہے کہ سب سے بڑے دہشت گرد بش مسلمانوں سے کتنے خوفزدہ ہیں۔ خدا کی مہربانی سے متحدہ عرب امارات میں ہزاروں اسامہ موجود ہیں اور امریکہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ شوہا شعیب، پاکستان امریکہ کو انہیں قید رکھنے کی کھلی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتی۔ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے۔ صادق، کویت بالکل ظلم ہے۔ ابو بدر، فجیریا، متحدہ عرب امارات انہیں اپنے ملک کے تحفظ کےلئے لڑتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ جنگی قیدی ہیں۔ انہیں جنیوا معاہدے کے مطابق سہولیات مہیا کی جانی چاہئیں۔ نور احمد، اومان نہیں یہ انصاف نہیں ہے۔ بش سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔ محمد منظر حسین، میامی، امریکہ نہیں، ان کے ساتھ جنگی قیدیوں کا سا سلوک کرنا چاہئے۔
لیاقت شریفی، امریکہ میرا خیال ہے کہ ان میں سے صرف چند معصوم ہیں باقی معصوم شہریوں کے قتلِ عام میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے خود کبھی انسانی وقار کا احترام نہیں کیا تو اب دوسروں سے اس کی توقع کیوں کرتے ہیں۔ محمد حنیف، پاکستان کسی بھی شحض کو بلا جواز قید رکھنا بالکل غیر قانونی ہے۔ زاہداللہ، وانا، وزیرستان، پاکستان میں اس کے خلاف ہوں۔ انہیں ان کے ممالک کو واپس بھیجا جائے۔ عمر فاروقی، امریکہ انہوں (قیدیوں) نے عورتوں بچوں اور نوجوانوں پر جو مظالم کئے ان کے بعد دکھ اس بات کا ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہیں۔
یاسر سید احمد، کراچی، پاکستان میرے خیال میں طالبان اور القاعدہ کے ارکان کو اس طرح قید رکھنا بلاجواز ہے۔ یہ زیادہ بہتر ہوتا کہ ان لوگوں کے ساتھ ان کے اپنے ملک میں قانون کے مطابق کاروائی کی جاتی۔ امریکہ خود انسانی حقوق کے نعرے لگاتا ہے جبکہ یہ سب انسانی حقوق کے بالکل خلاف ہے۔ نسیم احمد، پشاور، پاکستان ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘، ہم امریکہ کو الزام نہیں دیتے کہ وہ تو دنیا بھر میں اپنے مفاد کے لئے ایسا کرتے ہی ہیں، اصل بات یہ ہے کہ پاکستان نے بھی اس جنگ میں ان کا ساتھ دیا ہے۔ حیدری ملنگ، پاکستان طالبان دہشت گرد ہیں اور انہوں نے جو دہشت گردی پھیلائی اس کی دنیا بھر میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم امریکہ کو ان کے ساتھ جنیوا کنونشن کے مطابق سلوک کرنا چاہئے۔ امریکہ بھی دہشت گرد ہے۔ اللہ ایک دہشت گرد کو دوسرے دہشت گرد سے مروا رہا ہے۔
بختیار بلوچ، ڈیرہ غازی خان، پاکستان ان قیدیوں کو غیر قانونی طور پر رکھا گیا ہے اور انہیں عدالت تک رسائی کل حق بھی نہیں فراہم کیا گیا۔ پھر انہیں انتہائی غیر انسانی حالات میں رکھا گیا ہے۔ انہیں فوراً رہا کیا جائے کیوں کہ بقول امریک وہ جنگی قیدی بھی نہیں ہیں۔ یہ ان کے ساتھ مکمل ناانصافی ہے۔ محمد، پشاور، پاکستان ان معصوم افراد کو بغیر کوئی جرم ثابت ہوئے انتہائی غیر انسانی صورتِ حال میں قید رکھا جا رہا ہے اور یہ ایک طاقت ور ملک کے شدید ظلم کا کھلا ثبوت ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ تمام مذاہب اور ممالک کے امن پسند لوگوں کو اس کی مخالفت کرنی چاہئے اور آگے بڑھ کر ان کی مدد کرنی چاہئے۔ نعیم اکرم، اختر کالونی، پاکستان اپنے آپ کو خدا (نعوذوباللہ) سمجھنے والوں کو جان لینا چاہئے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر اللہ اس قوم پر اپنا عذاب نازل کرتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا دن بھی آئے گا جب امریکی ہمارے محتاج ہوں گے اور ہم بھی ان پر ایسا ظلم کریں گے جو وہ ہمارے مسلمان بھائیوں پر گوانتانامو بے میں کر رہے ہیں۔ تب انہیں احساس ہوگا کہ انہوں نے غلط کیا۔ امریکی عوام اگر اس درد کو محسوس کرنے کی کوشش بھی کریں تو شاید ہی کر پائیں جو ان قیدیوں کو دیا جا رہا ہے۔
محمد، اسرائیل یہ سب غیر قانونی ہے اور امریکہ کو جلد یا بدیر اس کا انجام بھگتنا ہوگا۔ نامعلوم امریکہ کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ جسے چاہے دہشت گرد کہے، یہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی نئی شکل ہے۔ جمال عبدالناصر، لودھراں، پاکستان چونکہ یہ لوگ مسلمان ہیں اس لئے انہیں دہشت گرد سمجھا جا رہا ہے۔ عثمان، سرگودھا ان افراد کی حراست بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ امریکہ کی مبینہ تہذیب اور جمہوریت کا ایک کالا چہرہ ہے۔ امریکی فسطائیت اور بربریت کی ایک مثال ہے۔ سرور علی، کینیڈا عدالت میں الزام ثابت نہ ہونے تک ہر شخص معصوم ہے۔ لہذا ان افراد کے خلاف سِول عدالتوں میں کارروائی ہونی چاہئے۔
وقار اعوان، کینیڈا میرے خیال میں امریکہ بین الاقوامی قوانین اور حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا مرتکب ہے۔ یہ افراد افغانستان میں جنگ لڑنے والے طالبان ہیں جنہیں وہی حق حاصل ہونا چاہئے جو جنگی قیدیوں کو حاصل ہوتا ہے۔ محمد اختر آرائیں، اسلام آباد اس طرح کے کیمپ سامراجیت کی علامت ہیں۔ اگر یہ کیمپ ضروری ہے تو امریکہ اپنے محکمۂ انصاف پر اتنا پیسہ کیوں خرچ کررہا ہے؟ اورنگ زیب اسلم، جاپان یہ غیرمنصفانہ ہے۔ امریکہ طاقتور ہے، اسلئے جو چاہتا ہے کرسکتا ہے۔ اختر منیر، پاکستان قیدیوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے، وہ غلط ہے۔ نثار عثمانی، مظفرآباد امریکہ ایک سُپر پاور ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ لیکن خدا ہمیشہ معصوم لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ خدا نے کبھی ظالم کی مدد نہیں کی ہے۔ بغیر کسی وجہ کے ان لوگوں کو جیل میں قید رکھنا صحیح نہیں ہے۔
جِم، نیوجرسی، امریکہ اگر اس بات پر توجہ دی جائے کہ دنیا میں روز ہی حقوق انسانی کی پامالی کے واقعات پیش آتے ہیں، تو میں کہنا چاہوں گا کہ القاعدہ کے ارکان کے بارے میں یہ تشویش بے جا ہے۔ القاعدہ کسی بین الاقوامی قانون کا پابند نہیں ہے، اور میرے خیال سے یہ لوگ معصوم نہیں ہیں۔ جب دنیا سے تمام غیرانسانی واقعات ختم ہوجائیں گے تو میں بھی دہشت گردوں کے انسانی حقوق کے بارے میں سوچنا شروع کروں گا۔ نینسی، جمائکا یہ حراستیں بالکل غلط ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں دنیا ایک محفوظ جگہ نہیں رہی ہے۔ ان گرفتار شدہ لوگوں کی حالت سنگین ہے اور غیرقانونی ہے اور امریکی حکمرانوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی ضرورت ہے۔ ضرغام، ٹوبہ ٹیک سِنگھ یہ غیرقانونی ہے، یہ امریکہ کے لئے بھی ٹھیک نہیں ہے۔
محمد ثاقب احمد، بھارت گوانتاناموبے میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ بالکل ’صحیح ہے اور جائز‘ ہے۔ جس قوم کا کوئی رہبر نہ ہو، اس کا انجام کیا ہوسکتا ہے؟ گوانتاناموبے میں جتنے لوگ قید ہیں ان میں سے کتنے مغربی ملکوں میں پکڑے گئے؟ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ اپنے آقا کی خوشنودی کے لئے، سالاراعظم پرویز مشرف نے انہیں پکڑکر امریکہ کو سونپ دیا ہے؟ محمد اظفر، گجرانوالہ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ جنیوا کنویشن کے خلاف ہے۔ سلیم، پاکستان چونکہ امریکہ سُپر پاور ہے، اس لئے یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ پرامن دنیا کے لئے بہتر مثال قائم کرے۔ لیکن امریکہ حقوق انسانی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ کیوٹو معاہدہ، سلامتی کونسل میں اسرائیل کے حق میں ویٹو، افغانستان اور عراق کے خلاف جنگ ایسی مثالیں ہیں جن سے ظاہر ہے کہ امریکہ قوانین کا پابند نہیں ہے۔
نامعلوم امریکہ ان سب دہشت گردوں کو قتل کردے۔ انہوں نے ہمارے ملک افغانستان کو برباد کردیا۔ رابرٹ مور، امریکہ میں سمجھتا ہوں کہ ان قیدیوں کے بارے میں حالات کے پس منظر میں بحث کی جانی چاہئے۔ گزشتہ جنگوں میں ایسے قیدیوں کو پھانسی دیدی جاتی تھی۔ انہیں شکرگذار ہونا چاہئے کہ انہیں بہتر حالات میں رکھا جارہا ہے۔ دلاور خان، نیویارک میں سمجھتا ہوں کہ یہ کچھ ایسا ہورہا ہے جسے مستقبل میں دنیا بھول نہیں سکے گی۔ یہ ایک جرم ہے۔ ڈاکٹر سلمہ امجد علوی، عمان میں سمجھتی ہوں کہ یہ غیرانسانی ہے، یہ غیرقانونی ہے۔ اس طرح کی بہت مثالیں ہیں کہ لمبے عرصے تک قید کے بعد کسی کو بھی معاوضہ نہیں دیا گیا۔ پیٹر، جنوبی افریقہ یہ لوگ غیرقانونی حملہ آور تھے، جنہیں جنگ کے میدان میں یا اس کے قریب پکڑا گیا۔ ان کا تعلق کسی ملک سے نہیں ہے۔ اور وہ فوجی یونیفارم بھی نہیں پہنتے ہیں۔ میں سمجھتاہوں کہ ان افراد کو جن حالات میں پکڑا گیا، اس کی مناسبت سے ان پر فوجی قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہئے۔ میرے خیال میں تمام دہشت گردوں کو گوانتانامو جیسی جیل میں بھیج دینا چاہئے جو کہ نہیں ہورہا ہے۔ شفقت محمد، لاہور یہ غیرقانونی ہے۔ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جس کے تحت ان لوگوں کو قبضے میں رکھا جائے۔ عبدالرحیم احمد، واٹرلو، کینیڈا جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ تاریخ گواہ ہے کہ زوال پزیر طاقتوں نے ایسا پاگل پن کا کام کیا ہے۔
کرِسٹاف کونستاں، فرانس ان لوگوں کو حراست میں لے لینا ضروری تھا۔ لیکن انہیں جیل میں بغیر عدالتی کارروائی کے رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ انہیں عدالت کے سامنے دفاع کا حق نہیں ہے، جو ہمیں قبول نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ امریکہ ایک آمر ملک ہے۔ علی، پاکستان میں اسے امریکی دہشت گردی کہنا چاہوں گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||